0

محرم الحرام تقدس واحترام کامہینہ

محرم الحرام تقدس واحترام کامہینہ

ماہ محرم جو اسلامی کلینڈر جسے ہجری بھی کہا جاتا ہے کا پہلا مہینہ ہے جس سے اسلامی سال نو کا آغاز ہوتا ہے اس ماہ مقدس میں کئی اہم واقعات رونما ہوئے جو مسلمانان عالم کے لئے بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ اسی ماہ امام الانبیا حضرت محمد مصطفی ﷺ  نے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی۔ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کا واقعہ ظہور پذیر ہوا۔ حضرت موسی علیہ السلام کو اللہ تعالی نے فرعون سے تحفظ فرمانے کے لئے دریا کو دو حصوں میں تقسیم کیا جب حضرت موسی اور ان کی قوم نے دریا عبور کر لیا اورفرعون اپنے لشکر سمیت اس میں داخل ہوا تو اسے خداوند کریم نے غرق کردیا اس مہینہ کی پہلی تاریخ کو حضرت عمر فارؓوق کو شہید کیا گیا۔ اس ماہ کے پہلے دس دنوں میں واقعہ کربلا پیش آیا جو تاریخ انسانیت کا ایک المناک باب ہے۔ دیگر مذاہب کے لوگ اپنے نئے سال کی آمد پر خوشیاں منا کر اس کا استقبال کرتے ہیں مگرمسلمانوں کے لئے ایسا کرنا ممکن نہیں کہ اس ماہ میں حضرت عمر فاروؓق ؑاور نواسہ رسولﷺ حضرت حسین ؑاور ان کے اہل خانہ کوشہید کیا گیا۔ بہ ایں وجہ مسلمانوں کے لئے یہ مہینہ حزن و ملال سے شروع ہوتا ہے اس میں مسلمان نہ تو کوئی تہوار مناتے ہیں، شادی بیاہ اوردوسری مسرت آمیز تقریبات سے اجتناب کرتے ہیں، کسی بھی قسم کی خوشی کی کوئی تقریب منعقد نہیں کی جاتی بلکہ اس ماہ محترم میں مسلمان عبادت کرتے ہیں، نوافل ادا کرتے ہیں، روزے رکھے جاتے ہیں، خیراتیں دی جاتی ہیں، غرباء میں نیاز تقسیم کی جاتی ہے اور اس مہینہ کو احترام وتکریم کے ساتھ مذہبی عبادات اوراقدار تک محدود رکھا جاتا ہے۔ واقعہ کربلا جو حق و باطل کا معرکہ تھا جہاں ایک طرف یزید کا لشکر تھا اور دوسری جانب 72افراد جو قافلہ حسینؑ  میں شامل تھے۔ جن میں اہل بیت سمیت جملہ اصحاب حسینؑ شامل تھے جن کے اسما گرامی طوالت کے باعث یہاں احاطہ تحریر میں نہیں لائے جا سکتے۔ یزید نے خلاف اسلام اپنے والد امیر معاویہ کے انتقال کے بعد ملوکیت کا اعلان کیا اورخود بادشاہ بن بیٹھا،جو قطعا ًخلاف اسلام تھا اصل میں یہ دیکھا جائے کہ فلسفہ کربلا تھا کیا۔ فلسفہ کو عام معنوں میں اس خیال کو کہا جاتا ہے جو کسی اعلی ذہن میں کسی اچھوتے خیال کی آمد سے تعبیر ہے۔

جتنے بھی فلاسفرز نے جوفلسفے تخلیق کئے ان میں سے اکثر نے اس کی عملی تصویر پیش نہیں کی۔ فلسفہ کربلا اس لئے ان سے منفرد حیثیت کا حامل ہے کہ فلسفہ کربلا میں نواسہ رسولﷺنے نہ صرف خود بلکہ اہل بیت مطاہر اور قافلہ حسینی ؑمیں شامل تمام برگزیدہ شخصیات جن میں معزز خواتین، بزرگ، بچے اور جوان شامل تھے نے عظیم قربانیاں دے کر فلسفہ کربلا کی عملی تصویر پیش کی اور نوک سناں پر بھوک اور پیاس وگرمی کی شدت و حدت کے باوجود حق و صداقت پر قائم رہے اور جام شہادت نوش کیا مگرباطل کے سامنے سر نہیں جھکایا جس کے باعث فلسفہ کربلا کو ایک آفاقی حیثیت حاصل ہے۔ تاریخ عالم میں اتنی اوالعزمی اور ثابت قدمی اور قربانیوں کی مثال نہیں ملتی جو واقعہ کربلامیں پیش کی گئی۔ یزید کی فوج نے تین دن تک قافلہ حسینی میں شامل افراد پر پانی اور خوراک تک بند کر دی تھی۔ حضرت حسین ؑجن کی عمر مبارک اس وقت پچپن برس تھی اور ان کے ننھے شیر خوار صاحبزادے علی اصغر جن کی عمر مبارک صرف چھ ماہ تھی پر بھی پانی بند کر دیا گیا اور دس محرم الحرم کو جب حسین ؑ ننھے علی اصغر کو لے کر خیمہ سے باہر تشریف لائے اور یزیدی فوج سے کہا کہ مجھے نہیں تو کم از کم اس شیر خوار کو تو پانی دے دو، مگر ظالم یزیدی فوج نے پانی فراہم کرنے کے بجائے  ننھے علی اصغرکو بھی تیر مار کر شہید کر دیاجب  یزیدی فوج کے مظالم حد سے بڑھنے لگے تو حضرت حسین ؑنے چراغ گل کرکے اپنے خیمہ میں موجود تمام ساتھیوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اب یزیدی فوج ہمیں ہر صورت شہید کرکے ہی دم لے گی جس جس کو جانا ہو وہ جا سکتا ہے۔ مگر آفرین ہے کہ جب دوبارہ چراغ جلائے گئے توسب لوگ خیمے میں موجود تھے اور کوئی بھی نہیں گیا اور دس محرم کویزیدی افواج نے حسینؑ سمیت تمام مرد حضرات کوشہید کر دیا اور خواتین کوزیر حراست لے لیا اور یوں قافلہ حسینی ؑ نے جام شہادت نوش کرکے فلسفہ کربلا کی عملی تصویر پیش کی جس کے باعث رہتی دنیا تک فلسفہ کربلا زندہ رہے گا۔

کیا سکوت چھایا بعد حسین ؑشمسی

خوانخوارکربلا میں خاموش تھیں فضائیں

جب دس محرم کے المناک واقعہ کربلا کے بعد تمام قافلہ حسینی کے برگزیدہ مردوں کو شہید کر دیا گیا تو مردوں میں صرف حضرت زین العابدین بیماری کے باعث محفوظ رہے تو ان سمیت زندہ بچ جانے والی خواتین کو ایک کارواں کی شکل میں بے پردہ کرکے کوفہ سے شام دربار یزید میں لایا گیا وہ پاک بیبیاں جن کے گھر فرشتے بھی اجازت طلب کرکے آتے تھے۔

ؔ بذن جن کے گھر میں آتے نہ تھے فرشتے

ان بیبیوں کو ظالم دربار میں بلائیں

جب یہ بیبیاں بے پردہ دربار یزید میں پہنچیں توحضرت امام زین العابدین نے خطبہ دیا تودربار یزید میں ہلچل مچ گئی۔ درباریوں کے سر جھک گئے جس سے یزید کے دربار میں آوازیں ابھرنے لگیں۔ اس اثناء میں حضرت حسین ؑ کا سر مبارک ایک طشت میں رکھ کر یزید کے سامنے لایا گیا تو وہ اپنی چھڑی حضرت حسین ؑ کے مبارک دانتوں پر تضحیک آمیز انداز میں پھیرنے لگا۔اس کے سامنے زنجیروں میں جکڑے سادات کھڑے تھے جب یزید نے یہ گھناؤنی حرکت کی تو حضرت حسین ؑ کی ہمشیرہ محترمہ بی بی زینب سے یہ برداشت نہ ہوسکا اور انہوں نے گرجدار آواز میں جلالی خطبہ دیا ”انہوں نے قرآن کریم کی صورت آل عمران کی آیات کریمہ 169کا حوالہ دیتے ہوئے خطاب کیا انہوں نے یزید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جنہوں نے حق کی سربلندی کے لیے جام شہادت نوش کیا وہ حقیقی فاتح ہیں تو آج یہ سمجھ رہا ہے کہ تیری جیت ہوگئی یہ تیری خام خیالی ہے جب خداوند کریم کے حضور حساب و کتاب کا وقت آئے گا تو تو اپنی ذلت دیکھے گا۔تجھ پر قہر خداوندی نازل ہوگا۔آج تو نے اہل بیت پر زمین وآسمان کے راستے مسدود کر دئیے ہیں تو نے سوچا کہ اس سے ہمارے مقام و منزلت میں کمی آئے گی،یہ تیری خوشی عارضی ہے اور تو بہت جلد اپنے بھیانک وعبرتناک انجام کو پہنچے گا۔ تیرے نام سے لوگ نفرت کریں گے۔ آج میدان کرب وبلا میں کاروان حسینؑ میں شامل محترم شخصیات کے بے گورو کفن لاشے پڑے ہیں۔ خلاق عالم ہمیشہ تجھ جیسے گناہ گاروں کو مہلت دیتا ہے کہ سنبھل جائیں وہ تیرے گھناؤنے جرائم اور گناہ کبیرہ جمع کررہا ہے اور تیرا عبرتناک انجام ایک اٹل حقیقت ہے۔ تیرا نام لینے والا بھی کوئی نہ ہوگا۔“

واقعہ کربلا میں بی بی زینب کے اس خطبہ کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کربلا کے واقعہ میں خواتین اہل بیت مطاہر نے ایک اہم کردار ادا کیااور اب یہ حقیقت بھی عیاں ہے کہ یزید کے پندرہ بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھیں جبکہ اس کی اولاد میں کوئی باقی نہیں بچا اور اس کا نام لینے والا کوئی نہیں ہے۔جبکہ اہل سادات آپ کو ہر جگہ ملیں گے۔

حضرت امام حسین ؑکی شہادت کاسب سے بنیادی پیغام یہ ہے کہ آدمی  دین حق کی سربلندی کے لیے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کرے۔ یزید کی بیعت کے وقت بھی ایسی ہی صورتحال تھی اگر امام حسینؓ اوران کے رفقاء کربلامیں قربانی نہ دیتے تو آج پوری دنیا میں کفر و الحاد کا دور دورہ ہوتا حضرت امام حسین ؑ اوران کے رفقا کی عظیم قربانی یہ درس دیتی ہے کہ ہم کشمیر، فلسطین اور دنیا میں جہاں بھی مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے  ان کے ساتھ شانہ بشانہ ہوکر ان کی بھر پور مدد کرنا چاہئے۔ بے شک حق ہمیشہ کے لیے امر ہے جبکہ باطل مٹ کر رہے گا۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں