Home » لائیو اپڈیٹ:سانحہ مچھ کیخلاف کوئٹہ میں میتوں کےہمراہ مظاہرہ،دیگرشہروں میں بھی احتجاج

لائیو اپڈیٹ:سانحہ مچھ کیخلاف کوئٹہ میں میتوں کےہمراہ مظاہرہ،دیگرشہروں میں بھی احتجاج

by ONENEWS

بلوچستان کی تحصیل مچھ کی کوئلہ فیلڈ میں کام کرنے والے 10 کان کنوں کے قتل کے خلاف لواحقین اور ہزارہ برادری کا کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پر میتوں کے ہمراہ دھرنا آج بروز جمعرات 7 جنوری کو 5 ویں روز بھی جاری ہے۔

بلوچستان کی خون جما دینے والی سردی کے باوجود اپنے پیاروں کو یاد کرتے لواحقین اور ہزارہ برادری کے افراد میتوں کے ہمراہ دھرنے میں موجود ہیں۔ دھرنے میں خواتین، بچے اور بزرگ شہری بھی شامل ہیں۔ مظاہرہن نے مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

گزشتہ روز 6 جنوری بروز بدھ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان بھی دھرنے پر پہنچے اور شرکاء سے میتوں کی تدفین کی درخواست کی لیکن ان کی کوششیں بھی بارآور ثابت نہ ہوسکیں۔ دھرنے کے شرکاء نے وزیراعظم عمران خان کی کوئٹہ آمد تک دھرنا ختم کرنے اور میتوں کی تدفین سے انکار کیا ہے۔

واضح رہے کہ 3 جنوری کو بلوچستان کے ضلع بولان کے علاقے مچھ کی کوئلہ فیلڈ میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں نامعلوم دہشت گردوں نے کان کنوں کو آنکھوں پر پٹیاں اور ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انہیں اس وقت ذبح کیا ، جب کان کن اعلیٰ الصبح فیلڈ پر جانے کیلئے موجود تھے۔

ویڈیو: مچھ سانحہ: خواتین کے “عمران خان کوئٹہ آؤ” کے نعرے

حملہ کی ذمہ داری عالمی دہشت گرد تنظیم داعش کی جانب سے ان کی ویب سائٹ عماق پر قبول کی گئی تھی۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی ہزارہ برادری اور دیگر مسلک سے وابستہ افراد پر حملے اور قتل کی ذمہ داری داعش کی جانب سے قبول کی گئی۔

وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر 4 جنوری بروز پیر وفاقی وزیر داخلہ بھی خصوصی طیارے سے کوئٹہ پہنچے اور ہزارہ برادری کے افراد سے ملاقات اور مظاہرہ ختم کرنے کی درخواست کی گئی، تاہم مظاہرین نے شیخ رشید کی جانب سے کیے گئے دعوؤں پر اطمینان کا اظہار نہ کیا اور کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے کوئٹہ آمد تک مظاہرہ میتوں کے ہمراہ جاری رہے گا۔

قتل کیے گئے 7 کان کن افغان تھے

مچھ کی کوئلہ فیلڈ میں قتل کیے گئے 7 مزدوروں کا تعلق افغانستان سے تھا۔ کوئٹہ ميں افغان قونصل خانے کے شعبہ مہاجرین کے انچارج نے مرنے والوں کی شناخت سے متعلق تصديق کردی۔ انچارج نثار عزیزی کا کہنا تھا کہ کان کن افغان صوبہ دائیکندی کے ضلع شہرستان کے رہنے والے تھے۔ بعض کان کنوں کے لواحقین میتیں افغانستان لے جانا چاہتے ہیں۔ میتوں کی افغانستان منتقلی میں ہرممکن مدد کریں گے۔

وزیراعظم نے کوئٹہ جانے کا اشارہ دیدیا

ترک ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کوئٹہ جانے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جلد کوئٹہ آؤں گا۔ مظاہرین اپنے پياروں کی تدفين کرديں۔ ہزارہ برادری کو مکمل تحفظ ديں گے۔ مچھ واقعہ بھی ایسے ہی دہشت گرد گروپ کی کارروائی ہے۔ عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ مچھ میں کان کنوں کی شہادت انتہائی افسوسناک ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی رہی ہے۔ یہ دہشت گرد زیادہ تر داعش کے ساتھ منسلک ہوچکے ہیں۔

شڑ ڈاؤن ہڑتال

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سانحہ مچھ کے خلاف آج بروز جمعرات 7 جنوری کو شڑ ڈاؤن ہڑتال کی کال پر ہڑتال جاری ہے۔ اس موقع پر تمام بازار ، دکانیں اور کاروبار بند ہے۔ شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل تاجر برادری کی جانب سے کی گئی تھی۔

مریم اور بلاول کی کوئٹہ آمد

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف بھی ہزارہ برادری سے اظہار یکجتی کیلئے کوئٹہ جائیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری کے ہمراه سندھ کابینہ کے ارکان بھی ہوں گے۔ بلاول بھٹو دھرنے میں شریک ہوں گے۔ بلاول بھٹو زرداری شہداء کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار بھی کریں گے۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف کی جانب سے بھی آج بروز جمعرات 7 جنوری کو کوئٹہ جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ن لیگی رہنما جمال شاہ کاکڑ کے مطابق مریم نواز شریف دھرنے میں بھی شریک ہونگی۔ مریم نواز مظاہرین سے تعزیت کا اظہار بھی کریں گی۔

کراچی میں مظاہرے کے باعث بند علاقے

سانحہ مچھ کے خلاف کراچی کے18 مقامات پر احتجاج جاری ہے۔ شارع فیصل ناتھا خان کے مقام پر ٹریفک کے لئے بند کردی گئی ہے، جس کی وجہ سے ملیر سے ٹاور آنے والے شہریوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔ کئی اہم شاہراہوں پر بھی ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی ہے، جس میں ڈرگ روڈ، رابعہ سٹی، مرکزی انچولی، کے ڈی اے نارتھ کراچی، نمائش چورنگی، شارع فیصل، کالونی گیٹ، پاور ہاؤس چورنگی، ابوالحسن اصفہانی روڈ، ملیر 15، ناتھا خان پل، نیپا چورنگی، عباس ٹاؤن ، کریم آباد، سفاری پارک، عائشہ منزل، صفورا چورنگی، کامران چورنگی، پورٹ قاسم، قائد آباد، ملیر کینٹ، انڈس ہائی وے، میمن گوٹھ، شاہ فیصل، داؤد چورنگی، کھوکھرا پار، پاؤر ہاؤس چورنگی اور کیہور شامل ہیں۔ کوریڈ ور اور سولجر بازار کی سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ زیادہ ہے۔

لاہور مظاہرے

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کی مصروف ترین روڈ مال روڈ پر بھی مجلس وحدت المسلمین کا احتجاج اور دھرنا دوسرے روز بھی جاری ہے۔ گورنر ہاؤس کے باہر جاری دھرنے اور مظاہرے میں خواتین، بچے اور بزرگ شہری بھی شامل ہیں۔

اسلام آباد

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی مجلس وحدت المسلیمن کی جانب سے پارلیمنٹ کے سامنے پاک چائنہ چوک پر دھرنا اور مظاہرہ تیسرے روز بھی جاری ہے۔ دھرنے میں خواتین، بزرگ شہری اور بچے بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل علامہ راجہ ناصر عباس کی جانب سے دھرنے کے شرکا سے خطاب بھی کیا گیا۔ دھرنے کے شرکا نے ون پوائنٹ ایجنڈہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے کوئٹہ جانے تک دھرنا جاری رہے گا۔

فیصل ایدھی کی بھی کوئٹہ آمد

ایدھی فاونڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی بھی مچھ سانحہ کے لواحقین کے پاس دھرنے کے مقام پر پہنچ گئے ہیں۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں فیصل ایدگی کا کہنا تھا کہ مچھ میں کان کنوں کے بے دردی سے قتل پر افسوس ہے۔ اگر لواحقین وزیراعظم کا مطالبہ کر رہے ہیں تو انہیں آنا چائیے۔ اگر ہمارے ساتھ بھی اس قسم کا ظلم ہوا ہوتا تو آج ہم بھی انہی کی طرح دھرنے پر ہوتے۔ ہزارہ برادری کے مطالبات جائز ہیں، تو انہیں تسلیم کرلینا چائیے۔

You may also like

Leave a Comment