Home » مسعود مفتی (متوفی) اک چیراغ اوربجا (1)

مسعود مفتی (متوفی) اک چیراغ اوربجا (1)

by ONENEWS

مسعود مفتی (متوفی) اک چیراغ اوربجا (1)

جو بھی اِس دارِ فانی میں آیا، اپنے مقررہ وقت پر واپس لوٹ گیا، عمر اَسی سال بھی ہو، بعض زندگیاں اتنی دلکش اور باوقار ہوتی ہیں کہ ان کی درازیئ عمر کے لئے ہمہ وقت جی دُعا کرنے کو چاہتا  ہے اُردو ادب کے لئے مسعود مفتی بھی ایک ایسے ہی انسان تھے اُن کے چہرے کی روشنی اور مسکراہٹ کی دلکشی آخری وقت تک قائم رہی اُن کے رخصت ہونے سے ادب کی دُنیا کا ایک چراغ اور بجھ گیا، اس خلا کو پُر ہوتے اب وقت لگے گا، ویسے موت کا مطلب مکمل خاتمہ یا دشت فراموشی میں کسی  آواز کا کھو جانا ہی لیا جاتا ہے،لیکن ادیب نہیں مرتا، وہ اُس وقت مرتا ہے جب اُس کی تحریری وارثت ازکار رفتہ، بے معنی اور غیر متعلق ہو جائے۔ مسعود مفتی مرحوم کا زیادہ وقت کتابوں کی صحبت میں گزرا ”دو مینار“ ان کی ایسی کتاب ہے جو اُردو ادب میں ایک نعمت ہے۔ تاریخ سے سچ بولنا اور تاریخ کے سچ کو سمجھنا اور تسلیم کرنا اب ہمارے مزاج کا حصہ نہیں ہے۔مسعود مفتی مرحوم نے اپنی زندگی کے مینار سے قومی زندگی کے مینار کی منازل کا غیر جانبداری کے ساتھ جائزہ لیا ہے جسے اہل ِ علم اور تعلیم یافتہ نسل تک پہنچانا بے حد ضروری ہے۔ سقوط ڈھاکہ کے دِنوں میں بطور سول سرونٹ وہاں تعینات تھے، دو سال جنگی قیدی کے بعد مسعود مفتی مرحوم کے مزاج میں ایک ایسی تلخی آمیز کم گفتاری نے گھر بنا لیا، جو خوش گفتار مسعود مفتی سے بے حد مختلف تھی، جس کے ساتھ مرحوم نے اپنی عمر کے چالیس سال گزارے۔

انہوں نے1958ء میں سول سروس جائن کی یہ وہ زمانہ تھا جب مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے نوجوان خال خال ہی اس منزل تک پہنچ پاتے تھے۔ انگریز نے آئی سی ایس افسران بھرتی کرنے کے لئے خاص طرح کے معیار وضع کر رکھے تھے۔”مسعود مفتی مرحوم نے ملک میں پہلے مارشل لا،یعنی جنرل ایوب خان کے اقتدار پر قابض ہونے سے قبل پاکستان کی سول بیورو کریسی کے افسران کے کام، قابلیت، محنت اور تعمیر وطن میں کردار کا ذمہ داری سے نقشہ کھینچا ہے اور اس دور کے سیاست دانوں کی منفی تصویر کے برعکس صحیح اور بہتر چہرہ دکھایا ہے، انہوں نے اس وقت کے سیاست دانوں کے خلاف ہونے والے منفی پراپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے تصویر کے دوسرے رُخ کو ایمانداری، تفصیل اور سلیقے سے قلم بند کیا ہے۔ وہ قابل ِ تعریف ہے۔ سقوط ڈھاکہ ہماری قومی تاریخ کا ایک تاریک باب ہے،لیکن اس کی بہت سی وجوہات،اس دور کے حالات اور ان کو پیدا کرنے والے عوامل کی طرف بہت کم سنجیدگی اور ذمہ داری سے توجہ دی گئی ہے۔ مسعود مفتی مرحوم تاریخ کے شاہد ہی نہیں،ایک بہترین قلم کار بھی تھے، ان کا اصل نام مسعود الرحمن تھا، لیکن ادب کی دُنیا میں مسعود مفتی کے نام سے معروف تھے۔ 10جون 1934ء کو پاکپتن میں پیدا ہوئے،ان کے والد گرامی مفتی محمد زمان سکول ٹیچر تھے، والد کا تبادلہ راولپنڈی ہو گیا تو وہ بھی ان کے ساتھ چلے گئے اور پھر لاہور منتقل ہو گئے۔

وہاں سے میٹرک، اسلامیہ کالج لاہور سے ایف ایس سی اور بی ایس سی کی ڈگری لی،پنجاب یونیورسٹی لاہور سے1953ء میں انٹرنیشنل افیئرز اور1954ء میں صحافت میں ڈپلوما حاصل کیا، گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے انگلش کیا۔ 1958ء میں سول سروس آف پاکستان میں ملازمت اختیار کی۔ 1960ء میں کیمبرج یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ڈپلومہ کیا۔ 1971ء میں مشرقی پاکستان میں سیکرٹری ایجوکیشن تعینات تھے، بھارت نے جنگ شروع کی،اس جنگ میں گہری سازش کے تحت ملک دو لخت ہوا۔ مسعود مفتی مرحوم بھی دو سال تک بھارت میں جنگی قیدی رہے۔ 1994ء میں ایڈیشنل سیکرٹری کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے، ریٹائرمنٹ کے بعد صحافت شروع کی، تین بار قومی ایوارڈ ملا۔ 1969ء میں افسانوی مجموعے،رگ سنگ پر گلڈ ایوارڈ، 1974ء میں رپور  تاژ، چہرے پر آدم جی ادبی ایوارڈ کے مستحق ٹھہرے۔1999ء میں رپور  تاژ”ہم نفس“ پر قومی ایوارڈ حاصل کیا، ان کے مجموعے محدب شیشہ، رگ سنگ، ریزے، سالگرہ، چہرے اور مہرے، پھول پتھر میں پھول، اور سرواہے (مزاحیہ تحریروں کا مجموعہ) اور دو مینار پڑھنے کے قابل ہیں،انسان بور نہیں ہوتا، حقیقت نگاری ان کا مسلک رہا۔

وہ خود کو خدا کے بعد ادب کا ذوق رکھنے والوں کے سامنے جواب دہ سمجھتے تھے۔ مسعود مفتی مرحوم نے افسانے کی دُنیا میں بہت نام کمایا، حالانکہ وہ افسانہ نگار بننے کا شوق نہیں رکھتے تھے۔ وہ تو صحافی بننا چاہتے تھے،انہوں نے اسی شوق کی تکمیل کے لئے ایم اے انگلش کے ساتھ ایم اے جرنلزم بھی کر رکھا تھا۔انہوں نے سول اینڈ ملٹری گزٹ میں تھوڑے دن کام بھی کیا اور پھر چھوڑ گئے۔مسعود مفتی سی ایس پی افسر بنے تو مشرقی پاکستان تعیناتی کے دوران بہت بڑے تجربے سے دوچار ہوئے۔یہ تجربہ اُن کے بہت کام آیا۔ ڈھاکہ سے ان کی بہت ساری یادیں وابستہ ہیں وہاں انہوں نے خانہ جنگی کی قیامت دیکھی،مشرقی پاکستان جو پاکستان کا بازو اور جسم کا حصہ تھا اسے لہولہان دیکھا، اس کا زوال دیکھا۔

(جاری ہے)

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment