Home » مری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ

مری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ

by ONENEWS

مری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ

شیخ سعدی نے گلستانِ سعدی کی ایک حکائت میں کہیں یہ فقرہ بھی لکھا ہے کہ: ”بیس سالہ گدھا، اسّی سالہ مردِ پیر سے زیادہ ’بزرگ‘ ہوتا ہے“…… میں جب بھی اس فقرے کی معنویت پر غور کرتا ہوں تو سر دھننے لگتا ہوں۔ کیا عالمگیر صداقت (Universal Truth) شیخ صاحب نے اس مختصر فقرے میں سمو دی ہے۔

جانور اور انسان میں اگر فرق ہے تو دماغ کا فرق ہے کہ اسی کے بل بوتے پر یہ بحث و مباحثہ کرتا ہے، انکار کرتا ہے، اقرارکرتا ہے اور استدلال کرتا ہے۔اس لئے تو انسان کو حیوانِ ناطق یعنی بولنے والا حیوان بھی کہا جاتا ہے۔ آپ سوال کر سکتے ہیں کہ میں نے گدھے کو انسان کے مقابل لا کر کیوں کھڑا کر دیا ہے؟…… کہاں انسان اور کہاں گدھا!…… شیخ سعدی کا مطلب یہ تھا کہ عمر کی بزرگی، عقل کی بزرگی نہیں ہوتی۔ گدھے کی طبعی عمر 25برس ہوتی ہے۔ یعنی وہ قریب المرگ ہو کر بھی ’بزرگی‘ کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

ایک اور حکائت میں کہتے ہیں: ”بزرگی بہ عقل است نہ بہ سال و تو نگری بہ دل است نہ بہ مال“ یعنی بزرگی ماہ و سال کی کثرت کا نام نہیں، عقل کی کثرت کا نام ہے۔ بعض بزرگ پیرانہ سالی کے باوجود کودن اور بے وقوف رہتے ہیں اور بعض لڑکے بالے اپنے لڑکپن بلکہ بچپن ہی میں دانش و بینش کی بہت سی حدیں عبور کر جاتے ہیں۔اسی طرح تو نگری (سخاوت / فیاضی) کا تعلق مال و دولت سے نہیں ہوتا، دل سے ہوتا ہے۔ بعض لوگ دل کے سخی ہوتے ہیں حالانکہ جیب تقریباً خالی ہوتی ہے جبکہ بعض مالدار دل کے غریب ہوتے ہیں۔ اسی لئے حکماء اور صالحین  نے دل کی غربت سے پناہ مانگی  ہے۔عقل مند انسان کبھی دل کا غریب نہیں ہوتا، مال و دولت کا غریب ہو تو ہو۔ اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ اسی لئے اقبال نے ایک اور حوالے سے کہا ہے: ”دل کی آزادی شہنشاہی، شکم سامانِ موت“ چنانچہ خدا سے دل کی آزادی اور تونگری طلب کرنی چاہیے۔ بلکہ اقبال تو ایک قدم اور آگے بڑھتے ہیں اور دل کی تونگری کو دل کی بیداری کا نام دیتے ہیں:

دلِ بیدار فاروقی، دلِ بیدار کرّاری

مسِ آدم کے حق میں کیمیا ہے دل کی بیداری

دلِ بیدار پیدا کر کہ دلِ خوابیدہ ہے جب تک

نہ تیری ضرب ہے کاری نہ میری ضرب ہے کاری

یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ پرانے وقت اچھے تھے یا حالیہ وقت یا آنے والے وقت۔ میرے خیال میں وقت سبھی اچھے تھے، اچھے ہیں اور اچھے رہیں گے۔ اگر کوئی جمع تفریق ہوتی ہے تو وہ ہم انسانوں میں ہوتی ہے۔ پیغمبرِ آخر الزماں ﷺ نے فرمایا ہے کہ وقت کو بُرا نہ کہو کہ میں خود وقت ہوں ……ع

لاتسبّو الدہر، فرمانِ نبی ست

چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ ماضی کا انسان، حال کے انسان سے زیادہ بہتر تھا اور نہ کم اور مستقبل کا انسان بھی حال کے انسان سے نہ زیادہ بہتر ہوگا نہ کم۔ اس موضوع پر بہت سے مباحثے ہو چکے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ ہمارے سکول کے زمانے میں بھی یہ موضوع بڑا اہم اور معلومات افزاء ہوا کرتا تھا اور کالج اور یونیورسٹی کے ایام میں تو یہ مباحثہ استدلال کی بالائی منازل سے قطعِ نظر بین الجامعاتی مباحثوں کے مماثل ہوتا تھا۔ایک اور فرق جو ان سکولوں اور کالجوں کے مباحثوں میں ہوتا تھا وہ دلائل و براہین کی کثرت اور زبان و بیان کی قطعیت کا ہوتا تھا۔ ہمارے ہائی سکول کے زمانے میں ایک اردو مباحثے میں  یہی موضوع اس طرح بھی دیا گیا تھا کہ ”ہمارا ماضی بہتر تھا یا حال بہتر ہے؟“ اور طرفین کی طرف سے دلائل کا انبار ہوتا تھا۔ پھر کالج میں گاہے بگاہے یہی مباحثہ سننے کو ملتا رہا۔ رحیم  یارخان میں لیکچراری کے زمانے میں سالِ سوم کے ایک سٹوڈنٹ نے شیخ سعدی کی کسی تصنیف کا حوالہ دے کر ایک واقعہ سنایا

جو اس طرح تھا کہ شیخ صاحب نے لکھا ہے کہ ایک بار ایک شاعر کسی بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا:”میں کل ہی مکہ مکرمہ میں حج کی سعادت حاصل کرکے واپس آیا ہوں۔ واپسی کے سفر میں دل کی کیفیت میں ایک عجیب طرح کا سوز و گداز پیدا ہوا جس کے زیرِ اثر بادشاہ سلامت کے لئے مدح و توصیف سے لبریز یہ چند اشعار کوہستانی ندی کی روانی کی طرح زبان سے نکلے جنہیں میں نے قلم و قرطاس میں مقیدکر لیا۔ وہ اشعار میں حضورِ شاہ میں پیش کرنا چاہتا ہوں“۔ بادشاہ نے یہ سنا تو فرمایا: ”حاجی صاحب، ارشاد!“ اس شاعر نے اذنِ گفتار پا کر 50اشعار کا ایک طویل قصیدہ پڑھا تو دربار میں سناٹا چھا گیا۔ ایک طرف سے صدائے آفرین بلند ہوئی تو دوسری طرف جس میں شاہی دربار کے 15،20شعراء بھی  بیٹھے تھے، اتھاہ خاموشی چھا گئی۔ جب شاعر قصیدہ تمام کر چکا تو بادشاہ نے ملک الشعراء سے پوچھا: ”آپ لوگ اتنا اچھا کلام سننے کے بعد خاموش کیوں ہوئے اور شاعر جب میرے بارے میں چند تعریفی مصرعے کہہ رہا تھا تو اس کو داد نہ دینا کیا آپ کی گستاخی یا بے ادبی میں شمار نہ ہو گا؟“

ملک الشعراء نے عرض کیا: ”حضور! ہم اس لئے چپ تھے کہ یہ مشہور و معروف قصیدہ تو فرخی کا ہے جو سلطان محمود غزنوی کے دربار کا ایک معروف شاعر ہو گزرا ہے۔ اگر بارِ خاطر نہ ہو تو میں فرخی کا دیوان آپ کے حضور پیش کر دیتا ہوں۔ اگر اس میں وہ قصیدہ نہ ہو تو میری گردن کاٹ دیں“……اس کے بعد اس صف سے ایک اور شاعر اٹھا اور کہا: ”حضور! اگر اجازت مرحمت فرما ویں تو میں فرخی کا یہ قصیدہ ابھی آپ کو سناتا ہوں“۔ بادشاہ نے سر کو جنبش دی اور اس شاعر نے وہ پورے کے پورے 50 اشعار سنا دیئے جو اس نووارد شاعر نے اپنے نام سے دربار میں پیش کئے تھے“۔

بادشاہ ابھی سوچ رہا تھا کہ اس کیس کا کیا فیصلہ کرے اور نقّال شاعر کو کیا سزا دے کہ ایک طرف سے ایک اور درباری نے اٹھ کر عرض کی: ”جہاں پناہ! میں نے بھی اسی سال حج کیا ہے اور کل ہی مکہ مکرمہ سے حج کی سعادت حاصل کرکے واپس آیا ہوں۔ اس سال بہت کم حجاج نے فریضہ ء حج ادا کیا۔ لیکن میں نے اس شاعر کو مکہ میں کہیں نہیں دیکھا۔ اگر یہ درست ہے تو مجھے یہ شاعر بتائے کہ میدانِ عرفات میں اس کا خیمہ کدھر تھا اور اس سال کتنے اہلِ فارس حجاج نے یہ فریضہ ادا کیا؟“…… بادشاہ نے یہ سن کر اس شاعر کی طرف غضبناک نگاہوں سے دیکھا تو شاعر سخت شرمندہ ہوا، زار و قطار رونے لگا اور یہ رباعی برسرِ دربار گوش گزار کی:

عجیب بات ہے اگر یہ ہمارے لائے

دو پیمانہ آب است ویک چمچہ دوغ

اگر آپ ٹھیک ہونا چاہتے ہیں تو ، میری بات سنو

جہاں دیدہ بسیار گوید دروغ

(ترجمہ: اگر کوئی غریب آپ کے سامنے لسّی کا ایک بڑا گلاس پیش کرے تو اس میں صرف ایک چمچہ دہی ہو گا اور باقی دو پیالے پانی ہوگا…… اگر آپ مجھ سے حقیقتِ حال جاننا چاہتے ہیں تو عرض کروں گا کہ جو شخص جتنا زیادہ جہاندیدہ ہوگا، اتنا ہی جھوٹا ہوگا!“

شیخ سعدی یہ حکائت بیان کرکے فرماتے ہیں کہ بادشاہ نے جب یہ سنا تو ہنس پڑا اور نقّال شاعر کو معاف کر دیا۔

قارئینِ محترم! سطورِ بالا میں جو کچھ عرض کیا گیا اس سے مقصود آپ کے منہ کا ذائقہ تبدیل کرنا تھا…… اردو پریس میڈیا ہو یا انگریزی پریس میڈیا آج کل جن موضوعات پر نقد و نظر کیا جا رہا ہے اسے پڑھ کر طبیعت میں فرحت و بشاشت کی جگہ نفرت و کراہت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ بہت کم کالم ایسے ہوتے ہیں جو غیر سیاسی موضوعات کی خبر دیتے ہیں۔نجانے ہم نے کالم کو سیاست کے ساتھ ہی کیوں نتھی سمجھ رکھا ہے۔ گزشتہ دنوں عبدالقادر حسن کی وفات کی خبر نظر سے گزری تو ان کے کالموں کی کاٹ یاد آئی۔

مرحوم کے ’غیر سیاسی‘ کالم بھی غیر سیاسی موضوعات کو احاطہ نہیں کرتے تھے بلکہ گھوم پھر کر سیاسیاست  کے بحرِ ذخار میں غرقاب ہو جاتے تھے۔ ایک طول عرصے سے کالم نگاروں نے مزاحیہ کالم نویسی سے شاید توبہ اختیار کر لی ہے۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ ہفتے میں کم از کم کسی روز شعر و شاعری کی حکایات بھی سپردِ قلم کر دی جاتی تھیں، لیکن جب سے ناصر کاظمی مرحوم اللہ کو پیارے ہوئے ہیں، وہ باب بھی ان کے ساتھ ہی ختم ہو گیا ہے، اب نہ تو شعر و شاعری کی ”منجی کی چولیں“ کوئی ٹھوکتا ہے، نہ ”ادوائنِ“ کستا ہے، نہ ”باہی اور سیرد“ کی لمبائی چوڑائی کا کوئی حساب کتاب رکھا جاتا ہے اور نہ ”رنگین پاوے“ کہیں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہر جانب سیاسیاست کی رقابتی کہانیاں، سول ملٹری رنجشوں کے افسانے اور ہمچوما دیگرے نیست‘ کی گردانیں پڑھنے، سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں۔ چنانچہ تنگ آکر میں نے شیخ سعدی کے گدھے اور درباری شعراء کی حکایات کا رخ کیا ہے……امید ہے قارئین اس ”کج ادائی‘ کو معاف فرما دیں گے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment