0

محفوظ سفر درندگی کی بھینٹ چڑھ گیا

محفوظ سفر درندگی کی بھینٹ چڑھ گیا

پاکستان میں جرم تو ایک سے بڑھ کر ایک ہو رہا ہے لیکن موٹر وے پر ایک ایسا دلخراش واقعہ ہو گا، جیسا تھانہ گجر پورہ لاہور کے علاقے میں گزرتی موٹر وے پر پیش آیا، اُس کے بارے میں تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا مگر صاحبو! جب قانون کا خوف مٹ جائے، جب بلوچستان کے ایک سابق ایم پی اے کو عدم ثبوت کی بنا پر ٹریفک سارجنٹ کے قتل کے جرم کی ایک واضح ویڈیو ثبوت ہونے کے باوجود باعزت بری کر دیا جائے، جب معصوم بچوں کو قتل کرنے والے اول تو قانون کی گرفت میں نہ آ ئیں اور آ جائیں تو قانونی موشگافیوں کا سہارا لے کر بری ہو جائیں، وہاں یہ واقعہ بھی ہو کر رہنا تھا، کس قدر دیدہ دلیری ہے کہ چلتی سڑک پر رکی ہوئی کار سے ایک خاتون کو نکال کر بچوں کے سامنے بے آبرو کر دیا جائے، موٹر وے کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ سب سے محفوظ سفر کی راہ گزر ہے، جس کی اپنی پولیس ہے اور جس پر چلنے کے لئے ہر گاڑی والے کو ہزاروں روپے ٹیکس دینا پڑتا ہے، اس پر ایک ایسا واقعہ پیش آئے تو کون کہے گا کہ موٹر وے پر سفر کرنا محفوظ ہے۔ اب تو جو بھی اس سڑک پر نکلے گا یہی دعا مانگے کا کہ گاڑی خراب نہ ہو وگرنہ کوئی لٹیرا، کوئی ڈاکو، کوئی قاتل کہیں سے نمودار ہو کر اسے لوٹ لے گا۔ عزت تک برباد کر دے گا۔ زوال تو ہر شعبے میں آیا ہے مگر ایسا زوال تو دیکھا نہ سنا کہ وہ جگہیں بھی غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہیں جو عوام کے حافظے میں محفوظ تر شمار کی جاتی تھیں۔

ہمارے ایک سینئر صحافی دوست شکیل انجم کا کہنا ہے کہ اس انسانیت سوز واقعہ کی براہ راست ذمہ داری مواصلات کے وفاقی وزیر مراد سعید پر عائد ہوتی ہے۔ جنہوں نے نوازشریف دور کی بنائی ہوئی سڑکوں کا کریڈٹ لینے کے لئے غیر مکمل سڑکوں پر ٹریفک کھولنے کی اجازت دی۔ جہاں قیام و طعام کے مراکز ہیں اور نہ موٹر وے پولیس کی چوکیاں، جہاں پٹرول پمپ اور گاڑی کو پنکچر لگوانے کی سہولت تک موجود نہیں، حتیٰ کہ موٹر وے کے دونوں اطراف جو جنگلے نصب کئے جاتے ہیں وہ تک کئی جگہوں پر موجود نہیں اور لوگ بآسانی موٹر وے پر آتے جاتے ہیں حتیٰ کہ پیدل چلتے ہوئے افراد بھی دیکھے جا سکتے ہیں، ملتان تا لاہور اور لاہور تا سیالکوٹ کے روٹ سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں۔ اسی طرح ملتان تا سکھر کی موٹر وے بھی ان سہولتوں سے محروم ہے اور کوئی بھی آسانی کے ساتھ واردات کر سکتا ہے۔ یہ بات بہت اہم ہے اور خود مجھے اس کا تجربہ ہو چکا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے میں اپنے دوست خواجہ اقبال کے ہمراہ موٹر وے کے راستے لاہور جا رہا تھا تو راستے میں ایک کار کھڑی ملی، جس میں چند افراد نے اتر کر ہمیں رکنے کا اشارہ کیا ہم سمجھے انہیں کسی مدد کی ضرورت ہے جونہی ہم نے گاڑی روکی تو دو مسلح افراد ہماری طرف آئے، اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتے خواجہ اقبال نے صورتِ حال کو بھانپتے ہوئے گاڑی بھگالی دور دور تک کوئی پٹرولنگ پولیس کی گاڑی نظر آئی اور نہ رکنے کی کوئی محفوظ جگہ، اگر خدانخواستہ ہمارے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جاتا تو کسی کو ثبوت بھی نہیں ملنا تھا کہ کون لوگ یہ کر گئے ہیں۔

اب اس اندوہناک سانحے کو دیکھئے جو گجر پورہ لاہور تھانے کی حدود میں موٹر وے پر پیش آیا گاڑی کا پٹرول ختم ہوا تو بدقسمت خاتون نے گاڑی ایک سائیڈ پر لگا کر اپنے عزیز و اقارب کو فون کیا۔ وہاں سے اسے ہدایت کی گئی کہ وہ 130 پر کال کرے، جو موٹر وے پولیس کی ہیلپ لائن ہے۔ اس نے کال کی اور اپنی پوزیشن بتائی تو بقول خاتون کے جواب ملا کہ یہ علاقہ ان کی بیٹ میں شامل نہیں ایک تنہا عورت جو اپنے معصوم بچوں کے ساتھ اس بھروسے پر سفر کر رہی تھی وہ موٹر وے کے راستے جا رہی ہے جہاں کسی کو کوئی کھٹکا نہیں ہوتا، اچانک نمودار ہونے والے دو درندوں کی آمد پر پریشان ہوئی، اپنی گاڑی کے دروازے اور شیشے لاک کر لئے، غیبی مدد کا انتظار ہی کر رہی تھی کہ دونوں درندوں نے بٹ مار کے ڈرائیونگ سیٹ کا شیشہ توڑ دیا اور گاڑی سے زبردستی خاتون اور اس کے بچوں کو نکال کر موٹر وے کے ایک ادھورے جنگلے سے گزار کر نیچے ویرانے میں لے گئے پھر جو کچھ ہوا وہ پورے معاشرے کے لئے باعث شرم ہے کافی دیر بعد جب خاتون کے ورثاء موقع پر پہنچے تو انہوں نے دلخراش مناظر دیکھے انہیں یوں لگا جیسے وہ موٹر وے پر نہیں،بلکہ جنگل میں کھڑے ہیں، جہاں کسی وقت بھی کوئی درندہ نمودار ہو کر ان کی بوٹیاں نوچ سکتا ہے حیرت ہے کہ مظلوم عورت کے ورثاء تو میلوں کا سفر کر کے موقع پر پہنچ گئے لیکن موٹر وے پولیس یا تھانہ گجر پورہ کی پولیس نہیں پہنچ سکی۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار بھی اب ٹویٹ کرتے ہیں انہوں نے حسب معمول اس سانحے کا فوری نوٹس لیا اور کہہ دیا کہ درندوں کو عبرت ناک سزا دی جائے گی۔ نہیں صاحب اب یہ کھوکھلے نوٹس یہ کھوکھلے بیانات عوام کے دکھوں کا مداوا نہیں کر سکتے ایسے واقعات کی تلافی کیسے ہو سکتی ہے مظلوم عورت پر جو گزر گئی، اس کے معصوم بچوں نے جو درد ناک مناظر دیکھے ان کا ازالہ تو ممکن ہی نہیں سزائیں ان درندوں کو دینے سے پہلے اس نظام کو دیں جو درندوں کو پال رہا ہے، جس نے انہیں درندگی کا مظاہرہ کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ پہلی سزائیں تو ان لوگوں کو دیں جن کی یہ ذمہ داری تھی کہ موٹر وے پر سفر کو محفوظ بنائیں، ان کی وردیاں اتروائیں انہیں نشانِ عبرت بنائیں، جو ایک خاتون کی کال سن کر ایسے بے حس جملے بولتے رہے کہ یہ ہماری بیٹ نہیں۔

سب سے پہلا استعفا تو آئی جی موٹر وے پولیس کا بنتا ہے جن کے شاہانہ دور میں ایک عورت کی عزت لٹ گئی، انہیں اچھی مثال قائم کرتے ہوئے اپنی نا اہلی اور مجرمانہ غفلت کو تسلیم کر لینا چاہئے کہ موٹر وے کے نئے سیکٹرز پر وہ خاطر خواہ حفاظتی انتظام نہیں کر سکے ان کا یہ فرض تھا کہ اگر موٹر وے پر تمام انتظامات مکمل نہیں ہوئے تو اسے کھولنے پر اعتراض کرتے، سیاسی فائدے کے لئے کئے گئے فیصلوں پر ان کی مجرمانہ خاموشی نے آئنہ دکھایا کہ شرمناک درندگی کی ایک نئی تاریخ رقم ہو گئی۔

جس علاقے میں یہ واردات ہوئی وہ پنجاب پولیس کی حدود میں آتا ہے بلکہ لاہور کے ایک تھانے کی حدود میں ہے ملزمان موٹر وے کا جنگلا توڑ کر نیچے سے موٹر وے پر چڑھے۔ جس کا مطلب ہے کہ موٹر وے کے اردگرد کا علاقہ مجرموں کی آماج گاہ بنا ہوا ہے۔ وہ جب چاہیں واردات کریں اور روپوش ہو جائیں۔ لاہور کے نئے سی سی پی او عمر شیخ کے لئے یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے، ان درندوں کی جلد از جلد گرفتاری اور انہیں عبرت ناک انجام سے دو چار کرنا اب ان کی ذمہ داری ہے صرف یہی نہیں انہیں لاہور کی حدود سے گزرتی موٹر وے کے اردگرد واقع بستیوں میں بھی آپریشن کلین اپ کرنا چاہئے، تاکہ معلوم ہو سکے ان علاقوں میں کتنے گینگ پناہ لئے ہوئے ہیں اس واقعہ نے پہلے سے عدم تحفظ کا شکار معاشرے میں خوف کی ایک نئی لہر دوڑا دی ہے۔ اب شاید ہی کوئی خاتون اپنے بچوں کے ساتھ موٹر وے پر سفر کرنے کی جرأت کرے،بلکہ خود اس کے ورثاء اس سفر کی قطعاً اجازت نہیں دیں گے۔ ایک محفوظ سفر بھی درندگی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ عمران خان کے دورِ حکومت میں کیسے کیسے واقعات رونما ہو رہے ہیں کبھی کوئی آئی جی کوئی بڑا افسر کسی بڑی واردات کی وجہ سے نہیں بدلا گیا البتہ اپنے مقاصد پر پورا نہ اترنے والوں کی تبدیلی میں دیر نہیں لگائی جاتی۔ گڈ گورننس تو دور کی بات ہے ارے بھائی کہیں گورننس ہی دکھا دو!

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں