0

مظفر آباد میں کورونا کا پہلا کیس مریض کی حالت خطرے سے باہر

مظفر آباد میں کورونا کا پہلا کیس، مریض کی حالت خطرے سے باہر

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) مظفر آباد میں کورونا کے پہلے مریض کی تشخیص ہونے پر اسے  آئسولیشن سنٹر میں داخل کردیا گیا ہے، مریض کی حالت خطرے سے باہر ہے جبکہ اس سے رابطے میں رہنے والے افراد کو وزیر اعظم ہا وس، چھتر کلاس اور چکار کے ریسٹ ہاؤس میں  قائم قرنطینہ سنٹرز منتقل کردیا گیا ہے۔

ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عباس انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ڈاکٹر مسعود احمد بخاری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ عباس انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی وائرالوجی لیب  نےموجودہ ہیلتھ ایمرجنسی کےپیش نظر 15 فروری 2020 کوکرونا کے مشتبہ افراد کے سیمپل لینے شروع کیے جو کہ اسلام آباد بھجوائے جاتے تھے، جب کہ 27 مارچ 2020 سے عباس انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمز) کی اپنی پی سی آر مشین پر ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔  ایمز نے این آئی ایچ سے 27 ٹیسٹ کروائے جو سب نیگیٹوآئےتھے۔

انہوں نے بتایاکہ  عباس انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی وائرالوجی لیب کو نیشنل انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد اور آزاد کشمیر حکومت کے تعاون سے اپ گریڈ کیا جا چکا ہے اس کے ساتھ لیبارٹری میں ضروری سامان  اور اضافی افرادی قوت بھی مہیا کی گئی ہے۔ اس وقت تک ایمز کی لیبارٹری میں  کرونا وائرس کے 182 مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ ان مشتبہ کیسیز میں سے 181 افراد میں کرونا کی تشخیص نہیں ہو سکی جبکہ ایک شخص کا ٹیسٹ پازیٹیو آیا ہے۔

ایڈمنسٹریٹر آئسولیشن ہسپتال اور جوائنٹ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایمز ڈاکٹر کامران ڈار کے مطابق  آئسولیشن ہسپتال میں داخل مریض کی حالت خطرے سے باہرہے۔  ایمز انتظامیہ کے مطابق کرونا کے حالیہ وبائی مرض کے دوران عباس انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی وائرا لوجی لیب اس وقت مظفرآباد کے علاوہ ضلع باغ، نیلم اور جہلم ویلی سے موصول ہونے والے ٹیسٹ بھی پراسس کررہی ہے۔وائرا لوجی لیب کے اسٹاف کو انٹرنیشنل پروٹوکول کے مطابق حفاظتی کٹس مہیا کی گئی ہیں۔  لیبارٹری کو باقاعدگی سے سپرے مشین کے ذریعے ڈس انفیکٹ کیا جاتا ہے۔ حکومت آزاد کشمیر کی  ہدایات کی روشنی میں انتظامیہ کے تعاون سے گزشتہ روز  کرونا پازیٹیو مریض کے  ساتھ براہ راست کانٹیکٹ کرنے والے  ڈاکٹر صاحبان اور اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو کوپی ایم   ہا وس ،چھتر کلاس  اور چکار کے ریسٹ ہاؤس میں  قائم شدہ قرنطینہ سنٹر شفٹ کیا گیا ہے۔

ڈائریکٹر ایمز ڈاکٹر مسعود بخاری کا یہ بھی کہنا تھا کہ  کرونا کے مرض سے  بچنے کے لیے احتیاط انتہائی ضروری ہے ۔  اپنے ہاتھ ایسے صابن یا جیل سے دھوئیں جو وائرس کو مار سکتا ہو۔کھانستے یا چھینکتے ہوئے اپنے منہ کو ڈھانپیں، بہتر ہوگا کہ ٹشو سے، اور اس کے فوری بعد اپنے ہاتھ دھوئیں تاکہ وائرس پھیل نہ سکے۔ کسی بھی سطح کو چھونے کے بعد اپنی آنکھوں ، ناک اور منہ کو چھونے سے گریز کریں۔ وائرس سے متاثر ہونے کی وجہ سے یہ آپ کے جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔ ایسے لوگوں کے قریب نہ جائیں جو کھانس رہے ہوں، چھینک رہے ہوں یا جنہیں بخار ہو۔ ان کے منہ سے وائرس والے پانی کے قطرے نکل سکتے ہیں جو کہ فضا میں  تحلیل ہو سکتے ہیں۔ ایسے افراد سے کم از کم ایک میٹر یعنی تین فٹ کا فاصلہ رکھیں۔ اگر طبیعت خراب محسوس ہو تو گھر میں رہیں۔ اگر بخار ہو، کھانسی یا سانس لینے میں دشواری تو فوری طبی مدد حاصل کریں۔ بلا ضرورت گھر سے نہ نکلیں۔ احتیاطی تدابیر اختیار کریں،  خود کو مخفوظ بنائیں۔

مزید :

علاقائیآزادکشمیرمظفرآبادکورونا وائرس





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں