Home » مسلم لیگ(ن) کا مجوزہ جلسہ بھرپور تیاریاں نواز شریف مریم نواز اور دیگر رہنما مصروف و متحرک

مسلم لیگ(ن) کا مجوزہ جلسہ بھرپور تیاریاں نواز شریف مریم نواز اور دیگر رہنما مصروف و متحرک

by ONENEWS

مسلم لیگ(ن) کا مجوزہ جلسہ، بھرپور تیاریاں، نواز شریف، مریم نواز اور دیگر …

آئندہ اتوار کو لاہور میں پی ڈی ایم جلسہ ہونے والا  ہے، اس کی میزبانی مسلم لیگ(ن) کے پاس ہے، جس نے جلسے کی کامیابی کے لئے سردھڑ کی بازی لگائی ہوئی ہے۔لندن میں مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف خطاب کرتے ہیں، تو یہاں ان کی صاحبزادی مسلم لیگ(ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے مورچہ سنبھالا ہوا ہے۔ مسلم لیگ(ن) کی پوری قیادت اس جلسے کی کامیابی کے لئے سرگرداں ہے۔ہر ضلع میں کارکنوں کے کنونشن منعقد کئے جا رہے ہیں۔ اراکین اسمبلی اور جماعتی عہدیداروں کی ڈیوٹیاں لگائی جا چکی ہیں۔ضلعی سطح کے علاوہ علاقائی سطح پر بھی اجلاس کئے جا رہے ہیں۔اتوار کے روز مریم نواز نے اپنی جماعت کی سوشل میڈیا ٹیم سے خطاب کیا یہ اجتماع ”کھوکھر پیلس“ میں ہوا۔

مریم نواز نے یہاں بہت جارحانہ خطاب کیا، جبکہ محمد نواز شریف نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے تقریر کی، کارکن پُرجوش تھے، تو مریم نواز نے بھی تخت یا تختہ والی بات کر دی اور کہا8 دسمبر کو آر یا پار، مطلب یہ کہ گذشتہ روز اسلام آباد میں یہ اجلاس ہو گیا، اس کے لئے ہی مریم نواز نے کہا تھا کہ یہاں بڑے فیصلے ہوں گے،ان میں لاہور سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ،اسلام آباد میں دھرنا اور اسمبلیوں سے استعفے شامل ہیں۔ مریم نواز نے تو اپنی رائے کا اظہار کر دیا اور ان کے ساتھ شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف اور احسن اقبال نے بھی استعفوں کی تائید کی،تاہم اس حوالے سے مسلم لیگ(ن) اور جے یو آئی متفق ہیں،لیکن پیپلزپارٹی کے تحفظات ہیں،جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ استعفوں کا تعلق صرف قومی اسمبلی سے نہیں، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں سے بھی ہے کہ اس طرح وفاقی اور پنجاب حکومت گر جائیں گی، پیپلزپارٹی کا تخمینہ یہ ہے کہ اس فیصلے کے ساتھ سندھ سے اس کا اقتدار ختم ہو جائے گا۔ اس اسمبلی سے استعفوں کا مطلب میدان خالی کر دینا ہے، یقینا گذشتہ روز(8 دسمبر) اسلام آباد میں جو سربراہی اجلاس ہوا،اس میں استعفوں کو آخری حربے کے طور پر رکھا گیا، آج یہ بھی سامنے آئے گا کہ گذشتہ روز کیا فیصلے ہوئے۔

لاہور کا جلسہ مسلم لیگ(ن) کے لئے عزت کا سوال بن گیا تو حکومت کے لئے بھی چیلنج ہے،جس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ پانچ ہزار آدمی بھی جمع نہیں ہوں گے۔اس سلسلے میں دونوں طرف سے اپنی اپنی حکمت عملی طے کی گئی ہے، مسلم لیگ(ن)  تو ورکرز کنونشنوں کے ذریعے جلسے کی کامیابی کے لئے کوشاں ہے تو حکومت کی طرف سے انتظامی حکمت عملی اور پروپیگنڈے کا ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، اس کے لئے موثر طور پر کورونا پھیلاؤ کی تشہیر کی جا رہی ہے اور اعلان کر کے منتظمین اجلاس اور شرکاء کے خلاف کورونا  ایس او پیز کی خلاف ورزی کے الزام میں مقدمات درج کئے جا رہے ہیں، اب تک درج ہونے والے مقدمات میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔یہ جرم قابل ِ ضمانت ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ144کی خلاف ورزی کے الزام میں دفعہ188کے تحت ایف آئی آر کٹتی ہے، لیکن یہاں متعدد دفعات لگائی جا رہی ہیں۔دوسری طرف مسلم لیگ(ن) نے رکاوٹ اور گرفتاریوں کے جواب میں دھمکی آمیز رویہ ظاہر کیا کہ ایسا ہوا تو پورا لاہور جلسہ گاہ بن جائے گا، جلسے میں ابھی چارروز ہیں،انتظامیہ کی حکمت عملی کا اعلان بھی کر دیا گیا کہ جلسے میں رکاوٹ بھی نہیں ڈالی جائے گی اور اجازت بھی نہیں دی جائے گی۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بارے میں اطلاع ہے کہ ان کا کورونا منفی ہو گیا، اور وہ لاہور کے جلسے میں شرکت کریں گے۔ان کی طرف پنجاب اور لاہور کی تنظیم کو جلسے میں بھرپور شرکت کی ہدایت دی گئی، اس کے بعد پیپلزپارٹی نے بھی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ اتوار کے روز پیپلزپارٹی لاہور کے کارکنوں نے مشعل بردار جلوس نکالا اس کی قیادت لاہور کے صدر الحاج عزیز الرحمن نے کی، جبکہ جے یو آئی کے کارکن مولانا امجد خان کی قیادت میں متحرک ہو رہے ہیں۔

لاہور میں کورونا کے مریضوں میں اضافہ ہوا، تاہم یہاں ایس او پیز کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے،حکومت کی طرف سے عملدرآمد کی ہدایت کی جاتی ہے،لیکن بازاروں میں اس کی پروا نہیں کی جا رہی، ماسک پہننے والوں میں اضافہ ضرور ہوا تاہم یہ تعداد کم اور ضرورت اور لازمی مقامات پر ہی نظر آتی ہے۔صوبائی حکومت کے ایکسپو سنٹر والے قرنطینہ کیمپ کو پھر سے بحال کر دیا،وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے افتتاح کیا،اس موقع پر انہوں نے کہا کہ قانون کی خلاف روزی کرنے والوں کے خلاف ضابطے کی کارروائی ضرور ہو گی، انہوں نے کہا پی ڈی ایم والوں کو انسانوں جانوں کی پروا نہیں، یہ کورونا کے پھیلاؤ کا باعث بن رہے ہیں۔

ادھر عوام بدستور مہنگائی سے پریشان ہیں، بعض اشیا کے نرخوں میں معمولی کمی ہوئی تاہم  مجموعی طور پر مہنگائی نے برا حال کر رکھا ہے، اور گذارہ مشکل ہو چکا ہے، عوام اس حوالے سے کسی بہلاوے میں آنے کو تیار نہیں ہیں۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment