Home » لاہور جلسے کے بعد!

لاہور جلسے کے بعد!

by ONENEWS

لاہور جلسے کے بعد حکومت کے کارپردازان اور ترجمانوں نے سکھ کا سانس لیا ہوگا کہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی تاریخ ڈیڑھ ماہ بعد کی دی گئی ہے اب اس ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں یہ ترجمان پورا پورا زور لگائیں گے کہ اپنی نوکری کا حق ادا کر سکیں، کپتان کو خوش کرنے کے لئے اپوزیشن کے خوب لتے لیں گے۔ گویا لانگ مارچ کو ایسی ہوا دیں گے کہ وقت سے پہلے ہی یہ فضا بن جائے گی کہ اسلام آباد میں لانگ مارچ پہنچنے پر کیا کچھ ہوگا۔ میرا اب بھی یہی خیال ہے کہ اپوزیشن کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے شیخ رشید احمد، شبلی فراز، شہباز گل، فیاض الحسن چوہان، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور آخر میں فواد چودھری ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ انہیں ٹی وی پر جلوہ نمائی کا ایسا خبط ہو چکا ہے کہ جب تک دن میں دو تین بار اپوزیشن کے خلاف پریس کانفرنس یا ویڈیو بیان جاری نہ کریں، انہیں چین نہیں آتا۔ پہلے بھی ایک بار کپتان کو انہی کالموں کے ذریعے مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنے ترجمانوں کی زبانیں بند کرا دیں، اپوزیشن کی آدھی تحریک خودبخود ختم ہو جائے گی۔ مگر وہ بھی شاید مجبور ہیں کہ انہیں اپنی تعریفیں سننے اور اپوزیشن رہنماؤں پر اپنے ترجمانوں کے بے تکے حملے بہت پسند ہیں،بلکہ وہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں اور اس کے پورے پورے نمبر دیتے ہیں۔

13 دسمبر کو سارا دن یہی ترجمان ٹی وی پر یہ دعویٰ کرتے رہے کہ لاہور کے عوام نے پی ڈی ایم کو مسترد کر دیا ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان یہ دور کی کوڑی لائیں کہ گیارہ جماعتیں مل کر بھی کپتان کے جلسوں جیسا جلسہ نہیں کر سکیں۔ عثمان بزدار نے تو دوپہر کو ہی کہہ دیا کہ جلسہ ناکام ہو گیا ہے۔ نجانے یہ ترجمان کس دنیا میں رہتے ہیں جب منٹ منٹ کی خبر عوام کو مل رہی ہے اور درجنوں چینلز مختلف زاویوں سے ہر چیز دکھا رہے ہیں تو پھر یہ فیصلہ عوام خود کریں گے جلسہ کامیاب ہے یا ناکام، عوام نے حمایت کی ہے یا مسترد کر دیا ہے۔ یہ ڈھٹائی کے ساتھ دھول جھونکنے کی کوشش عوام کو برانگیخت تو کر سکتی ہے متاثر نہیں، حقیقت یہ ہے کہ اپوزیشن نے لاہور میں ایک بھرپور جلسہ کیا سخت لب و لہجے میں تقریریں کیں، عوام کا جوش و خروش بھی سامنے تھا۔ لائیو کوریج کے ذریعے پورے ملک کے لوگوں تک اس کا پیغام بھی پہنچ گیا اور جو مقاصد پی ڈی ایم اس جلسے سے حاصل کرنا چاہتی تھی وہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی حکومت کے لئے تشویش کی بات یہ ہونی چاہئے کہ پی ڈی ایم کا اتحاد مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جا رہا ہے۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے اندر ایک دوسرے کے لئے قوت برداشت بڑھتی جا رہی ہے اور ان کا بیانیہ بھی یکساں ہو چکا ہے۔

سب نے دیکھا کہ جب مریم نواز تقریر کر رہی تھیں تو مسلم لیگ (ن) کے نغمے چلائے گئے، نوازشریف وزیر اعظم کے نعرے لگے یوں لگتا تھا جیسے یہ مسلم لیگ (ن) کا جلسہ ہوگا، مگر اسٹیج پر بیٹھے ہوئے پیپلزپارٹی اور جمعیت العلمائے اسلام سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔ بلاول بھٹو خطاب کرنے آئے تو پیپلزپارٹی اور بلاول بھٹو زرداری کے حق میں نعرے لگے، نغمے چلے، پھر مولانا فضل الرحمن کی آمد پر ان کے نعروں اور نغموں سے استقبال ہوا ایسی صورتِ حال پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی اس کا مطلب ہے کہ پی ڈی ایم کا اتحاد قوت برداشت اور ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کے جذبے پر کھڑا ہے۔ برداشت کا جو کلچر رہنماؤں کی سطح پر پیدا ہوا ہے، اس کے اثرات کارکنوں تک آئے ہیں اور ان میں ایک ہم آہنگی کی فضا نظر آ رہی ہے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے لئے اصل خطرہ یہ ہے، جسے نظر انداز کرنا خطرناک ہوگا۔ لاہور جلسے میں ایک بیانیہ واضح طور پر سامنے آیا اور سب رہنماؤں کی تقریریں اسی کا عکس ثابت ہوئیں۔ وہ بیانیہ تھا سول بالا دستی کا۔ حیران کن امر یہ ہے کہ ایک منتخب وزیر اعظم کے ہوتے ہوئے اپوزیشن کا بیانیہ آمریت اور عوام کے مینڈیٹ کو سبوتاژ کرنے والوں کے خلاف بن چکا ہے یہ صورت حال خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے تو اپنے خطاب میں کھل کر کہہ دیا کہ عوام کو ان کے بنیادی حق سے محروم رکھا گیا تو تصادم کا خطرہ ہے کیونکہ ریاستی طاقتیں عوام کا سامنا نہیں کر سکتیں۔

سول بالا دستی کی بات تو فوجی آمروں کے دور میں اتنی کھل کر نہیں ہوئی جتنی آج ایک سول حکومت کے دور میں ہو رہی ہے، کیا یہ اپوزیشن کی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے یا واقعی صورتِ حال ایسی ہے کہ سول بالا دستی کو ملفوف انداز سے لپیٹ دیا گیا ہے نوازشریف، مولانا فضل الرحمن، مریم نواز، بلاول بھٹو زرداری اور اختر مینگل کی تقاریر کا لب لباب یہی تھا کہ اسٹیبلشمنٹ نے جمہوری نظام کو ہائی جیک کر لیا ہے اور ایک کٹھ پتلی وزیر اعظم کے ذریعے خود یہ نظام چلا رہی ہے۔ فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں اور پارلیمینٹ سے مہر لگوالی جاتی ہے۔ حکومتی ترجمانوں کی سوئی صرف یہ  ثابت کرنے پر اڑی ہوئی ہے کہ لاہور کا جلسہ ناکام ہو گیا، عوام نے مسترد کر دیا حالانکہ بات اب اس سے کہیں آگے جا چکی ہے جو بات عمران خان کے سمجھنے کی ہے وہ اس طرف آتے ہی نہیں۔ انہیں خود کو ایک با اختیار سول حکمران ثابت کرنا چاہئے۔ جمہوری قوتوں کے ساتھ کھڑے ہونا چاہئے اور این آر او نہ دینے کی گردان کرنے کی بجائے کھلے دل سے مذاکرات کی دعوت دینی چاہیے۔ وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے اگر وہ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ پی ڈی ایم لانگ مارچ کرنے کا شوق پورا کرے اور اسلام آباد آ جائے تو یہ ان کی غیر سیاسی و غیر دانشمندانہ سوچ ہو گی۔ پھر شاید فیصلہ کوئی اور قوت کرے اپوزیشن نے اگر لانگ مارچ کی اتنی لمبی تاریخ دی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس عرصے میں فیصلہ سازوں کو فیصلے کی مہلت دے رہی ہے بجائے اس کے کوئی اور قوت اس مہلت سے فائدہ اٹھائے، خود وزیر اعظم عمران خان کو آگے بڑھ کر اپوزیشن سے رابطہ کر کے کوئی درمیانی راستہ نکالنا چاہئے، اس کے سوا اس بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کو ختم کرنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment