Home » لوڈشیڈنگ کی دھواں دار واپسی

لوڈشیڈنگ کی دھواں دار واپسی

by ONENEWS


لوڈشیڈنگ کی دھواں دار واپسی

عقل حیران ہے کہ یہ کم بخت ماری لوڈشیڈنگ کیسے واپس آ گئی۔ وہ بھی شدید گرمی میں جب بغیر پنکھے کے ایک پل بھی گذارنا عذاب ہے۔ چند دن پہلے تک تو روزانہ کراچی والوں کی دہائیاں ہی سنائی دیتی تھیں، جنہیں کے الیکٹرک نے کئی کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ سے نڈھال کر رکھا ہے،لیکن بہت جلد کورونا وباء کی طرح لوڈشیڈنگ بھی ایک وبا بن کر پنجاب پہنچ گئی۔ آج حکومت کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں،لوگ گرمی سے کملائے ہوئے دہاڑے مار رہے ہیں،مگر کوئی ایسا نہیں جو انہیں بتا سکے ایسا کیوں ہو رہا ہے۔یہ حکومت تو اس بات کا کریڈٹ لیتی تھی کہ اُس نے لوڈشیڈنگ ختم کر دی ہے۔مسلم لیگی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے موجودہ حکومت کے وزراء یہ مثال بھی دیتے تھے کہ لوٹ مار ختم ہوئی ہے، تو بجلی بھی واپس آ گئی ہے۔ اس حوالے سے عمر ایوب خوشنما ٹویٹ کرتے تھے، عمران خان کو نجات دہندہ قرار دیتے تھے، جن کے آتے ہی بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم ہو گئی،لیکن لگتا ہے یہ بھی وقتی اور مصنوعی ریلیف تھا، جو اب ختم ہو گیا ہے، حالانکہ بجلی کی کھپت پہلے سے کم ہے، بازار سات بجے بند ہو جاتے ہیں،ہفتے میں دو دن مکمل لاک ڈاؤن ہوتا ہے، تعلیمی ادارے، شاپنگ مالز، سینما ہالز، تھیٹرز سب بند ہیں، مگر اس کے باوجود اگر چھ سے آٹھ گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے تو سمجھ جانا چاہئے کہ کہیں نہ کہیں کوئی بہت بڑا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔

اُدھر ایڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں بجلی کے منصوبوں اور واپڈا کے مالی معاملات میں 300 ارب روپے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف کیا ہے۔ یہ آڈٹ رپورٹ تحریک انصاف کے دورِ حکومت کی ہے یہ بذاتِ خود ایک بہت بڑی خبر ہے۔یہ حکومت تو شفافیت کا نعرہ لگائے آئی تھی، پھر اس میں یہ کیا ہوتا رہا کہ300ارب روپے بے ضابطہ طور پر خرچ کر دیئے گئے کہ اگر لوڈشیڈنگ نہ ہو رہی ہوتی تو شاید اس سے بھی عوام درگزر کرتے،مگر انہیں تو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی طرف سے یہ کہانیاں سنائی جا رہی ہیں کہ سسٹم کو چونکہ اَپ گریڈ نہیں کیا گیا،اِس لئے بجلی کی ترسیل میں رکاوٹیں آ رہی ہیں۔یہ کھربوں روپے آخر کس مد میں خرچ کئے گئے اگر سسٹم اَپ گریڈ نہیں کیا گیا۔یہ آخر ماجرا کیا ہے؟ کوئی تو اس کا جواب دے۔ اس دور میں تو یہ دعوے بھی بہت کئے گئے تھے کہ بجلی چوری کو بڑی حد تک روک دیا گیا ہے اور اس ضمن میں اربوں روپے کی بچت ہوتی ہے۔گویا دعوے تو سب مثبت تھے پھر نتائج کیوں منفی آ رہے ہیں۔بجلی کمپنیوں نے اسی سسٹم کے تحت پچھلے سال لوڈشیڈنگ نہیں کی،اس برس ماہِ رمضان میں بھی بلا تعطل بجلی فراہم کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہی سسٹم گر بجلی ہو تو ہر جگہ پہنچا سکتا ہے۔صاف کیوں نہیں کہا جاتا کہ حکومت بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو ادائیگی نہیں کر پا رہی، جس کی وجہ سے بجلی کی پیداوار کم کر دی گئی ہے۔ سرکلر ڈیڈ جب یہ حکومت آئی تھی، بہت کم تھا، اب اُس میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے،اس کی ادائیگی کیسے ہو گی، ادائیگی نہیں ہو گی تو بجلی کیسے پیدا ہو گی، طلب کیسے پوری ہو گی۔

اپنی حکومت کے پہلے سال تو تحریک انصاف نے لوڈشیڈنگ کو اس حد تک قصہئ پارینہ بنا دیا تھا کہ لوگو ں نے اپنے یو پی ایس بیچ دیئے، جنریٹر اتار کر رکھ دیئے، ڈرائی بیٹریوں کی قیمتیں گر گئیں اور عوام بھول گئے کہ انہیں واپڈا کی بجلی کے سوا بھی کوئی متبادل انتظام کرنا ہے،مگر یہ کیا، لوڈشیڈنگ میں بھی اتنا بڑا یو ٹرن،پہلے دور سے بھی زیادہ تکلیف دہ لوڈشیڈنگ۔حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں تو عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا تھا، تاہم وہ اس بات کو بھی بڑا ریلیف سمجھتے تھے کہ لوڈشیڈنگ ختم ہو گئی ہے، انہیں کیا معلوم تھا کہ یہ ریلیف بھی جلد ہی پانی کا بلبلہ ثابت ہو گا۔اس بار تو لوڈشیڈنگ عوام کو دہرے عذاب سے مبتلا کر رہی ہے۔کورونا کی وجہ سے لوگوں کا زیادہ تر وقت گھروں میں گزر رہا ہے،مگر گھروں میں بجلی نہ ہونے سے وہ ایک اذیت ناک صورتِ حال سے گذرتے ہیں،کئی گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے باعث پانی کی قلت بھی ہو جاتی ہے۔گویا گرمی سے نجات کے لئے نہا بھی نہیں سکتے۔مَیں اپنے ملتان کا ذکر کرتا ہوں، جہاں کا درجہ حرارت آج کل45 یا46 ڈگری سنٹی گریڈ رہتا ہے۔یہ ایسی گرمی ہے کہ آپ باہر نکلیں تو جسم جھلس جاتا ہے اور گھر میں بجلی کے بغیر ہوں تو حبس اور پسینے کی وجہ سے سانس لینا دشوار ہوتا ہے، صرف پنکھا ہی ہے جو لوگوں کو سانس لینے کے قابل بناتا ہے، مگر بجلی ہو گی تو پنکھا چلے گا، لوگوں کی برداشت جواب دے رہی ہے اور صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ حرم گیٹ اور نواں شہر میں عوامی مظاہرے ہو چکے ہیں اور کئی تنظیموں نے دھمکی دی ہے کہ لوڈشیڈنگ ختم نہ کی گئی تو مظاہروں میں شدت لائی جائے گی اور میپکو کے مرکزی دفتر کا گھیراؤ کیا جائے گا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ملتان کے عوام کو اپنا کوئی عوامی نمائندہ بھی دستیاب نہیں۔ شاہ محمود قریشی جن پر اس حوالے سے بہت تنقید ہو رہی ہے کہ انہوں نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے معاملے میں ملتان کو نظر انداز کر دیا اور سارا کچھ بہاولپور کو دے دیا، آج کل کورونا پازیٹو آنے پر آئسولیشن میں چلے گئے ہیں، اُن کے حلقے میں پاور لومز بھی بہت ہیں جو لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بُری طرح متاثر ہو رہی ہیں،لوگ یہ چاہتے تھے کہ وہ آگے بڑھیں اور بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ پر میپکو انتظامیہ کا محاسبہ کریں،مگر وہ تو منظر سے غائب ہو گئے ہیں۔ ہمارے دوست شوکت علوی نے جن کا تعلق تحریک انصاف سے ہے، آج کل اپنے ہی وزراء اور ارکانِ اسمبلی کے خلاف لٹھ اٹھایا ہوا ہے۔ وہ پنجاب کے وزیر توانائی ڈاکٹر محمد اختر ملک کی بھی سوشل میڈیا پر پوسٹیں لگا کر تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اُن سے پوچھیں کہ لوڈشیڈنگ کا عذاب کس وجہ سے شدت اختیار کر گیا ہے۔ یہی تحریک انصاف کے وزراء شہباز شریف کا مذاق اڑاتے تھے کہ انہوں نے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی کئی تاریخیں دیں، مگر لوڈشیڈنگ ختم نہ کر سکے۔ دیکھو ہم نے آتے ہی ختم کر دی، مگر اب یہی وزراء منہ چھپاتے پھر رہے ہیں،پس ثابت ہوا کہ اس ملک کے کچھ بنیادی مسائل ایسے ہیں،جن سے کوئی جماعت بھی حکومت بنائے چھٹکارا نہیں دِلا سکتی، اُن میں سرفہرست مسئلہ لوڈشیڈنگ ہے،جس کی وجہ سے اس حکومت کے لئے بھی عوام کا پارہ بس اب گرم ہوا ہی چاہتا ہے۔

مزید :

رائےکالم





Source link

You may also like

Leave a Comment