Home » مریم نواز کے قافیے

مریم نواز کے قافیے

by ONENEWS

کپتان کے فتوؤں کی گھن گرج میں مریم نواز کے قافیوں کا بھی بڑا شہرہ ہے کل ملتان ٹی ہاؤس میں شاعروں کی منڈلی جمی تھی اور بحث اس پر ہو رہی تھی کہ مریم نواز یا تو خود شاعرہ ہیں یا پھر کوئی شاعر ان کا تقریر نویس ہے اس کی وجہ مریم نواز کی وہ قافیائی گردان تھی، جو پہلے ملتان کے جلسے میں ”بندہ ایماندار ہے“ کے مصرعے میں سنائی دی اور اب لاہور میں سوشل میڈیا ورکروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مطلع کا دوسرا مصرہ ”بندہ تابعدار ہے“ جڑ دیا ملتان کے شاعر اب وہاں بیٹھے یہ قیاس آرائیاں کر رہے تھے کہ مریم نواز کے اگلے قافیے کیا ہوں گے۔ ناصر محمود شیخ نے جو باقاعدہ شاعر تو نہیں البتہ مصرعے اور قافیے اچھے لگا لیتا ہے، کہا کہ اگلا مصرعہ ”بندہ شاندار ہے“ اور اس سے اگلا مصرعہ ”بندہ طرحدار ہے“ ہو سکتا ہے اس پر واہ واہ کے ڈونگرے برسے۔ پی ٹی آئی کا ایک حامی وہاں بیٹھا تھا۔ اس نے کہا مریم نواز جتنی مرضی کوشش کر لیں، وہ عمران خان کے لئے کوئی منفی قافیہ استعمال نہیں کر سکتیں۔ کیونکہ وہ ایماندار ہیں، طرحدار ہیں، شاندار ہیں اور تابعدار بھی ہیں لیکن صرف آئین و قانون کے،کسی شخص کے نہیں، جس طرح ایک شاعر اپنی نظم میں ٹیپ کا مصرعہ استعمال کرتا ہے، جو ہر بند کے بعد بار بار آتا ہے، اسی طرح مریم نواز اپنے قافیے تمہید باندھ کے سامنے لاتی ہیں یہ ایک نیا انداز ہے جو انہوں نے سیاسی تقریروں میں متعارف کرایا ہے۔ پی ٹی آئی کے وزیر و مشیر مریم نواز کی ہر بات کا توڑ نکال لیتے ہیں۔ تقریر ختم نہیں ہوتی کہ ان کا ردعمل چینلوں پر آ جاتا ہے مگر ابھی تک مریم نواز کی اس قافیائی تنقید کا وہ کوئی توڑ نہیں نکال سکے بندی یہ ہے، بندی وہ ہے، والا انداز کب سامنے آتا ہے۔ اس کا سب کو انتظار ہے۔

مریم نواز نے سوشل میڈیا ورکروں سے خطاب کرتے ہوئے خود اعتراف کیا کہ ملتان میں ”بندہ ایماندار ہے“ کی گردان پر اُنہیں بہت سے لوگوں نے تعریفی کلمات سے نوازا، اس لئے انہوں نے اب اسے اپنی تقریروں کا لازمی جزو بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے اس شاعر کی چاندی ہو گئی ہے جو مریم نواز کو یہ قافیے ملا کے دیتا ہے سب مان رہے ہیں کہ مریم نواز کی تقریریں شعلہ بار ہوتی جا رہی ہیں وہ ایک تیر سے کئی کئی شکار کر جاتی ہیں سجی دکھا کر کھبی مارتی ہیں، مخاطب کوئی ہوتا ہے نشانہ کہیں لگتا ہے۔ قافیوں کی یہ گردان بھی اصل ہدف کو ٹارگٹ کرتی ہے۔ مریم نواز کی تقریر کے دوران دلچسپ صورتحال اس وقت بھی پیدا ہوئی جب انہوں نے کہا کہ اب میں عاصم سلیم باجوہ کے بارے میں بات کرنے لگی ہوں اور آپ دیکھیں گے کہ چینلوں پر میری آواز بند کر دی جائے گی۔ بالکل ایسا ہی ہوا اور چینلوں پر ان کی آواز بند اور نیوز کاسٹر کی آنا شروع ہو گئی کچھ چینل ایسے تھے، جنہوں نے ان کی آواز بند نہ کی اور یہ خبر بھی عطا تارڑ نے مریم نواز کو دی جس پر انہوں نے کہا کہ میں ایسے چینلوں کو سلام پیش کرتی ہوں اب مجھے لگ رہا ہے کہ مریم نواز نے اگر اپنی اس قافیائی گردان کا سلسلہ بھی جاری رکھا تو اس وقت بھی ان کی آواز چینلوں سے غائب ہو جایا کرے گی۔ 13 دسمبر کو جلسے تک کیا ہوتا ہے، اس کا تو کچھ پتہ نہیں تاہم ماحول میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ مریم نواز بہت فرنٹ فٹ پر آ گئی ہیں اور انہوں نے یہ تک کہہ دیا ہے کہ 13 دسمبر کا جلسہ آر یا پار کا باعث بنے گا۔

لگتا یہی ہے کہ آنے والے دنوں میں معاملہ کپتان کے فتوؤں اور مریم نواز کے قافیوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سیاسی تپش بہت بڑھ جائے گی۔ رفتہ رفتہ یہ حقیقت عیاں ہوتی جا رہی ہے کہ مریم نواز نہ صرف مسلم لیگ (ن) بلکہ پی ڈی ایم کو بھی لیڈ کر رہی ہیں ہر جلسے کے بعد حکومتی وزراء صرف مریم نواز کی تنقید اور تقریر کو ہدف بناتے ہیں وہی پرانی دلیل لاتے ہیں کہ یہ لوگ اپنا لوٹا ہوا مال بچانا چاہتے ہیں، این آر او مانگ رہے ہیں، مگر وزیر اعظم انہیں ہرگز نہیں چھوڑیں گے۔ آپ ایک ہی بات کتنی مرتبہ دہرا سکتے ہیں۔ آخر اس کا اثر ختم ہو جاتا ہے عاصم سلیم باجوہ والا معاملہ وزیر اعظم کے اس بیانیے کو سخت نقصان پہنچا رہا ہے کہ وہ کسی کو این آر او نہیں دیں گے۔ مریم نواز شریف نے لاہور کے کنونشن میں صاف کہہ دیا ہے کہ چاہے کوئی پوچھے نہ پوچھے ہم عاصم سلیم باجوہ سے رسیدیں ضرور مانگیں گے۔ گویا یہ بات اب دبنے ولای نہیں۔ حیرت ہے کہ مریم نواز کی ہر بات کا فوری جواب دینے والے وزیر و مشیر ان کی اس تنقید کا کوئی جواب نہیں دیتے۔

مریم نواز کہتی تو درست ہیں کہ نوازشریف نے جب اسمبلی کے فلور پر کہا تھا کہ یہ ہیں وہ ذرائع جن سے لندن کی جائیدادیں خریدیں تو کسی نے اعتبار نہیں کیا تھا، کئی نسلوں کا حساب مانگا گیا تھا، مگر عاصم سلیم باجوہ کی بات کا فوری یقین کر لیا گیا، کوئی جے آئی ٹی بنی اور نہ نیب نے انہیں طلب کیا۔ جب میدان لگ جائے تو سب کچھ ہونے کی توقع رکھنی چاہئے۔ پہلے بھی کئی بار اس کا ذکر ہو چکا ہے کہ حکومت کے ترجمان، وزیر اور مشیر اپوزیشن کو زندہ کر رہے ہیں۔ مریم نواز ایک دن تقریر کرتی ہیں تو ردعمل کئی کئی دن جاری رہتا ہے۔ پھر ایسی باتیں کی جاتی ہیں، جن سے ماحول میں مزید تناؤ پیدا ہوتا ہے، جو سراسر اپوزیشن کے حق میں جاتا ہے۔ اپوزیشن کے پاس کھونے کے لئے کیا ہے، کچھ بھی نہیں، وہ تو حکومت گرانے پر نکلی ہوئی ہے گر گئی تو ست بسم اللہ نہ گری تو تحریک جاری رہے گی۔

پی ڈی ایم اپنے آج کے اجلاس میں کیا فیصلے کرنے جا رہی ہے، سب کی نظریں اس پر لگی ہوئی ہیں۔ مریم نواز نے تو کہہ دیا ہے کہ فیصلے حیران کن ہوں گے۔ ایک متوقع فیصلہ اسمبلی سے مستعفی ہونے کا بھی ہو سکتا ہے۔ مریم نواز نے جس طرح اپنے ارکانِ اسمبلی کو یہ کہا ہے کہ وہ اس حوالے سے کسی دباؤ میں نہ آئیں اور ساتھ ہی یہ وارننگ بھی دی ہے کہ اگر اس موقع پر کسی رکنِ اسمبلی نے پارٹی کی بات نہ مانی، بے وفائی کی، تو عوام اس کے گھر کا گھیراؤ کریں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پیپلزپارٹی اس حوالے سے کیا فیصلہ کرتی ہے۔ کیا وہ قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی سے مستعفی ہو گی یا سندھ اسمبلی سے استعفے دے گی۔ کیا آصف زرداری اتنا بڑا قدم اٹھائیں گے یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ مریم نواز نے حکومت کے خلاف کھل کر اعلان جنگ کر دیا ہے۔ اس جنگ کے لئے ان کے پاس جو ہتھیار ہیں ان میں وہ قافیے بھی وافر تعداد میں موجود ہیں، جن کے ذریعے وہ بندے کو پریشان کر سکتی ہیں۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment