Home » لاہور پولیس کا اصلاحات کی جانب ایک قدم

لاہور پولیس کا اصلاحات کی جانب ایک قدم

by ONENEWS

لاہور پولیس کا اصلاحات کی جانب ایک قدم

ویسے تو پاکستان میں پولیس کا محکمہ ہمیشہ سے تنقید کی زد میں رہا ہے مگر پچھلے دنوں جب عمر شیخ کو لاہور میں سی سی پی او تعینات کیا گیا تھا توسپاہی سے لے کر آئی جی پولیس تک بد کلامی اور بد نظمی کے واقعات سامنے آنے کے بعد صوبائی پولیس کو شدید تنقید کا سامنا رہا جبکہ اصلاحات کے مطالبوں میں بھی تیزی آئی۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ آئی جی پولیس پنجاب انعام غنی نے اس بحران پر کا فی حد تک قابو پالیا ہے۔ پاکستان میں پولیس ریفارمز پر ماضی میں بہت گفتگو ہوئی ہے، 2002 کے پولیس آرڈر میں اس حوالے سے ایک اہم کوشش کی گئی تھی مگر یہ بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی۔ پولیس اور عوام کے درمیان موجود اجنبیت اور عدم اعتماد کی خلیج برقرار رہی، عوام کو ہمیشہ سے پولیس سے احساس تحفظ کے بجائے خوف محسوس ہوتا تھا، یہ مسئلہ آج بھی موجود ہے جسے حل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔موجودہ آئی جی پولیس پنجاب انعام غنی  اور لاہور پولیس کے سر براہ غلام محمود ڈوگر اور ان کی پوری ٹیم بالخصوص ڈی آئی جی آپریشن اشفاق احمد خان اور ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شارق جمال  پوری کوشش کر رہے ہیں کہ پولیس اور عوام کے درمیان پائی جانیوالی اجنبیت اور عدم اعتماد کا خاتمہ کیا جا سکے قبل ازیں پولیس میں اصلاحات لانے کے حوالے سے کمیونٹی پولیسنگ کے تصور کو کبھی بروئے کار نہیں لایا گیا، عوام اور پولیس دو مختلف جزیرے ہیں جو ایک دوسرے سے فاصلے پر موجود ہیں، ان کے درمیان مستقل رابطہ قائم کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔

اس کے برعکس دنیا میں کمیونٹی پولیسنگ کا تصور کامیابی سے چل رہا ہے جس میں پولیس اور عوام ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوتے ہیں کہ جرائم پیشہ طبقے کو اس میں اپنا وجود برقرار رکھنا دشوار ہو جاتا ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ پنجاب پولیس نے اب اس کی ضرورت محسوس کی ہے  اور کمیونٹی پولیسنگ کے فروغ کے لیے باقاعدہ کام شروع کردیا گیاہے لاہور پولیس کے سربراہ غلام محمود ڈوگر نے صبح سے لے کر رات گئے تک عوام کے لیے اپنے دفتر کے دروازے کھول دئیے ہیں اورملاقات کے لیے پرچی سسٹم کا خاتمہ کر دیا گیا ہے  سی سی پی او صرف اپنے دفتر تک محدود نہیں رہتے،  روزانہ وہ رات کوکسی نہ کسی تھانے میں اچانک پہنچ جاتے ہیں اور سائلین کی داد رسی کے لیے موقع پر احکامات جاری کرتے نظرہیں۔ قبضہ گروپوں اور دوسرے جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیاں بھی شروع کر دی گئی ہیں درحقیقت جرائم کے خلاف جب تک پولیس اور عوام کے درمیان باہمی تعاون شروع نہیں ہوتا، نہ ہی اس بنیادی ادارے کی کارکردگی بہتر ہو گی اور نہ ہی عوام کا عدم اعتماد ختم ہو پائے گا۔ ایسا نہیں ہے کہ تمام تر خرابی کی ذمہ داری پولیس پر عائد ہوتی ہے، اس مسئلے کے بہت سے پہلو ایسے ہیں جہاں حکومتیں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہیں۔

پولیس میں عملے کی بہت کمی ہے جس کی وجہ سے وہ چوبیس گھنٹے ڈیوٹی پر ہوتے ہیں، انسانی استطاعت سے بڑھ کر کام کرنے کے باعث اہلکار چڑچڑے پن کا شکار رہتے ہیں اور وہ اپنے فرائض پوری تندہی کے ساتھ سرانجام نہیں دے سکتے۔ اگر عملے کی تعداد بڑھا کر شفٹوں میں کام شروع کر دیا جائے تو ماحول بہت بہتر ہو سکتا ہے۔اسی طرح پولیس کے پاس گاڑیوں اور جدید اسلحہ کی کمی ہے جو ان کی کارکردگی کو محدود کر دیتی ہے۔ ان کے مقابلے پر موجود جرائم پیشہ افراد ہر قسم کے ہتھیاروں سے مسلح اور نقل و حرکت کے لیے جدید گاڑیاں استعمال کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پولیس کی برتری کا تصور ایک سوالیہ نشان بنا رہتا ہے۔ حالت یہ ہے کہ زیادہ تر تھانوں میں پولیس کو سٹیشنری کے اخراجات یا تو اپنی جیب سے ادا کرنے پڑتے ہیں یا پھر وہ اس کی رقم شکایت درج کرانے والوں کے ذمہ لگا دیتی ہے۔ پولیس میں اصلاحات کے حوالے سے یہ بظاہر معمولی باتیں نظر آتی ہیں مگر سماج کی وسیع سطح پر دیکھا جائے تو ان کی اہمیت درست پیرائے میں سمجھی جا سکتی ہے۔

اسی طرح دور جدید میں تفتیش کے بہت سے ذرائع ایسے ہیں جن سے پاکستان کی پولیس محروم ہے۔ انہیں جیو فنسنگ کے آلات کی کمی اورجدید لوکیٹر تھری اور فور جی کی سہولت میسر نہیں ہے، کیس کی تفتیش کے دوران بہت بار انہیں سیلولر کمپنیوں کے ڈیٹا تک رسائی حاصل نہیں ہو پاتی، اسی طرح تھانوں میں آئی ٹی کے ماہرین کی شدید قلت ہے اور جرائم کے خلاف لڑائی کے لیے اس لازمی شعبے سے پولیس محروم ہے۔ وہ نہ ہی موبائل لوکیشن معلوم کر سکتی ہے اور نہ ہی سوشل میڈیا پر نظر رکھتی ہے جو جرائم کی تفتیش کے معاملے میں جدید دور میں بہت اہمیت حاصل کر چکے ہیں۔ اگرہم عوام کے دل سے پولیس کا خوف دور کر نا چاہتے ہیں توپولیس اصلاحات کے لیے اہلکاروں کی اخلاقی تربیت، قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں احتساب اور سزائیں یقینی بنانا، بین الاقوامی معیارات کے مطابق پولیس کو جدید تعلیم مہیا کرنا، تفتیش کے فرسودہ طریقوں کی جگہ جدید ذرائع کے استعمال اور عوام کو پولیس کی خدمات حاصل کرنے کا کلچر آسان بنانے جیسے پہلوؤں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment