Home » مشاہد اللہ خاں بھی چلے گئے

مشاہد اللہ خاں بھی چلے گئے

by ONENEWS

مشاہد اللہ خاں بھی چلے گئے

لہجے تہذیبوں کے امین اور رویوں کے سفیر ہوتے ہیں لہجوں میں ہی اصل بات کا مقصد و حاصل مضمر ہوتا ہے لہجوں سے ہم اپنی بات کو سمجھا اور منوا سکتے ہیں اگر باتوں میں لہجوں کا اثر شامل نہ ہو تو باتیں پھیکی پھیکی سی محسوس ہوتی ہیں شعر و ادب میں شعراء کرام نے اپنے لہجوں سے اپنی پہچان بنائی ہے ہر شخص کا لہجہ ہی دراصل اسکے معیار اور وقار کا تعین کرتا تعلیم۔ مذہب۔ سیاست۔ ادب یا کسی بھی دوسرے شعبہ سے لہجوں کو نکلا جائے تو باقی خالی بات ہی رہ جاتی اور باتیں لہجوں کا سہارا پاکر ہی تو دلوں میں اترتی ہیں ورنہ باتیں باتوں میں کھو کر ہوکر رہ جاتی ہیں پاکستان کی سیاست میں ایک ایسا سیاستدان جس نے نجی محافل سے لے کر ایوان اقتدار تک اپنے لہجے سے اپنے تو اپنے اپنے مخالوں کو بھی اپنا گرویدہ بنا لیا جسکی بات اسکے لہجے سے مل کر سماعتوں سے کے ذریعے دلوں میں اتر جاتی اور سننے والا اس بات کو مانے بغیر رہ نہ سکتا کوئی اگرچہ انکی بات کو مان کر اس کا برملا اعتراف نہ کرتا لیکن دل ہی دل میں معترف ضرور ہوتا لہجے کی اس طلسماتی شخصیت کا نام مشاہد اللہ خاں ہے جو اپنی بھر پورسیاسی زندگی گذار کرملک عدم رخصت ہوئے انکی باتوں میں ادب کا رنگ اور لہجے کا اندازبات کو دو آتشہ کر دیتا

68 سالہ سینیٹر مشاہد اللہ خان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے قریبی اور معتمد علیہ ساتھیوں میں سے تھے۔

مشاہد اللہ خان 1953 میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اسلامیہ ہائی سکول راولپنڈی اور گریجویشن کی ڈگری گورڈن کالج راولپنڈی سے حاصل کی۔کراچی کے اردو لا کالج یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری لی۔مشاہد اللہ خاں صاحب نے پی آئی اے میں ملازمت اختیار کی اور ٹریڈ یونین لیڈر کی حیثیت سے فعال کردار ادا کیا۔مشاہد اللہ خاں صاحب

1990 میں مسلم لیگ (ن) سے وابستہ ہوئے انہوں نے 12 اکتوبر 1999 کے بعد مشکل صورتحال میں مسلم لیگ ن کے سینٹرل سیکریٹری کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ ہاؤس آف بزنسز کی ایڈوائزری کمیٹی، پارلیمینٹری کمیٹی برائے کشمیر، پارلیمینٹری کمیٹی برائے نیشنل سکیورٹی، چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشن آف پاکستان کے تقرر سے متعلق کمیٹی کے ممبر سمیت کل بارہ کمیٹیوں کے رکن بھی تھے۔ وہ 1975 سے 1997 تک پی آئی اے کے ریفک سپروائزر رہے۔ 1997 سے 1999 تک افرادی قوت اور سمندر پار پاکستانیوں سے متعلق وزارت میں ایڈوائزر رہے۔ 1999 میں کراچی میونسپل کارپوریشن میں ایڈمنسٹریٹر کے عہدے پر گئے لیکن پھر پرویز مشرف کی جانب سے مارشل لا لگائے جانے کے بعد تین ماہ بعد ہی انہیں یہ عہدہ چھوڑنا پڑا۔ وہ 1994 سے 1999 تک سیکریٹری جنرل لیبر وونگ کے عہدے پر رہے۔ 2000 سے 2001 تک وہ مسلم لیگ ن کے چیف کوارڈینیٹر اور 2002 سے لے کراب تک وہ مسلم لیگ ن کے مرکزی نائب صدر تھے۔

مسلم لیگ ن کی حکومت کے دوران وہ وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی بھی رہے۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے بے باک اندازِ بیان اختیار کرتے تھے ایسا اندازِ بیاں کہ جو بہی خواہ تو رہے ایک طرف عدو کو کے دل کو بھی چھو جاتا مشاہد اللہ خاں صاحب جنوری 2015 میں نواز شریف دور حکومت میں انہیں چیئر مین بینظیر انکم سپورٹ پروگرام مقرر کیا گیا ان کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر تھا تاہم انہوں نے اس عہدے کو قبول نہیں کیا۔بعد ازاں انہیں مسلم لیگ ن کے دور حکومت کے دوران جب  وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی تھے تو انہیں سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی ظہیر السلام کے بارے میں بیان دینے پر ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا

مشاہد اللہ خاں غیر معمولی خوبیوں کے مالک تھے۔ انہوں نے سیاست میں اپنی الگ ہی پہچان بنائی اور اپنے آپ کو منوایا مشاہد اللہ خان اپنے دلیرانہ اور بے باک انداز بیان کی وجہ سے میڈیا اور پارلیمان کے اندر دونوں جگہ مقبول تھے۔ ٹی وی پروگرامز میں ان کی شرکت اکثر دیکھنے کو ملتی اور جب تک مشاہد اللہ خان ٹی وی سکرین پر رہتے ناظرین  پلک جھپکنا اور دوسری آواز سننا بھول جاتے کہ انکی بات کرنے کا انداز ہی کچھ دلوں کو موہ لینے والا تھے مشاہد اللہ خان کا شعری ذوق بلند تھا شاعری میں انکا مطالعہ وسیع معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی موضوع پر اپنی بات کو شعروں میں بیان کرنا انہیں خوب آتا تھا مشاہداللہ خان کو اردو زبان پر عبور حاصل تھا اور خود بھی ایک مہاجر خاندان سے تعلق رکھتے تھے، پارلیمنٹ میں ان کے کاٹ دار جملے اور دبنگ انداز بڑا مقبول اور من بھاتا تھا۔ انہیں ادبی بات چیت میں ملکہ حاصل تھا برجستہ فقروں کے ساتھ برمحل شعر کہنے کا ہنر انہیں آتا ادب تو جیسے انکی طبیعت میں ودیعت کر دیا گیا تھا۔

پارلیمنٹ میں اپنی تقریر میں بھی وہ شاعری کو بڑی خوبصورتی سے استعمال کیا کرتے تھے اور اُنکی رحلت کے بعد انکایہی انداز چاہا اور سراہا جارہا ہے لوگ انہیں اور انکی سیاسی بصیرت کو خراج تحسین پیش کررہے ہیں۔مجھے یاد ہے کہ معروف شاعر احمد فراز کی رحلت کے بعد ہر طرف فرا ز فراز ہوگیا تھا موبائل فونز پر فراز کے اشعار کے مسیج گردش کرنے لگ گئے تھے  ایسے ہی سوشل میڈیا پر مشاہداللہ خاں کا شعری لہجہ بھی پسند کیا جارہا ہے ان کی سینیٹ اجلاس میں شاعری کی ایک ویڈیو مقبول ہورہی ہے جس میں وہ اپنے دبنگ انداز میں شاعری کے ذریعے مخالف جماعت کے رہنما کو جواب دے رہے ہیں۔

اس وقت کہ جب ملک میں ایک سیاسی ہیجان بر پا ہے اور ملک کو حقیقی سیاسی رہنماؤں کی بہت ضرورت ہے مشاہد اللہ خاں کی رحلت بڑا سیاسی نقصان ہے انکی زندگی کا باب اگرچہ بند ہوا ہے لیکن اانکی سیاسی کتاب ہمیشہ کھلی رہے گی جسے پڑھ کر رہ نوردِ سیاست رہنمائی پاتے رہیں گے

کہانی  ختم  ہوئی  اور  ایسی  ختم  ہوئی

کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment