Home » لائیو:جوبائیڈن نے بطور امریکی صدر حلف اٹھالیا

لائیو:جوبائیڈن نے بطور امریکی صدر حلف اٹھالیا

by ONENEWS

نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا۔ امریکا کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ان سے عہدے کا حلف لیا اور انہیں مبارکباد پیش کی۔

حلف اٹھانے کے فوری بعد جوبائیڈن کو خطاب کی دعوت دی گئی جس کے آغاز میں انہوں نے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور نئے منتخب ہونے والوں کو مبارکباد دی۔

نومنتخب صدر نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ ’میں آئین کا دفاع کروں گا۔ میں جمہوریت کا دفاع کروں گا۔ میں امریکا کا دفاع کروں گا اور ہم سب مل کر امید کی ایک امریکی کہانی لکھیں گے۔ یہ کہانی اتحاد کی ہوگی تقسیم کی نہیں۔ یہ کہانی روشنی کی ہوگی تاریکی کی نہیں۔ یہ کہانی شائستگی، وقار، محبت، عظمت اور نیکی کی ایک کہانی ہوگی۔‘

تقریب کے بعد کچھ ہی دیر میں امریکی حکومت کے سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹس پر بھی نام تبدیل ہوگئے۔ امریکی صدر کے سرکاری اکاؤنٹ سے ڈونلڈ ٹرمپ کا نام ہٹاکر پریذیڈنٹ بائیڈن کردیا گیا جبکہ نائب صدر کے اکاؤنٹ پر مائیک پینس کی جگہ کمالا ہیرس کا نام لکھ دیا گیا۔

کمالا ہیرس نے اپنے سرکاری اکاؤنٹس سے پہلا ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ خدمت کیلئے تیار ہیں۔‘

جوبائیڈن نے سرکاری اکاؤنٹ سے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں کئی بحرانوں کا سامنا ہے۔ اس لیے وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج میں اوول آفس جا رہا ہوں تاکہ جرات مندانہ فیصلے کروں اور بحران کا شکار امریکی خاندانوں کو ریلیف ملے۔

وزیراعظم عمران خان نے جوبائیڈن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان امریکا کے ساتھ کام کرنے کا خواہاں ہے۔

عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ ’دور صدارت کے آغاز پر میں صدر جوبائیڈن کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اورتجارت و اقتصادی سرگرمیوں، کلائیمیٹ چینج، صحت عامہ میں بہتری، بدعنوانی کے خاتمے اور خطے اور اس کے پار فروغ امن کے ذریعے مضبوط تر پاک امریکہ شراکت داری کیلئے  صدر بائیڈن کے ساتھ کام کرنے کا خواہاں ہوں۔‘

نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری کا آغاز ہوچکا ہے۔ تقریب کا آغاز قومی ترانے سے ہوا جو لیڈی گاگا نے گایا۔ اس کے بعد مذہبی کلمات ادا کیے گئے۔

سابق صدور باراک اوباما اور جارج بش نومنتخب صدر جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے کیپٹل ہل پہنچ گئے ہیں۔ تقریب حلف برداری پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بجے شروع ہوگی۔

نومنتخب صدر جوبائیڈن اپنے موٹرکیڈ میں کیپٹل ہل پہنچ گئے ہیں۔ ان کی اہلیہ اور ڈاکٹر جل بائیڈن بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ نائب صدر کملا ہیرس بھی پہنچ چکی ہیں۔

سبکدوش ہونے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کو الوداع کہہ دیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ میرین ون ہیلی کاپٹر میں سوار ہوکر آخری بار وائٹ ہاؤس سے رخصت ہوگئے۔

امریکا کے نومنتخب صدر جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری پاکستانی وقت کے مطابق آج رات 10 بجے واشنگٹن ڈی سی میں ہوگی۔ امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ چوتھے صدر ہیں جو آنے والے صدر کی تقریب حلف برداری میں شریک نہیں ہوں گے۔

جوبائیڈن کے ساتھ نائب صدر منتخب ہونے والی کملا ہیریس بھی عہدے کا حلف اٹھائیں گی۔ امریکا کی تاریخ میں وہ اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے نکل کر ٹرمپ نے فلوریڈا میں واقع اپنے ریزورٹ جانے سے پہلے جوائنٹ بیس اینڈریوز میں فوجی تقریب سے خطاب کیا جس میں انہوں نے اپنے 4 سالہ دور صدارت کے چیدہ کارنامے گنوائے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’مجھے فخر ہے کہ دہائیوں بعد میں پہلا امریکی صدر ہوں جس نے کوئی نئی جنگ شروع نہیں کیں بلکہ میں نے مشکل اور سب سے سخت ترین لڑائیوں کا انتخاب کیا کیونکہ آپ نے مجھے اسی لیے منتخب کیا تھا۔‘

ان سخت ترین لڑائیوں سے ٹرمپ کی مراد دیگر ممالک کے ساتھ اپنی مرضی کے تجارتی معاہدے، نیٹو اتحاد میں شامل ممالک کو مزید فنڈ فراہم کرنے پر مجبور کرنا، چین کے ساتھ کشیدگی، مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا اور عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کروانا ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو یقین دہانی کروائی کہ وہ ہمیشہ ان کیلئے لڑیں گے۔ صدر کے عہدے سبکدوش ہونے کے بعد بھی اپنے حامیوں پر نظر رکھیں گے، ان کو سنیں گے اور کسی اور صورت میں سامنے آئیں گے۔

اپنی صدارت کے آخری گھنٹوں میں ٹرمپ نے اپنے سابق مشیر اسٹیو بینن سمیت 73 افراد کو معاف کردیا لیکن عام خیال کے برعکس انہوں نے اپنے اور اہل خانہ میں سے کسی بھی فرد کے لئے قبل از وقت ’معافی نامے‘ جاری نہیں کیے۔

جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری کی کوریج کیلئے موجود بی بی سی کی رپورٹر نے لکھا ہے کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ جنوری میں یہ تقریب کرنے کا آئیڈیا اچھا تھا یا نہیں لیکن یہاں خون جما دینے والی سردی ہے جبکہ تیز اور ٹھنڈی ہواؤں کے باعث بات سننے اور بات کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

رپورٹر نے لکھا ہے کہ عام طور پر 20 منٹ میں طے ہونے والا فاصلہ آج ڈھائی گھنٹے میں طے کیا ہے۔ ہمیں متعدد چیک پوسٹوں سے گزرنا پڑا ہے جیسے ہم کسی جنگ زدہ علاقے میں آگئے ہیں۔

جوائنٹ بیس اینڈریوز میں مختصر الوداعی تقریر کے بعد ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ایئر فورس ون ہیلی کاپٹر میں سوار ہوکر فلوریڈا روانہ ہوگئے۔ جہاں وہ پام بیچ پر اپنے ریزارٹ میں قیام کریں گے جبکہ ایئر فورس ون ہیلی کاپٹر اس کے بعد میری لینڈ واپس آجائے گا۔ وہاں سے یہ ہیلی کاپٹر آنے والے صدر جو بائیڈن استعمال کرنا شروع کریں گے۔

جس وقت ٹرمپ کی الوداعی تقریب جاری تھی۔ اسی وقت نومنتخب صدر جو بائیڈن اور خاتون اول ڈاکٹر جِل بائڈن واشنگٹن ڈی سی میں واقع چرچ پہنچے جہاں انہوں نے عبادت کی اور لوگوں سے بات چیت کی۔

You may also like

Leave a Comment