0

مشعل اوباما کے نیکلس میں چھپا خفیہ پیغام

یہ تصویر سی این این سے لی گئی ہے

وسکونسن میں ڈیمو کریٹ پارٹی کے نیشنل کنونشن کے پہلے روز سابق خاتون اول نے اپنے نیکلس سے خفیہ پیغام دے کر سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر پیدا کردی۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی ریاست وسکونسن میں ڈیموکریٹس کے 4 روزہ ورچوئل کنونشن کا آغاز ہوگیا ہے، جہاں کنونشن کے پہلے روز براک اومابا کی اہلیہ اور سابق خاتون اول مشعل اوباما نے ویڈیو لنک کے ذریعے عوام سے خطاب کیا۔

نیکلس کی دھوم

اس موقع پر مشعل کے گلے میں موجود نیکلس لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ غور کرنے پر معلوم ہوا کہ مشعل کے گلے میں موجود نیکلس ان کے ووٹرز کیلئے ایک خفیہ پیغام تھا۔ خطاب آن ایئر ہوتے ہی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ مشعل کے نیکلس سے متعلق سوالات سے بھر گئیں۔ صارفین کا کہنا تھا کہ اس نیکلس سے نہ صرف مشعل نے ووٹ کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، بلکہ ووٹرز کو اپنے اپنے حق کی اہمیت کا احساس بھی دلایا ہے۔

ٹوئٹر پر یہ تصویر امریکی صحافی شینن نے شیئر کی ہے

مشعل کے گلے میں موجود نیکلس گولڈن کلر کا تھا، جس میں بڑے بڑے حرف کے ساتھ ووٹ لکھا تھا۔ یہ نیکلس مشعل کو اوباما کی جانب سے دیا گیا تھا، جسے لاس اینجلس کے بائی چاری جیولر نے تیار کیا تھا۔ جیولری تیار کرنے والی کمپنی اس پہلے بھی سماجی انصاف سے متعلق کئی دیگر زیوارت تیار کرچکی ہے۔

مشعل اوباما کی تقریر اور پھر اس میں نظر آنے والا سنہری نیکلس دیکھتے ہی دیکھتے ٹاپ سر انجن گوگل اور امریکی میں ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔ ڈیمو کریٹس کے نیشنل کنونشن سے خطاب میں سابق خاتون اول کا کہنا تھا کہ ہمیں اس سال بھی ایسے ہی ووٹ ڈالنے سے جیسے ہم نے سال 2008 میں ڈالے تھے۔ ہمیں پہلے پہنچ کر اپنا ووٹ ڈالنا اور اپنی طاقت دکھانا ہوگی۔

مشعل کے گلے میں موجود یہ نیکلس کمپنی کی جانب سے آرڈر پر تیار کیا جاتا ہے، جس کی قیمت 300 امریکی $ ہے۔ اس نیکلس سے متعلق تفصیلات اس کمپنی کی ویب سائٹ پر بھی دی گئی ہے۔ جس کی پاکستانی روپے میں قیمت 62 ہزار 300 روپے بنتی ہے۔

 

نیکلس کے ساتھ مشعل کی بڑھتی مقبولیت نے ریپبلکنز کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ مقامی ری پبلکنز کا کہنا ہے کہ مشعل کے اس خطاب سے ووٹر کا مائنڈ تبدیل ہوسکتا ہے اور ان کی اکثریت کم ہوسکتی ہے۔

صدارتی کنونشنز کی تاریخی اہمیت

وسکونسن کے شہر ملواکی میں کنونشن کا انعقاد کیا گیا ہے۔ کنونشن پیر سے جمعرات تک جاری رہے گا۔ کنونشن سے جوبائیڈن اور کاملا ہیرس بھی خطاب کریں گے۔ اس کنونشن میں پارٹی جو بائیڈن کو باضابطہ طور پر اپنا صدارتی اور سینیٹر کاملا ہیرس کو نائب صدر کا امیدوار نامزد کرے گی۔

امریکی انتخابات میں دونوں پارٹیز کے نیشنل کنونشن کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں ہر صدارتی انتخاب سے قبل اپنے اپنے امیدواروں کا باضابطہ اعلان بڑے بڑے کنونشنز میں کرتی ہیں۔ کئی روز تک جاری رہنے والے ان کنونشنز میں ملک بھر سے پارٹی رہنما اور ہزاروں کارکن شریک ہوتے ہیں۔ اس سال عالمی وبا کرونا وائرس کے باعث ڈیموکریٹس نے اس بار اپنا 4 روزہ کنونشن بڑی حد تک ورچوئل یعنی آن لائن کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کون کون خطاب کرے گا

اس 4 روزہ آن لائن کنونشن میں عوام اور میڈیا کی دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے ڈیموکریٹس نے کئی نمایاں سیاست دانوں کے خطابات اور معروف گلوکاروں کی پرفارمنس بھی شامل کی ہے۔

کنونشن سے سابق صدر کی اہلیہ مشیل اوباما کے علاوہ براک اوباما، 2016 میں پارٹی کی صدارتی امیدوار اور سابق وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن اور ان کے شوہر سابق صدر بل کلنٹن بھی خطاب کریں گے۔ معروف گلوکار جان لیجنڈ، گلوکارہ بلی آئلش، ریپر کامن، اداکار و گلوکار بلی پورٹر اور بینڈ ‘دی چکس’ بھی پرفارم کریں گے۔ کنونشن کے پہلے سے طے شدہ مقررین میں شامل ہونے والا نیا اور تازہ ترین نام ارب پتی تاجر، نیویارک شہر کے سابق میئر اور سابق صدارتی امیدوار مائیکل بلوم برگ کا ہے۔

ارب پتی تاجر بھی کنونشن کا حصہ

لوم برگ سال 2020 کے صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹ پارٹی کی نامزدگی کی دوڑ میں شامل تھے اور انہوں نے صرف چند ماہ جاری رہنے والی اپنی انتخابی مہم پر خود اپنی جیب سے ایک ارب ڈالر تک خرچ کیے تھے۔ تاہم پارٹی کے پرائمری انتخابات میں خاطر خواہ نتائج نہ ملنے کے بعد وہ انتخابی مہم سے دستبردار ہو گئے تھے۔ سابق نائب صدر جو بائیڈن کنونشن کے آخری دن جمعرات کو جب کہ ان کے ساتھ نائب صدر کی امیدوار سینیٹر کاملا ہیرس بدھ کو کنونشن سے خطاب کریں گی۔

ارب پتی تاجر مائیکل بلوم برگ

امریکہ میں صدر کے عہدے کی مدت چار سال ہے اور کوئی بھی شخص زیادہ سے زیادہ دو بار اس عہدے پر فائز ہو سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ دوسری مدتِ صدارت کے لیے ری پبلکن پارٹی کے امیدوار ہیں جن کی نامزدگی کا باقاعدہ اعلان پارٹی 24 اگست سے شروع ہونے والے اپنے چار روزہ کنونشن میں کرے گی۔ کرونا کے باعث ری پبلکن پارٹی نے بھی اپنے کنونشن کی تقریباً تمام ہی تقریبات آن لائن منتقل کر دی ہیں۔ تاہم پارٹی کی طرف سے تاحال کنونشن کا تفصیلی پروگرام جاری نہیں کیا گیا ہے۔

سوئنگ اسٹیٹس کی اہمیت

دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے بھی سوئنگ اسٹیٹس کے دوروں کا اعلان سامنے آگیا۔ ٹرمپ کی جانب سے سوئنگ اسٹیٹس کا یہ دورہ ایسے وقت ہوگا جب پیر سے ڈیموکریٹک پارٹی کا نیشنل کنونشن بھی جاری ہے۔ امریکا کی سیاست میں ‘سوئنگ اسٹیٹس’ ان ریاستوں کو کہا جاتا ہے جہاں ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں ری پبلکن اور ڈیموکریٹس میں سے کسی کو بھی واضح اکثریت حاصل نہیں اور یہاں سے کبھی ایک تو کبھی دوسری جماعت کے امیدوار کامیاب ہوتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ڈیمو کریٹس کے کنونشن کی تاریخ سامنے آنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان سوئنگ اسٹیٹس کے دورے کا اعلان کردیا ہے۔

دوسری مدت کیلئے امریکا کی صدارت کا انتخاب لڑنے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کی جانب سے جمعے کو اعلان کیا گیا ہے کہ صدر پیر کو وسکانسن اور منی سوٹا جب کہ منگل کو ایریزونا کا دورہ کریں گے۔ اعلامیے کے مطابق منی سوٹا اور وسکانسن میں صدر کی تقاریر کا موضوع ان کے متوقع ڈیموکریٹ حریف جو بائیڈن کی “روزگار اور معیشت سے متعلق ناکامیاں” ہو گا جب کہ ایریزونا میں اپنے خطاب میں صدر “سرحدوں کی حفاظت اور امیگریشن سے متعلق جو بائیڈن کی ناکامیوں” پر اظہارِ خیال کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں