Home » لے وئی یارحوالے رب دے

لے وئی یارحوالے رب دے

by ONENEWS

لے وئی یارحوالے رب دے

اؤے رانڑیاقہوہ بنوا میں نماز پڑھ کے آیا،اور پھر میں رؤف طاہر بھائی کا منتظر ہو جاتا۔وہ اکثر میرے کاندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے پروفیسر خالد ہمایوں اور عامر خان کو کہتے ویسے رانڑا اندر سے پورے کا پورا سبز ہے باہر سے ایویں سر خابنا پھرتا ہے۔اپنے انتقال سے دو روز قبل وہ مجھے کہنے لگے ”یار اک گل دساں“ جب بندہ اللہ کے سامنے جائے تو اس کے پلے کچھ نا کچھ ایسا ہونا چاہیے کہ شرمندگی نہ ہو،میں نے کہا تہانوں اس کے پاس پیش ہونے کی  بڑی جلدی ہے۔رؤف طاہر بولے اؤ ے کوئی”پتہ چلدااے کدوں بلاوا آجائے“۔

میرے سامنے وہی کرسی پڑی ہے جہاں رؤف طاہر بیٹھا کرتے تھے،اور مسکرا مسکرا کر مجھے محبت بھری جگتیں مارتے تھے۔خالی کرسی،بے جان کمرہ،بے جان،بے روح کمرے کی فضاء، رؤف بھائی ”اینج نئیں کری دا“۔ایسے تھوڑا اداس کرتے ہیں اپنے پیاروں کو۔آپ ایک آدھ دن نہیں آتے تھے تو میری بے چینی بڑھ جاتی تھی،فون کرتا بھائی جان دل اداس ہے چکر ہی لگا لو۔اب مجھے بتاؤ ایثار کے بھائی جان کہاں فون کروں،کس سے کہوں رؤف بھائی دل اداس ہے۔کس سے کہوں کہ آؤ نا یا ر مجھے جگتیں مارو میری دن بھر کی تھکن غیر محسوس انداز میں دور کر دو کبھی کبھی تو آپ میں مجھے میری ماں نظر آتی تھیں۔مجھے سیہانے والی،میری کامیابیوں پر پر نور چہرے کے ساتھ مسکرانے والی،میرے ہاتھوں کے چھالوں کو محبت سے چومنے والی،رؤف طاہر بھائی ایک عرصہ بعد تو کوئی ایثار رانا سے باتیں کرنے والا ملا تھا۔کیا غلطی کی ہم نے اتنی عجلت میں منہ موڑ گئے۔مجھے آپ کے سیاسی نظریات سے چڑ تھی لیکن آپ کی وجہ سے مجھے ان سے بھی محبت ہو چلی تھی،سید ابو اعلیٰ مودودی کا میں پہلے سے ہی بہت عقدت مند تھا ان کی وجہ سے اور بڑھی تھی۔میں کیسے آپ کے سامنے ادنیٰ سا طالبعلم ہو جاتا تھا اور آپ کیسے مجھے بچوں کی طرح سکھاتے تھے اور جاتے ہوئے کہتے تھے میں ”ایس رانڑے توں بہت سکھیا اے“۔

اب بتاؤ کیسے واپس لاؤں آپ کو،کس سے کہوں کہ رؤف طاہر کی جدائی میں بس ان کے بچوں کے آنسو صاف نہ کرو،میرا گیلا دامن کون دیکھے گا۔علامہ سعید اظہر کے انتقال پر میرے کالم پر آپ نے کہا تھا رانڑے کیا شاندار تعزیتی کالم لکھا ہے۔مجھے بتائیں کیا میں شاندار تعزیتی کالموں کے لئے ہی رہ گیا۔یہ دنیا کیوں سعید اظہروں،جمیل قیصروں،رؤف طاہروں سے خالی ہوتی جا رہی ہے۔منافقت کی آلودہ فضا میں آپ جیسے ہی تو پاکیزگی کی علامت تھے۔آپ کا ہلکا سا تبسم کیسے اس کثافت زدہ فضا میں روشنیوں کا ارتعاش پیدا کرتا تھا۔منافقت،خود غرضی،چھینا جھپٹی کی اس دنیا میں دان کرنے والے، بلیدان کرنے والے اور محبتوں،بے لوث رشتوں کا احسان کرنے والے کیوں دور ہو رہے ہیں۔

اے رب ذوالجلال،اے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے،اے کائنات کے حقیقی بادشاہ ہم پر رحم کر یہ جو چند رحمتوں کے جزیرے ہیں انہیں ہم سے نہ چھین،رؤف طاہروں کو اس معاشرے میں رہنے دے۔ اس معاشرے سے برکت نہ چھین،میرے مالک میرے آقا (میرے نبی رسول اللہ ؑکے) رؤف بھائی تیرے دربار پہنچ چکے۔میرا یقین ہے،میرا ایمان ہے تو ان سے خوش ہو گا۔انہیں آقائے نامدار رحمت عالم نبی آخر الزماں ؑ کی شفاعت مل چکی ہو گی۔جنت کے بہترین باغ ان کے اعزاز میں بخشے جا چکے ہونگے۔جنت کی فضائیں رؤف طاہر کی مسکراہٹوں سے مزید منور ہو گئی ہو گی۔

رؤف طاہر پاہ جی،”میں کی کراں“میری مٹھی سے میرے پیارے آہستہ آہستہ بھر بھری ریت کی طرح سرکتے جا رہے ہیں۔جانتا ہوں کسی نے اس جگ میں سدا نہیں رہنا،رؤف طاہر بھی چلے گئے اور جلد چلے گئے۔لیکن وہ ہمیشہ اپنی تحریروں میں ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔وہ ہمیشہ صحافت کی تاریخ میں پاکباز قلمکاروں کی صفت میں نمایاں رہیں گے۔میرے پاس اس وقت دو ہی چیزیں ہیں آنسو اور دعا،وہ میں دونوں رؤف طاہر بھائی کے نام کرتا ہوں۔

لے وی یار حوالے رب دے

میلے چار دناں دے

اس دن عید مبارک ہو سی

جس دن فیر مِلاں گے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment