Home » لوزٹاک کےبعدانورمقصود کے ساتھ”میرے آنگن سے”دیکھیے

لوزٹاک کےبعدانورمقصود کے ساتھ”میرے آنگن سے”دیکھیے

by ONENEWS

تصویر: یاسر حسین / انسگرام

پاکستان کےمایہ نازلکھاری ، مزاح نگاراورمیزبان انورمقصود کی میزبانی میں پروگرام “لوزٹاک “آج بھی ٹی وی ناظرین کے ذہنوں پرنقش ہے، مرحوم اداکارمعین اخترنے اس پروگرام کے مختلف کرداروں کیلئے جو رُوپ دھارا امر کردیا۔

لوز ٹاک کے ذریعے معاشرے کے تلخ حقائق کو مزاح کے پردے میں لپیٹ کر پیش کرنا انورمقصود کا ہی خاصہ تھا اور یہ پروگرام معین اختر کے بغیر یوں اُدھورا تھا کہ وہ ہر کردارمیں جان ڈال دیتے تھے، قوال، ہارمونیم نواز، پٹھان، سیاستدان سمیت ہراںٹرویومیں ان کی اداکاری بےمثال تھی۔

نجی چینل کیلئے “لوز ٹاک” کی 389اقساط ریکارڈ کروانا بھی معین اختراورانورمقصود کامنفرد اعزازہے۔ یہ پروگرام اپریل 2011 میں معین اخترکی اچانک وفات کے بعد بند کردیا گیا تھا۔

آج بھی اپنے نام کے ساتھ معین کا نام لکھ دیتا ہوں

انورمقصود اب اداکار یاسر حسین کے ہمراہ اُسی طرز کا پروگرام “میرے آنگن سے” لائے ہیں۔ پروگرام کی پہلی قسط 24 نومبرکوجاری کی گئی تھی جس میں عالمی وبا کرونا کے تناظرمیں عوام کی بے احتیاطی اورزوروشور سے نجی تقریبات کے انعقاد کوموضوع بنایا گیا ۔

https://www.youtube.com/watch؟v=X-jrKqiD9fE

یو ٹیوب پر پہلی قسط دیکھنے والوں نے یاسر کی اداکاری کو سراہا لیکن ساتھ ہی معین اختر کو بھی نہ بھولے۔

یاسرحسین نےایک امیرکبیرشخص کا کردار نبھایا جس نے بیٹی کی شادی میں 2 ہزار لوگوں کو مدعوکیا ہے، پروگرام کے آغازمیں یاسرکا لب ولہجہ آپ کو معروف سیاسی شخصیت کی یاد بھی دلاتا ہے۔

انسٹا گرام پر انورمقصود نے “میرے آنگن سے” کی تفصیلات بتاتے ہوئے ٹیزرشیئرکیا جس میں یاسر کو آنے والی اقساط کیلئے مختلف کرداروں میں دیکھاجاسکتا ہے۔

انسٹاصارفین نے اپنے تبصروں میں اس حوالے سے خوشی کااظہارکیا۔

جہاں سوشل میڈیا پر”میرے آنگن سے” کو سراہا گیا وہیں فرحان ظہیرخواجہ نامی ٹوئٹرصارف ضرورت سے زیادہ جذباتی ہوگئے ، ہوسکتا ہےانہیں یاسرحسین پسند نہ ہوں لیکن وہ یہ بھول گئے کہ لوز ٹاک کی طرح نیا پروگرام بھی انورمقصود کا ہی تحریرکردہ ہے جو معیار پرسمجھوتہ نہیں کرتے۔

فرحان نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ” 2020 واقعی ایک بدترین سال ہے، انورمقصود لیجنڈری پروگرام ” لوز ٹاک” کی طرز پر نیا پروگرام شروع کررہے ہیں ۔ یہ بہت ساری سطحوں پر معین اخترکی توہین ہے، ان کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔ ان کی جگہ یاسر حسین کو لینا بدترین ہے۔”

تقریبا 6 ماہ قبل بی بی سی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں  انور مقصود کا کہنا تھا کہ معین اخترجیسا فنکارایک بار ہی پیدا ہوتا ہے۔انہوں نے اپنے پروگرام لوزٹاک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا “میں نے معین سے کہا تھا کہ اپنی طرف سے کھانسنا بھی مت، اپنی طرف سے سانس لینا بھی گوارا نہیں کرنا اور 389 اقساط میں معین نے وہی کیا جو سکرپٹ میں لکھا تھا اور یہ کوئی بڑا ایکٹرہی کرسکتا ہے”۔

معین اختر کے ابتدائ دنوں کی ویڈیوسوشل میڈیا پروائرل

انسٹا لائیو سیشن میں معین اختر کی یاد آنے سے متعلق سوال پر انور مقصود نے شعر پڑھتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے 32 سال معین کیلئے لکھا، کہتے ہیں “مرنے والے یہاں سے گئے، سب یہیں رہ گئے کہاں سے گئے” تومعین یہیں ہے، ہرگھر میں ہے اور ہر ایک کے دل میں ہے۔اکثر میں لوز ٹاک جیسا کوئی پروگرام لکھوں تو اپنا نام لکھنے کے بعد اگلی لائن میں معین کا نام بھی لکھ دیتا ہوں، جو کاٹ کرکسی اورکا نام لکھنا پڑتا ہے۔

اسی انٹرویو میں انورمقصود نے یہ بھی بتایا تھا کہ انہیں اپنے پروگرام ” لوز ٹاک ” کا آئیڈیا بی بی سی ورلڈ سروس کے مقبول پروگرام “ہارڈ ٹاک” کو دیکھ کر آیا تھا۔

https://www.youtube.com/watch؟v=a71y8_fWRcA

چوبیس دسمبر 1950ء کو کراچی میں پیدا ہونے والے معین اختر نے 1966ء میں پی ٹی وی پر یوم دفاع پاکستان پروگرام سے فنی سفر شروع کیا اورچھا گئے۔ان کا شمارپاکستان کے ان فنکاروں میں کیا جاتا تھا جن کے ساتھ کام کرکے بھارتی فنکار بھی فخر محسوس کرتے تھے۔ پیروڈی میں معيین اختر کا کوئی مقابلہ نہ تھا، یہ ان کے فن کا ہی کمال ہے کہ انور مقصود جیسے بڑے رائٹر معین اختر کے بنا اپنی کہانیوں کو ادھورا سمجھتے تھے۔

فنون لطیفہ کے تمام شعبوں میں صلاحیتوں کا جادو جگانے والے معین اختر 22 اپریل 2011 کو کراچی میں حرکت قلب بند ہونے سے چل بسےتھے۔

.

You may also like

Leave a Comment