0

قومی فضائی کمپنی جعلی پائلٹس۔ کے حوالے

قومی فضائی کمپنی جعلی پائلٹس۔ کے حوالے

اسلام علیکم پارے دوستوں سنائیں کیسے ہیں امید ہے کہ اچھے ہی ہونگے جی ہاں دستوں انتہائی خوفناک خبر ہے کہ قومی فضائی کمپنی جعلی پائلٹس۔ کے حوالے جی ہاں بڑی شہہ سرخی کے ساتھ قومی اخبارات کی زینت بننے والی خبر نے ہر طرف خوف و ہراس اور بے شمار سوالات اٹھا دئیے جی ہاں خبر کے مطابق ڈیڑھ سو سے زائد پائلٹ صرف برائے نام ہیں جنکا کام صرف اور صرف تنخواہیں لینا ہے جی ہاں اور نہ صرف یہ بلکہ درجنوں پائلٹس کے لائسنس بھی جعلی قرار دئیے جا رہے ہیں اسی لئے یہ جان کے عوام بھی بے اختیار سٹپٹا اٹھی کہ کہ قومی ائیر لائن کی انتظامیہ نے لاکھوں کی زندگیاں داؤ پہ لگا دی کہا جا رہا ہے کہ یہ جعلی پائلٹ حضرات بھی خطرے کا باعث ہیں اور انکی مکمل چھان بین کر کے جعلی لائسنس پہ بھرتی ہونے والے پائلٹس کے خلاف کاروائی کی جائے اور ان افسران کے خلاف بھی کاروائی ہونی چاہئیے جنھوں نے اپنے منظور نظر ایسے افراد بھرتی کر لئے جن کی وجہ سے لاکھوں افراد کی زندگیاں داؤ پہ لگ گئیں جی ہاں دوستو ں آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ چند روز قبل ایک فضائی حادثہ پیش آیا قومی ائیر لائن کو جبکہ سنا ہے کہ حادثے کی ابتدائی رپورٹ مکمل ہو چکی ہے اور قومی اسمبلی میں بھی پیش کر دی گئی جس میں ائیر ٹریفک کنٹرول ٹاور کو اور جہاز کے کپتان کو بھی حادثے کا۔

ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جبکہ بلاول بھٹو جو کہ پیپلز پارٹی کے رہنما ہیں نے کہا ہے کہ جیسا کہ جناب وزیراعظم نے کہا تھا اگر کوئی حادثہ ہوتا ہے تو ادارے کا سربراہ وزیر استعفی دیگا تو جناب بلاول نے بھی یہ مطالبہ کر دیا کہ کراچی طیارہ حادثہ پر وزیر ہوا بازی استعفی دیں ویسے بلاول بھٹو مستقبل کے وزیراعظم ہیں اس لئے کسی سے بھی کسی قسم کا مطالبہ کرنا یوں سمجھیں جیسے انکا۔ پیدائشی حق ہے جی ہاں بلاول شہید بے نظیر کا لخت جگر ذوالفقار علی بھٹو کا نواسا اور جناب زرداری کیجانشین بھی ٹھرے جی ہاں جناب بلاول نے تو وزیر ہوا بازی کا استعفی طلب کر لیا لیکن کسی نے بھی اس بات پہ توجہ نہ دی کہ ائیر پورٹ کے قریب رہائشی آبادی کس کی اجازت سے بنی اور اگر دیکھا جائے تو درحقیقت حادثے کے اصل ذمہْدار ہیں جنھوں نے ائیر پورٹ کے نزدیک رہائشی کالونی بنائی جبکہ ایسا ہونا قطعی طور سے ممکن نہیں کہ ائیر پورٹ کے پاس رہائشی آبادی ہو جی ہاں ہم نے پہلے بھی لکھا تھا کہ جتنے بھی اہیر پورٹس ہیں یقینا وہ شہر سے باہر ہی ہونے چاہئیں تاکہ فضائی حادثات میں کمی آ سکے اور نہ صرف یہ بلکہ سول ایو ی ایشن اتھارٹی اور دیگر اداروں کوبھی پابند کیا جائے جس کسی کو بھی ائیر ٹریفک کنٹرول اور پائلٹ بھرتی کیا جائے یقینا جانچ پڑتال کر کے انھیں بھرتی کیا جائے تو پھر داؤ پہ لگی انسانی جانوں کی بھی حفاظت ممکن ہے بہر حال قومی اسمبلی میں حالیہ فضائی حادثے کی ابتدائی رپورٹ پیش کر دی گئی جبکہ دیکھنا تو یہ بھی ہے کہ مزکورہ فضائی حادثے کی مکمل تفصیلات کب سامنے لائی جائینگی اور تحقیقاتی رپورٹ پیش کئے جانے کے بعد کیا ایکشن لیا جائیگا اور کس کے خلاف لیا جائیگا ابھی کچھ کہنا قبل از وقت لہاذا مکمل رپورٹ پیش ہونے تک یقینا انتظار کرنا پڑے گا کہ مکمل رپورٹ کب آئے گی اور اسکے علاوہ بھی بہت سی باتوں کے جاننے کے لئے وقت کا۔ انتظار۔ ضروری ہے لہاذا آپ وقت کا انتظار کریں لیکن ہمیں دیں فی الحال اجازت تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا

مزید :

رائےکالم





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں