Home » ماضی کے حکمرانوں پر تنقید کب تک؟

ماضی کے حکمرانوں پر تنقید کب تک؟

by ONENEWS

ماضی کے حکمرانوں پر تنقید کب تک؟

سینیٹ میں وفاقی وزیر عمر ایوب کی ایک بات سن کر سٹیج اداکار مرحوم ببوبرال کی جگت جیسا مزا آیا، سینیٹر شیری رحمن نے بجلی کے بریک ڈاؤن پر جب دِل کھول کر تنقید کی اور جواب مانگا کہ آخر یہ سب کیوں ہوا، تو عمر ایوب نے جواب میں کہا یہ سب پچھلی حکومتوں کی بداعمالیوں کا نتیجہ ہے۔ یہ کہتے ہوئے اُنہیں ذرہ بھر احساسِ ندامت نہیں ہوا کہ جن پچھلی حکومتوں پر وہ نزلہ گرا رہے تھے،اُن کا بنفس ِ نفیس حصہ تھے۔ وزارتوں کے مزے لوٹے، بداعمالیوں میں حصہ دار رہے اور وقت ِ زوال آیا تو کشتی سے چھلانگ لگا کر تیرتی کشتی میں سوار ہو گئے۔یہ ماجرا صرف عمر ایوب کے ہی ساتھ نہیں، خود کپتان بھی ہر خرابی کا دفاع یہی کہہ کر فرماتے ہیں کہ پچھلی حکومتوں نے ملک کو جس حال تک پہنچا دیا ہے،اُس کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔ براڈ شیٹ کا معاملہ ہو یا ملائشیا میں پی آئی اے کے طیارے کو روک لینے کا واقعہ، حکومت کا ہر وزیر مشیر ایک ہی دور کی کوڑی لاتا ہے کہ سب کچھ ماضی کے حکمرانوں کا کِیا دھرا ہے۔اگر کہا جائے بھائی اُن کے اپنے ادوار میں تو ایسا نہیں ہوا، پھر اب کیوں ہو رہا ہے تو جواب ملے گا انہوں نے جعلی طور پر حقیقتوں پر پردہ ڈالا ہوا تھا۔ یہ پہلی حکومت ہے جو اپنی آئینی مدت کا آدھا عرصہ گزار چکی ہے،لیکن دلیل اُس کے پاس آج بھی یہی ہے کہ ماضی کے حکمرانوں کی لوٹ مار کے نتائج بھگت رہے ہیں۔کیا اسی بیانیے کے سہارے اگلے اڑھائی برس بھی گزارے جائیں گے؟ کیا اسی بیانیے کو لے کر آئندہ انتخابات میں حصہ لیا جائے گا کہ پانچ سال تو پچھلے حکمرانوں کا پھیلایا گند صاف کرتے گذر گئے، اب پانچ سال اور دیئے جائیں تاکہ عوام کے لئے کچھ کیا جا سکے۔

ایک ہی عذر کتنی بار پیش کیا جا سکتا ہے، عام آدمی کو بھی بار بار ایک ہی بہانہ کرتے ہوئے حجاب محسوس ہوتا ہے،لیکن آج کے وزراء کی تربیت کچھ ایسی ہوئی ہے کہ وہ بار بار ایک ہی بات دہراتے ہوئے ذرہ بھر نہیں گھبراتے،آج لوگ احتجاج کر رہے ہیں کہ مہینے میں دو بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کیوں بڑھائی گئی  ہیں، جبکہ عالمی سطح پر پٹرول کی قیمت میں کمی آئی ہے۔ ویسے بھی پاکستان اس وقت مہنگائی کی شرح کے لحاظ سے پورے خطے میں سب سے آگے کھڑا ہے، ایسے میں عوام کو ریلیف دینے کی ضرورت ہے،لیکن حکومت اُس پر بوجھ ڈالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔ آپ دیکھیں گے اس افسانے کا دفاع کرنے کے لئے وزراء اور ترجمان وہی موقف دہرائیں گے۔ یہی کہیں گے کہ جو لوگ یہاں تیس برس تک حکمران رہے، انہوں نے ہمیں اس قابل ہی نہیں چھوڑا کہ ہم تیل سستا کر سکیں۔ سوال یہ ہے کہ حکومت اپنے پیروں پر کب کھڑی ہو گی، کب یہ ذمہ داری قبول کرے گی کہ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس کے فیصلوں کا کِیا  دھرا ہے۔اب چینی کے کارخانہ مالکان، گنے کے کاشتکار اور صارفین یہ دہائی دے رہے ہیں کہ چینی دوبارہ مہنگی ہو رہی ہے۔ کاشت کاروں کو صحیح معاوضہ نہیں مل رہا اور کارخانہ دار کہہ رہے ہیں گنا مہنگے داموں خرید رہے ہیں، جس سے آگے چل کر چینی کا بحران پیدا ہو جائے گا۔یہی موقع ہے کہ حکومت حرکت میں آئے اور صورتِ حال کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرے،لیکن نہیں صاحب حکومت کا یہ کام ہی نہیں،اُس کا کام تو تب شروع ہو گا جب چینی نایاب ہو جائے گی،مہنگی فروخت ہو گی، تب اُس کے وزیر و مشیر میدان میں آئیں گے اور ماضی کے حکمرانوں پر تابڑ توڑ حملے کر کے یہ ثابت کریں گے کہ چینی کا بحران صرف اور صرف اُن کا پیدا کردہ ہے،انہوں نے کرپشن نہ کی ہوتی تو آج چینی سونے کے بھاؤ نہ بکتی۔

کبھی کبھی تو جی کرتا ہے کپتان اور ان کے وزراء کے سامنے پوری قوم ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہو جائے اور یہ التجا کرے، سرکار ہمارا جو بھی حال کریں،لیکن یہ ماضی کے حکمرانوں کی گردان چھوڑ دیں،اس سے ہمارے دماغ کی رگیں پھٹنے لگتی ہیں یہ سوچ کر کہ کیا تبدیلی کو ووٹ اسی لئے دیا تھا کہ آپ صبح و شام یہی کہتے رہیں کہ لوٹنے والوں نے اس ملک کو کسی قابل نہیں چھوڑا۔ کوئی امید بر نہیں آتی،کوئی صورت نظر نہیں آتی، والی کیفیت میں پورا پاکستان کیوں ڈوبا ہوا ہے۔ سپریم کورٹ کے جج صاحبان آئے دن یہ آبزرویشن دیتے ہیں حکومت کا کوئی محکمہ درست کام نہیں کر رہا۔اُن کی بات بھی سنی اَن سنی کر دی جاتی  ہے، شکر ہے وہاں جا کر اٹارنی جنرل یہ نہیں کہتے کہ حضور یہ سب ماضی کی حکومتوں کا کِیا دھرا ہے۔ ہم تو کام کرنا چاہتے ہیں، مگر جو  زنگ وہ حکومتیں لگا گئی ہیں وہ صاف ہونے کا نام نہیں لے رہا۔دُنیا میں شاید ہی کسی ملک کی حکومت اپنی کارکردگی دکھانے کی بجائے اس نکتے پر چلائی گئی ہو کہ ماضی کے حکمران چور تھے، سب خرابیاں اُن کی پیدا کردہ ہیں، ماضی میں کبھی  پاکستان کا یہ حال نہیں ہوا تھا، جو اب ہو چکا ہے، عوام کو آٹا،دال، چاول، چینی اور دیگر اشیاء سستے داموں ملی جاتی تھیں۔ اگر اب لوٹ مار بند ہے، یہ اشیاء عوام کی پہنچ سے دور کیوں ہو چکی ہیں۔ بناسپتی گھی 300 روپے کلو تک پہنچ گیا ہے اور آٹا ”لوٹ مار کے دور“ کی نسبت50روپے کلو مہنگا مل رہا ہے، عوام کی بے بسی یہ ہے کہ حکمران انہیں اچھے دِنوں کی امید تک نہیں دلاتے، پہلے کپتان جی کہتے تھے جلد اچھے دن آنے والے ہیں، اب انہوں نے اپنا بیانیہ تبدیل کر لیا ہے۔ وہ اب ایسے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے اُس جادو کی چھڑی کے نہ ہونے کا ذکر کرتے ہیں،جو الیکشن مہم کے دوران اُن کے پاس ہوا کرتی تھی۔ کاش کسی دن وزیراعظم عمران خان اپنی کابینہ کے اجلاس میں یہ واشگاف اعلان کریں کہ آج سے ہم یہ عذر پیش نہیں کریں گے کہ ہماری بُری کارکردگی ماضی کی حکومتوں کے سیاہ کارناموں کی وجہ سے ہے، آج سے ہم اپنے اعمال کے خود جوابدہ ہوں گے۔ ملک میں جو خرابی بھی نظرآئے گی وہ ہماری وجہ سے ہو گی اور خوبی کا کریڈیٹ بھی ہم خود لیں گے،ہر وزیر کو پتہ ہو گا کہ اب بُری کارکردگی کا ذمہ دار ماضی کے حکمرانوں کو نہیں ٹھہرایا جا سکے گا۔ ہر خرابی، ہر کوتاہی موجودہ وزیروں پر ہو گی۔بجلی کے بریک ڈاؤن پر وزیر برطرف ہو گا اور چینی کی نایابی پر پیداوار اور خوراک کے وزراء ذمہ دار ہوں گے،فیصلہ اب وزیراعظم کو کرنا ہے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment