Home » مذاکرات…… کہیں دیر نہ ہو جائے!

مذاکرات…… کہیں دیر نہ ہو جائے!

by ONENEWS

مذاکرات…… کہیں دیر نہ ہو جائے!

گوجرانوالہ کی ضلعی انتظامیہ نے صرف ایک روز کے وقفے سے پی ڈی ایم کو جناح سٹیڈیم میں جلسہ کی اجازت دے دی اور ساتھ ہی شرط عائد کی ہے کہ کورونا خدشات کی روشنی میں ایس او پیز کا خیال رکھا جائے۔ ان قواعد کے مطابق ماسک لگانا اور سماجی فاصلہ رکھنا ضروری ہے جو کم از کم چھ فٹ ہو اور ساتھ ہی سینی ٹائزر بھی ہونا چاہیے جو ہاتھوں پر لگایا جائے، اپوزیشن ماسک اور سینی ٹائزر کا انتظام تو کر سکتی ہے، لیکن یہ سماجی فاصلے والی شرط کڑی ہے، کیونکہ یہ جلسہ ہے، کسی جلسے، جلوس یا مظاہرے میں یہ ممکن نہیں ہو سکتا، چنانچہ پھر وہی ہوگا کہ جلسے کے بعد کورونا قواعد کی خلاف ورزی پر مقدمہ درج کر لیا جائے گا، اور ظاہر ہے کہ یہ مقدمہ چند نام لکھنے کے بعد لوگوں تعداد لکھ دی جائے گی اور بعدازاں جس کو جی چاہے گا، حوالات کی سیر کرا دی جائے گی، ویسے یہ مقدمہ دفعہ 144کی خلاف ورزی پر 188کے تحت ہوگا، جو قابل ضمانت ہے۔

بہرحال یہ ایک مرحلہ تھا جو طے ہوا، اب حزب اختلاف کا الزام ہے کہ کارکنوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے، گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور کنٹینر لگا کر راستے بھی بند کئے جانے لگے ہیں، یہ جلسہ آج (16اکتوبر) کو ہونا ہے اور ہنگامہ کئی روز سے جاری ہے کہ سرکار کی طرف سے کوئی واضح بات نہیں کی جا رہی تھی جبکہ اپوزیشن اتحاد کی طرف سے اعلان کر دیا گیا تھا کہ اگر جناح سٹیڈیم میں اجازت نہ دی گئی تو جلسہ جی ٹی روڈ پر کیا جائے گا، بہرحال جی ٹی روڈ سے بچانے ہی کے لئے یہ اجازت دی گئی،اتنی تاخیر اور کشمکش کی کوئی ضرورت نہیں، جب وزیراعظم نے کہہ دیا تھا کہ جلسے، جلوس حکومت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ان کو جلسہ کرنے دیں، عوام تو ان کے ساتھ نہیں خود ہی ”ایکسپوز“ ہو جائیں گے اس کے باوجود انتظامیہ نے اپنا روائتی کردار جاری رکھا، اس کا فائدہ بھی اپوزیشن ہی کو ہوا ہے۔

ہم نے ایوب خان کے خلاف تحریک سے بھٹو مخالف مہم اور اس کے بعد بھی تحریکیں دیکھی ہوئی ہیں، ہر موقع پر انتظامیہ کا رویہ ایسا ہی ہوتا ہے اور اس سے احتجاج کرنے والے ہی مستفید ہوتے ہیں، اگر مولانا فضل الرحمن والے دھرنے کی طرح فری ہینڈ دیا جائے تو پھر کچھ بھی نہیں ہوتا کہ مولانا بھی آخر کار دھرنا اٹھا کر چلے ہی گئے تھے، لیکن یہاں تھوڑا فرق ہے، وہ یہ کہ پی ڈی ایم نے جلسوں کے ایک سلسلے کا اعلان کیا ہے اور گوجرانوالہ میں آج (جمعہ) پہلا جلسہ ہو گا، جبکہ اتوار (18اکتوبر) کو کراچی میں ہے،جس کی اجازت دے بھی دی گئی کہ صوبے میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے جو پی ڈی ایم کا بھی حصہ ہے۔ اس لئے یہ سلسلہ تو جاری رہنا ہے شاید اسی کو دیکھتے ہوئے سرکار نے بھی رکاوٹوں والی حکمت عملی اختیار کی ہے، حالانکہ سب یہی کہہ رہے ہیں کہ ان حربوں کی وجہ سے اپوزیشن کو تقویت ملے گی، بہرحال آج شام تک یہ بھی علم ہو جائے گا کہ آئندہ کیا ہوگا، ہماری بہترین خواہش یہ ہے کہ امن ہر صورت قائم رہے کہ یہ ہماری ضرورت ہے، ملک میں استحکام ہی حالات سے نبردآزما ہونے کا موقع مہیا کرتا ہے، اس لئے بند دروازوں کو کھلنا اور مذاکرات کا آغاز ہی بہتر پالیسی ہے، اللہ کرے۔

ہم ذرا ایک بار پھر ماضی پر نظر ڈالیں تو شاید ہمارے رہنما حضرات بھی غور کر ہی لیں۔ یہ اب بہت سے حضرات بتا چکے کہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف تحریک مہنگائی کے باعث تھی، تب بھی چینی مہنگی ہوئی اور آٹے کی قلت ہوئی تھی۔ یوں تحریک ”ہائے آٹا“ کے عنوان سے چلی تھی، تب بھی یہی انتظامی حربے تھے، اس تحریک میں تو پولیس کے ہاتھوں ہماری بھی پٹائی ہو گئی تھی اور ڈنڈوں سے تواضع کی گئی، ہم شور ہی مچاتے رہ گئے کہ اخبار والے ہیں، ہماری کسی نے نہ سنی، اس حوالے سے بھی ایک دلچسپ بات ہوئی کہ جب پی یو جے نے احتجاج کیا تو ایس ایس پی لاہور سے مذاکرات ہوئے، انہوں نے تجویز کیا کہ صحافی حضرات بازو پر بینڈ باندھیں، جس پر ”پریس“ لکھا ہو، ہمارے اس دور (امروز) کے چیف فوٹو گرافر خواجہ عبدالقیوم بڑے پرجوش ہوئے اور انہوں نے ایک خوبصورت سا بینڈ پہن لیا، ہم نے ان کو منع کیا کہ ہمارا تجربہ مختلف تھا، لیکن وہ نہ مانے، پھر وہی ہوا کہ جب جلوس پر لاٹھی چارج ہوا اور خواجہ قیوم نے قریب سے تصاویر بنانے(مجبوری  تھی، ڈیجٹیل دور نہیں تھا) کی کوشش کی تو پہلے ان کی تواضع کر دی گئی۔

اسی طرح اپریل 1977ء کے واقعات تو آج بھی ہماری آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چلتے ہیں، تحریک زور پکڑ چکی تھی، ذوالفقار علی بھٹو لاہور میں قیام پذیر تھے،اسی دوران 9اپریل کا سانحہ پیش آیا، نیلہ گنبد سے نکلنے والا جلوس ریگل چوک تک آ چکا تھا، یہ ایک بڑا جلوس تھا اور اسمبلی ہال (فیصل چوک) تک جانا چاہتا تھا، پولیس نے ریگل چوک پر رکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں، یہاں قائدین اور پولیس حکام کے درمیان تکرار ہو رہی تھی، ہم اس وقت سروس روڈ پر بائیں طرف تھے، ہماری نظروں ہی کے سامنے بس سٹاپ کے سامنے مال روڈ پر ہجوم میں سے ایک پتھر اوپر اچھالا گیا، جو نیچے آکر گرا تو مظاہرین میں تھوڑی بھگڈر مچی اور پھر نامعلوم کیا ہوا کہ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ شروع ہو گئی۔ قائدین کو ریگل سنیما کی طرف سے نکال لیا گیا اور یہاں باقاعدہ مقابلہ شروع ہو گیا، پتھروں کے مقابلے ڈنڈے اور لاٹھی کا استعمال شروع ہو گیا، ریگل چوک میدان جنگ بن گیا، ہم بھاگ کر پریس کلب (دیال سنگھ مینشن) کی چھت پر آ گئے،جہاں سے بہتر طور پر دیکھا جا سکتا تھا، چاچا ایف ای چودھری (مرحوم) بھی اسی چھت پر تھے اور تصاویر بنا رہے تھے، پھر یہ جھڑپ بڑھ گئی تو گولی چلنے کی آواز سنائی دی، ایک گولی تو ہمارے پاس سے بھی گزری خیر رہی کسی کو لگی نہیں، پھر معلوم ہوا کہ مظاہرین زخمی ہوئے اور ایک دو جاں بحق بھی ہو گئے، یہ بھٹو مخالف تحریک کا ٹرننگ پوائنٹ تھا، اس کے بعد حالات روز بروز خراب ہوتے چلے گئے اور پھر 4-5جولائی 77 ہو گیا۔

انہی حالات کی روشنی میں ہماری خواہش اور درخواست ہے کہ فریقین مذاکرات کریں، حکومت خصوصاً وزیراعظم کو اپنے موقف میں تبدیلی لاناچاہیے، جلد کریں، دیر نہ ہو جائے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment