Home » محمود اچکزئی کا بیانیہ اور زندہ دلانِ لاہور

محمود اچکزئی کا بیانیہ اور زندہ دلانِ لاہور

by ONENEWS

محمود اچکزئی کا بیانیہ اور زندہ دلانِ لاہور

گروپ کیپٹن نعیم اے خان مرحوم ہمارے ایسے دوستوں میں شامل تھے جو استاد اور شجر سایہ دار کی حیثیت رکھتے تھے ائیر فورس میں بھی ایک محب وطن اور جی دار پیشہ ورافسر کی حیثیت سے اپنا ایک نام اور مقام رکھتے تھے قائداعظم ؒ کی ذات اور صفات سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے لاہور سٹاک ایکسچینج میں آئے کاروبار شروع کیا تو ہر دِلعزیز رہنما، بلکہ باپ کی حیثیت اختیار کر گئے اپنی ذات اور صفات کے باعث سٹاک مارکیٹ میں سب لوگ بشمول بروکرز اور ملازمین انہیں عقیدت کے مقام پر رکھتے تھے ان کی تکریم کرتے تھے ان کی بات سنتے اور مانتے تھے۔ اللہ رب الکریم انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے:آمین وہ کہا کرتے تھے ہمیں اپنی زندگی میں تین طرح کے کرداروں سے واسطہ پڑتا ہے سوچ و فکر اور عمل کے اعتبار سے معاشرے میں تین طرح کے کردار پائے جاتے ہیں اول وہ لوگ جو کامیاب اور بڑے لوگوں سے ملتے ہیں تو ان کی کوشش اور خواہش ہوتی ہے کہ بلند حیثیت کے لوگوں کو کم تر ثابت کر کے اپنی سطح تک لے آئیں۔

ایسے لوگ حاسد اور کمینے ہوتے ہیں دوسرے وہ لوگ جنہیں کامیاب اور قد آور لوگوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا ہے یہ لوگ اپنی ہی دھن میں،اپنی ہی طرز سے زندگیاں گزارتے چلے جاتے ہیں ایسے لوگ ہی ہمارے ہاں کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں تیسری طرز کے لوگ وہ ہوتے ہیں جو بڑے اور کامیاب لوگوں کی طرز حیات اختیار کر کے اپنا قد و قامت بڑھانے اور زندگیوں کو کامیاب و کامران بنانے کی کاوشیں کرتے ہیں ایسے لوگ جہد مسلسل پر یقین رکھتے ہیں اور بالا ٓخر کامیاب و کامران ہو جاتے ہیں ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں، لیکن بہت کم، ایسے لوگ قابل رشک ہی نہیں قابل ِ تقلید بھی ہوتے ہیں۔

ہمیں ایک عرصے کے بعد گروپ کیپٹن صاحب مرحوم و مغفور کی یاد اس لئے آئی کہ آج کل محمود خان اچکزئی کی مینار پاکستان میں کی گئی تقریر پر شدید تنقید ہو رہی ہے انہوں نے اہل ِ لاہور کے بارے میں جو کچھ کہا پی ڈی ایم کے مخالفین اس پر شدید طعنہ زنی کرنے میں مصروف ہیں انہوں نے کہا کہ پنجاب کے لوگوں نے انگریزوں کی تابعداری کی، جبکہ پشتونوں نے ان کے خلاف مزاحمت کی وغیرہ وغیرہ انہوں نے ایسی تاریخی باتیں ایک جلسہ عام میں کہیں۔ان کی باتیں درست ہوں گی،لیکن انہیں بیان کرنے کی جگہ شاید مناسب نہیں تھی۔جلسہ عام، عوامی گفتگو کی جگہ ہوتی ہے ثقیل تاریخی حقائق بیان کرنے کے لئے مناسب جگہ نہیں ہوتی یہ ایک حقیقت ہے کہ میدانی علاقوں کے باسی، سر سبز خطوں میں رہنے والے فلاحین بنیادی طور پر صلح جو ہوتے ہیں وہ زمین کھود کر ہموار کر کے،بیج ڈال کر ایک عرصہ تک صبر شکر کے ساتھ اس کے بار آور ہونے کا انتظار کرنے کے عادی ہوتے ہیں وہ دنگا فساد کی جگہ امن و سکون کے عادی ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ چنگیز خان سے لے کر تیمور لنگ،سوویت یونین اور امریکہ سے آنے والے حملہ آوروں کو میدانی علاقے کے لوگوں کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

ہم نے بھی حملہ آوروں کو کراچی کے ساحلوں سے سہولت کاری کے ذریعے طور خم تک پہنچنے میں میں مدد دی،لیکن طورخم سے آگے پہاڑوں کے مکینوں نے ان کا مقابلہ کیا اور انہیں شکست سے ہمکنار کیا یہ بات محمود اچکزئی نے درست فرمائی، لیکن یہ بھی حقیقت ہے جب سوویت افواج افغان مجاہدین جو پشتون تھے کے ساتھ بر سرپیکار تھیں تو محمود اچکزئی اپنے پشتون بھائیوں کے ساتھ نہیں،بلکہ حملہ آوروں کے ساتھ کھڑے تھے انہوں نے نہ تو اشتراکی حملہ آوروں کے خلاف اور نہ ہی امریکی حملہ آوروں کے خلاف زبان کھولی انہوں نے اپنے پشتون مجاہدین افغانستان،طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے پشتون مجاہدوں کے لئے کبھی کلمہ خیر نہیں کہا وہ ہمیشہ پشتونوں کے دشمنوں کے ساتھی بنے رہے اس لئے انہیں پنجابیوں، لاہوریوں کو انگریزوں کا ساتھی ہونے کا طعنہ دینا کچھ جچتا نہیں ہے۔یہ باتیں انہوں نے پاکستان کی دس قومی علاقائی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کی موجودگی میں کہی ہیں۔پی ڈی ایم کے کسی قائد نے ان کی باتوں کی تردید یا مذمت نہیں کی، بلکہ ان کی تقریر کے دوران سامعین و حاضرین نے تالیاں بجا کر انہیں داد بھی دی اپنی تقریر کے آخر میں انہوں نے مملکت ِ پاکستان کے ساتھ اپنی محبت و عقیدت کا اظہار نعروں کے ذریعے بھی کیا ہمیں ان کے ساتھ اختلاف کرنے، ان کی باتوں پر تنقید کرنے کا اسی طرح مکمل طور پر حق حاصل ہے جس طرح ان کے اپنے ا فکار و خیالات ہمیں سنانے کا حق ہے،

لیکن کسی کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ ایک دوسرے کو غدار اور ملک دشمن قرار دیں ہم نے ایک عرصے تک ایسا کر کے دیکھ لیا ہے نتائج بھگت لئے ہیں اپنا آدھا ملک گنوا بھی لیا ہے ہماری سیاست اور معاشرت میں جو افرا تفری اور کمزوری و مایوسی آج ہر طرف پھیلی ہوئی دکھائی دیتی ہے اس کی ایک بہت بڑی وجہ ہمارا ایسا ہی رویہ ہے کہ ہم سیاسی،تاریخی ااور مذہبی اختلاف رائے سننے اور برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے ہیں دوسروں کو ان کے نظریات کی بنیاد پر بنیاد پرست اور کافر قرار دینا،اختلاف رائے کو بنیاد بنا کر ملک دشمن اور غدار قرار دینا ہمارا وطیرہ رہا ہے ہم اپنے منتخب وزرائے اعظموں کو بلا تکلف ملک دشمن اور انڈین ایجنٹ قرا ر دینے سے بھی چوکتے نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ مملکت ِ خداداد پاکستان میں بے شمار قدرتی و انسانی وسائل کی دستیابی کے باوجود ہم تعمیر و ترقی کی وہ منازل طے نہیں کر پائے جو ہم با آسانی طے کر سکتے تھے اس کی بہت ساری معاشی و معاشرتی و جوہ ہیں، لیکن بحیثیت مجموعی معاشرے میں عدم برداشت کے فروغ نے ہمیں اقوام عالم میں بہت پیچھے دھکیل دیا ہے ایسا ہی رویہ ہمارے معاشرتی رویوں میں بھی پایا جاتا ہے اور یہی چلن سیاست میں فروغ پذیر ہے۔ہم فکری و نظری طور پر ہی نہیں،بلکہ عملی طور پر بھی عدم برداشت کے رویے کے باعث باہم دست و گریبان ہیں اور تعمیر و ترقی کی میزان میں بے حیثیت ہو چکے ہیں۔پنجاب کو لاہور کو آسانی سے بے توقیر نہیں کیا جا سکتا، پنجابی برصغیر میں بہت برا فیکٹر ہیں اور لاہور زندہ دلانِ لاہور پنجاب کے اس بڑے جسم میں دھڑکتے دِل کی حیثیت رکھتے ہیں۔لاہور لاہور اے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment