Home » لداخ میں مودی کی جعلی اسپتال،مریضوں کی عیادت کابھانڈاپھوٹ گیا

لداخ میں مودی کی جعلی اسپتال،مریضوں کی عیادت کابھانڈاپھوٹ گیا

by ONENEWS

چین اور بھارت کے درمیان متنازعہ علاقے لداخ میں مودی کی چلاکیوں کا بھانڈا سوشل میڈیا نے پھوڑ دیا۔ چین کے ڈر سے مودی لداخ گئے ہی نہیں بلکہ 150 کلوميٹر دور دور پھرتے رہے۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے خوب مذاق اڑایا۔

خبر رساں ایجنسی اور سوشل میڈیا پر جاری تفصیلات کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے جعلی اسپتال میں جعلی زخمی فوجیوں سے ملاقات میں اداکاری کے جوہر دیکھنے والے تھے۔

مودی جمعہ 3 جولائی کی صبح اچانک لیہہ پہنچ گئے، مودی کا یہ دورہ 15-16 جون کی درمیانی شب انڈیا چین سرحد پر واقع وادی گلوان میں دونوں ممالک کے فوجیوں کے مابین ایک پُرتشدد تصادم کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے تناظر میں کیا گیا، جس میں انڈین فوج کے 20 فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کو دکھانے کیلئے ہال کو جعلی اسپتال میں تبدیل کیا گیا۔ کانفرنس ہال کی حقیقت کا اندازہ جاری تصویر سے بھی لگایا جا سکتا ہے، جس میں پروجیکٹر کیلئے استعمال ہونے والی مشین نظر آرہی ہے۔ جعلی زخمیوں سے ملاقات کی جو تصاویر سامنے آئی ہیں وہ کسی اسپتال کی نہیں بلکہ ایک کانفرنس روم کی ہیں جہاں عقبی مناظر میں ملٹی میڈیا اور باقی سامان پر سفید چادر نظر آ رہی ہے ۔

یہ ایک ایسا اسپتال تھا جہاں آکسیجن سیلنڈر ہے نہ وینٹیلیٹر، زخمیوں کے لیے نہ تو کوئی ڈرپ نہ ہی کسی زخمی کو کوئی پٹی اور نہ ہی ان بہادر اداکاروں کے علاج کے لیے کوئی ڈاکٹر یا نرس موجود تھی۔ دراصل اس کانفرنس روم میں ہسپتال سے صرف بیڈز لائے گئے تھے ۔

یہ ساری واقعہ گزشتہ ہفتے بھارتی وزیراعظم مودی کی وادی گلوان میں زخمی فوجیوں سے ملاقات کے دوران پیش آیا۔ تاہم دنیا سے چین کے ہاتھوں اپنی شکست چھپانے کیلئے مودی اور بھارتی فوج کو یہ ڈرامہ رچانا پڑا۔

 اگر مودی گلوان میں موجود زخمی بھارتی فوجیوں کو ملتے تو اس سے زخمی فوجیوں کی اصل تعداد سامنے آ جاتی کیونکہ وہاں زخمی ہونے والے فوجیوں کی تعداد 50 کے قریب ہے اور زیادہ تر فوجیوں کی حالت دیکھنے کے لائق بھی نہیں ہے۔ اتوار کے روز ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ ’منا بھائی ایم بی بی ایس‘ بھی ٹرینڈ کرنے لگا۔

بھارتی فوج کی وضاحتیں

جب سوشل میڈیا پر معاملہ بڑھتا چلا گيا تو فوج نے صورت حال کو واضح کرنے کے لیے ایک بیان جاری کیا۔انڈین فوج کو اس حوالے سے ایک وضاحتی بیان جاری کرنا پڑا جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ3 جولائی کو وزیر اعظم مودی نے جس ہسپتال کا دورہ کیا اس کے بارے میں بہت سی باتیں گردش کر رہی ہیں۔

’یہ افسوس ناک ہے کہ ہمارے بہادر فوجیوں کا جس طرح سے خیال رکھا جا رہا ہے اس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے جس جگہ کا دورہ کیا وہ جنرل اسپتال کمپلیکس کا کرائسس ایکسپینشن ہے اور اس میں 100 بستر ہیں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کووڈ 19 پروٹوکول کی وجہ سے اسپتال کے کچھ وارڈز کو الگ تھلگ وارڈز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ لہٰذا یہ ہال جو عام طور پر آڈیو ویڈیو ٹریننگ ہال کے طور پر استعمال ہوتا تھا اسے ایک وارڈ میں تبدیل کر دیا گیا۔

’گلوان سے آنے کے بعد سے ہی زخمی فوجیوں کو یہاں قرنطینہ میں رکھا گیا تھا۔ آرمی چیف جنرل ایم ایم نروانے اور آرمی کمانڈر نے بھی اسی جگہ کا دورہ کیا اور فوجیوں سے ملاقات کی۔‘

خیال رہے کہ انڈین آرمی چیف نے 23 جون کو اس جگہ کا دورہ کیا اور فوجیوں سے ملاقات کی۔ اس کی تصویر بھارتی فوج کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل پر بھی شیئر کی گئی تھی۔

اس سے قبل کہ فوج کی وضاحت آتی لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں وزیر اعظم کی اسپتال میں فوجیوں کے ساتھ تصاویر پر تبصرہ کیا۔

ٹوئٹر پر سنگرام ستپاٹھی نامی صارف نے لکھا کہ میری آرمی کے پیارے جوانوں مجھے شرمندگی ہے کہ نریندر مودی کی خوشی اور سیاسی تھیٹر کی خاطر آپ سب کو اس طرح کرنا پڑا۔ اس نے کہا کہ میں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ نے قربانیاں دی ہیں اور اس ڈرامے میں ساتھ دینے کی مجبوری بھی سمجھ میں آتی ہے۔

ہیمت نامی ایک اور ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ مودی جی کا یہ شعبدہ بازی کا انداز کھل کر سب کے سامنے آ گئی ہے کہ انہوں نے ایک کانفرنس ہال کو اسپتال میں تبدیل کرادیا۔ اس نے مزید لکھا کہ اس مبینہ اسپتال کی دیواروں اور دوسری تصویر میں فوجی کانفرنس ہال کی دیواروں کو بغور دیکھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ ایک ہی جگہ ہے۔

You may also like

Leave a Comment