0

معاشرے میں پولیس کا کرداراور حکومت کی زمہ داریاں

معاشرے میں پولیس کا کرداراور حکومت کی زمہ داریاں

صوبائی دارالخلافہ جسے عدالت عالیہ،بیوروکریسی سیاسی سماجی ثقافتی تجارتی،ریونیو بلکہ ہراعتبار سے نمایاں مقام حاصل ہے یہاں پر استحکام کو پورے پنجاب کا امن تصور کیا جاتا ہے اگر یہاں صورت حال خراب ہو تو پنجاب کی حکومت بھی ڈانواں ڈول تصور کی جاتی ہے حقیقت میں حالات کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اداروں میں عدم استحکام اور امن و امان کی صورت حال حوصلہ افزا نہیں ہے۔ قانون کسی بھی معاشرے کے اجتماعی شعور کا عکاس ہوتا ہے یہ ریاست کی اتھارٹی معاشرے کی اقدار اور قانون کی عملداری سے ریاست کی رٹ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اعظم سلیمان کو پنجاب میں لانے کا مقصد اداروں کو مضبوط کر نا تھا تاہم ایسا نہ ہو سکا،اعظم سلیمان کی بڑھتی ہوئی شکایات کے پیش نظر آخروزیر اعظم کو اسے ہٹانا پڑا، اب بھی بیوروکریسی سمیت فیلڈ میں بہت سارے ایسے افسران تعینات ہیں جن پر سابق حکمرانوں کا لیبل لگا ہوا ہے اور وہ ان کے احسانات کے مر ہون منت ہونے کی وجہ سے پی ٹی آئی کی حکومت کو کسی صورت بھی قبول کر نے کو تیار نہیں ان افسران نے کسی نہ کسی سفارش کے بل بوتے اور چور دروازے سے فیلڈ میں تعیناتیاں تو حا صل کر لی ہیں مگران کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے ان میں زیادہ تر تو ویسے ہی نا اہل ہیں،کسی کے پاس فیلڈ کا تجربہ نہیں اور کئی اچھے کمانڈر یا لیڈر کی خوبیوں سے نا آشنا ہیں ہیں ایسے افسران کی تعیناتیوں سے پی ٹی آئی کا پنجاب میں ستیا ناس ہی نہیں جنازہ نکل چکاہے، سانحہ پی آئی سی اور سانحہ ساہیوال جیسے واقعات پیش آنے کے بعد زمہ دار اداروں نے جو رویہ اپنایا وہ وفاق اور پنجاب دونوں کے لیے نیک شگون نہیں تھا ایسے واقعات سے تحریکیں جنم لیتی ہیں اور حکومتوں کا صفایا ہو جا تا ہے ریاست میں امن قائم کرنے کا ضامن ادارہ محکمہ پولیس ہے جس میں نکھٹو اور پھٹووں نے جگہ لے کراس ادارے اور حکومت کا ستیا ناس کرنے میں کو ئی کسر نہیں چھوڑی۔

آج کل وزیر اعلی پنجاب ایک بار پھر بااختیار تصور کیے جاتے ہیں اگر اب بھی وزیر اعلی صوبے میں صاف ستھری ٹیم ایڈجسٹ کرنے میں کامیاب نہ ہو ئے تو وقت جو پہلے ہی پی ٹی کے ہا تھ سے نکل چکا ہے اسے کام کر نے کی مزید مہلت نہیں دے گا وزیر اعلی پنجاب کو چاہیے کہ وہ اداروں کی مضبوطی کے لیے ایسا کام کر جائیں جس سے انھیں صدیوں یاد رکھا جاسکے ان کے لیے کام کرنے کی جو ضرورت ہے وہ میرٹ کونظر انداز نہ ہونے دیں جس طرح انھوں نے ایک محنتی اورپیشہ وارانہ مہارت کے حامل آفیسر اشفاق احمد خان کو ان کی کارکردگی کے پیش نظر لاہور میں دوبارہ تعینات کیا ہے اسی طرح وہ دیگر تعینا تیاں بھی فوری طور پر عمل میں لائیں جہاں ایڈیشنل آئی جی کی پوسٹ ہے وہاں ایڈیشنل آئی جی تعینات کیے جائیں۔ افسوس ناک امریہ ہے کہ فیلڈ میں کام کرنے والے افسران بالا کو دفاتر میں بٹھا کر ان کی پر فارمنس اور صلاحیتوں کو ضائع کیا جارہا ہے سابق آئی جی پولیس عارف نواز،سابق سی سی پی او بی اے ناصر،سابق آرپی او بہاول پور عمران محمود،سابق آرپی او فیصل آباد غلام محمود ڈوگر،سابق آرپی ساہیوال شارق کمال صدیقی،سابق آر پی گوجرانوالہ طارق عباس قریشی کی ولولہ انگیز قیادت کوان کے جانے کے باوجود عوام آج بھی انھیں سراہتی ہے ۔اچھے وقتوں میں پولیس سروس آف پاکستان ناصرف اندرون ملک‘ بلکہ عالمی سطح پر بھی اچھی شہرت کا حامل ایک ایسا اہم پاکستانی ادارہ تسلیم کیا جاتا تھا جس کے دامن سے و۱بستہ افسران بین الاقوامی سطح پر بھی مختلف ممالک میں فساد کے خاتمے اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں تاہم کمزور جمہوری حکومتوں اور آمروں کی مداخلت کے نتیجے میں زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح پولیس کا ادارہ بھی روبہ زوال ہو۱ہے وسائل کی کمی،نت نئی شکل میں سامنے آنے و۱لے افسران، جرائم کے خاتمے کے لیے ناگزیر قانون سازی سے اجتناب،جزاء و سزا کے کمزور پڑتے محکمانہ رویے،وی وی آئی پیز موومنٹ کے لیے پولیس کی پہروں ڈیوٹیاں،پوسٹنگ،ٹرانسفر میں سیاسی مداخلت،بر سر اقتدار سیاسی جماعتوں کی طرف سے پولیس کو سیاسی اور گروہی مقاصد کے لیے استعمال کر نے کے بڑھتے ہوئے ہمارے قومی رجحانات،منتخب عوامی نمائندوں کی بے جا مداخلت،

نچلی سطح کے پولیس اہلکاروں کی گھروں سے سینکڑوں میل دور تقرریاں،ڈیوٹی کے دوران مناسب آرام کے لیے وقفہ نہ ملنا،نا پید ہوتا ہوا محکمہ میں چھٹی کا تصور اور مجسٹریسی نظام کی غیر موجودگی میں ملک میں پیدا ہو نے والے کسی بھی شر یا ہنگامی صورتحا ل کا مقابلہ کر نے کے لیے پولیس کا بے دریغ استعمال جیسے عوامل نے سلامتی سے وابستہ اس ادارے کی کارکردگی پرانتہائی مضر اثرات مرتب کیے ہیں اب وقت آگیا ہے کہ شہداء کے وارث پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) کوبھی بحیثیت ایک قومی ادارہ‘قوم کے لیے بائنڈنگ فورس افواج پاکستان اور دیگر سکیورٹی اداروں کی طرح سیاست سے مبرہ رکھااور مالی اور انتظامی سطح پر مکمل خودمختاری دی جائے اس سے ناصرف ملک میں مثالی طور پرامن قائم ہو سکے گا بلکہ عام آدمی کی زندگی میں در آنے والی پولیس کے ادارے سے وابستہ شکایات کا ازالہ بھی ممکن ہے بصور ت دیگر کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز جیسے قومی درد رکھنے والے اعلیٰ پولیس افسران اشاروں کنائیوں میں قوم سے شکایات کرتے رہیں گے۔ آخر میں خبر ہے کہ گزشتہ روز پنجاب حکومت نے ڈی آئی جی رائے بابر سعید کو بطور سی پی او گوجرانوالہ تعینات کر دیا گیا ہے رائے بابر سعید کوحال ہی میں ڈی آئی جی آپریشن لاہور سے سی پی او آفس بطور اسٹیبلشمنٹ آفیسر تعینات کیا گیا تھا وہ لاہور میں بھی عرصہ سات ماہ تک ایک کامیا ب پولیس آفیسرز کی حثیت سے وقت گزار چکے ہیں اس دوران انھوں نے کئی ایک کامیابیاں بھی حاصل کیں ان کامیابیوں کی بدولت انھیں آئی جی پولیس پنجاب کی ہدایت پر وزیر اعلی پنجاب نے یہاں تعینات کیا ہے گوجرانوالہ میں انھیں پہلے بھی کام کرنے کا تجربہ حاصل ہے وہ بطور ایس پی سول لائن کام کر چکے ہیں

۔رائے بابر سعید پیشہ وارانہ مہارت کے حامل،محب الوطن اور قائد دانہ صلاحیتوں کے مالک ہیں امید آر پی او گوجرانوالہ ریاض نزیر گاڑھا اور رائے بابر سعید کی بہتر کوارڈی نیشن کی بدولت گوجرانوالہ میں امن قائم ہو گا دوسری جانب وہاں سے تبدیل ہونیوالے ڈی آئی جی گوہر مشتاق بھٹہ بھی گوجرانوالہ میں ایک اچھا وقت گزار کرملتان چلے گئے ہیں ان کی بھی پیشہ وارانہ مہارت کی جتنی بھی تعریف کی جا ئے وہ کم ہوگی وہ اپنی خاندانی مجبوریوں کی وجہ سے تعیناتی کے روز سے ہی جنوبی پنجاب تبادلے کی سفارشیں کروا رہے تھے۔

مزید :

رائےکالم





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں