Home » قانون کا کباڑہ سیاست امرت دھارا

قانون کا کباڑہ سیاست امرت دھارا

by ONENEWS

قانون کا کباڑہ، سیاست امرت دھارا

یہ محض اتفاق تو نہیں ہو سکتا کہ 24 ارب روپے کی سرکاری اراضی کا قبضہ صرف 36 مسلم لیگی رہنماؤں سے چھڑایا گیا ہو اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے پنجاب میں دورِ حکومت میں خوب لوٹ مچائی گئی، حیرانی اس بات پر ہے کہ پنجاب میں دس سال سے شہباز شریف کی حکمرانی تھی، جو میرٹ اور قانون کی ہمیشہ بات کرتے تھے، پھر ان کے دورِ حکومت میں یہ قبضے اور لوٹ مار کیسے ہوتی رہی اگرچہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں سعد رفیق، ایاز صادق اور عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے زمینوں کی واگزاری کے اس عمل کو سیاسی انتقام کہا ہے اور عدالتوں میں جانے کی وارننگ بھی دی ہے، مگر وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر نے سرکاری زمینوں کے قبضے چھڑانے کی جو تفصیل بیان کی ہے، اسے ابھی تک کسی متاثرہ مسلم لیگی نے میڈیا پر آکر نہیں جھٹلایا نہ ہی ثبوت پیش کئے ہیں خرم دستگیر، مائزہ حمید، دانیال عزیز، عابد شیر علی، جاوید لطیف، چودھری تنویر، خواجہ آصف سمیت سبھی ایسے نام ہیں  جو مسلم لیگ (ن) کے اہم ترین رہنما گنے جاتے ہیں ان سب کا تعلق بالائی پنجاب سے ہے، تاہم جنوبی پنجاب سے بھی کچھ لوگوں کے نام سامنے آ چکے ہیں جن سے سرکاری اراضی واگزار کرانے کی تیاری مکمل کی جا چکی ہے۔

ہمارے ہاں ہر الزام کا سادہ سا جواب یہ ہوتا ہے کہ سب کچھ سیاسی انتقام کی وجہ سے کیا جا رہا ہے۔ یہ ایسا جواب ہے  جو امرت دھارے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اس بار اس میں یہ اضافہ بھی کیا گیا ہے کہ ہمیں نوازشریف کے ساتھ وفاداری کی سزا دی جا رہی ہے۔ نوازشریف سے وفاداری تو ہر مسلم لیگی رکھتا ہے اگر زمینیں واگزار کرانے کا یہی سبب ہے تو پھر ایسے ہزاروں کیسز بننے چاہئیں، مگر یہاں تو صاف نظر آ رہا ہے کہ صرف انہی مسلم لیگی رہنماؤں نے مبینہ قبضے کئے جو شریف برادران کے قریب سمجھے جاتے ہیں یا مسلم لیگ (ن) کے حوالے سے جن کا سرگرم کردار ہے دستگیر فیملی نے گوجرانوالہ میں سالہا سال سے سرکاری زمین پر پٹرول پمپ بنایا ہوا تھا۔

اس لئے اپنے طرز کی ایک واحد مثال ہے کہ پٹرول پمپ کی منظوری اس وقت تک نہیں ملتی جب تک زمین کی ملکیت کا قانونی ثبوت نہ ہو۔ اس کا مطلب ہے حکومتی اثر و رسوخ کی وجہ سے تمام رکاوٹیں دور کر کے یہ پٹرول پمپ لگایا گیا۔ پٹرول پمپ ختم کر کے اب وہاں ضلعی انتظامیہ نے پارک بنا دیا ہے جب یہ کارروائی ہو رہی تھی تو خرم دستگیر نے اسے بھی سیاسی انتقام اور نوازشریف سے وفاداری کا نتیجہ قرار دیا تھا مگر انہیں جو قانونی دستاویزات پیش کرنی چاہیے تھیں وہ نہ کر سکے باقی مسلم لیگی رہنماؤں کا بھی یہی موقف ہے کہ انہیں مسلم لیگی ہونے اور نوازشریف سے وفاداری کی سزا دی جا رہی ہے۔ مگر کرنے کا جو اصل کام ہے یعنی اپنی ملکیت کا قانونی ثبوت وہ میڈیا کے سامنے پیش نہیں کرتے۔

اتنی بڑی تعداد میں ایک ہی جماعت کے رہنماؤں پر قبضے کرانے کا الزام لگے تو شکوک و شبہات ضرور ابھرتے ہیں مگر اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے کہ آخر مسلم لیگی رہنما ہی کیوں ایسے کاموں میں ملوث ہوئے۔ کیا انہیں کھلی چھٹی دیدی گئی تھی، یا شریف برادران کے ساتھ وابستگی کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا۔ کیا سوچ کر قبضے کئے گئے؟ کیا قانون کا خوف ختم ہو گیا تھا یا یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ قانون تو گھر کی باندی ہے ایک لمحے کے لئے ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) وہ جماعت نہیں جس کے لوگوں نے قانون کی دھجیاں اڑائیں، سرکاری اور غریبوں کی زمینوں پر قبضے کئے تو کیا ہم اس حقیقت سے انکار کر سکتے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی سرپرستی ہی میں زمینوں پر قبضے ہوتے ہیں کوئی کتنا ہی بڑا مالدار یا با اختیار نہ ہو، جب تک اسے سیاسی آشیر باد حاصل نہ ہو وہ قانون کو بے بس نہیں کر سکتا تو کیا ہمارے ہاں لوگ اسی لئے سیاست میں آتے ہیں کہ راتوں رات ککھ سے ارب پتی بن جائیں گے۔ کیا جائز طریقے سے کوئی سیاستدان اتنی ترقی کر سکتا ہے جتنی ہمارے بعض سیاستدانوں نے کی ہے۔

کل سعد رفیق پریس کانفرنس میں ان افسروں کو دھمکیاں دے رہے تھے، جو حکومت کا حکم بجا لاتے ہوئے سرکاری زمینوں سے قبضے چھڑا رہے ہیں۔ انہوں نے وارننگ دی کہ وہ باز آ جائیں، ان کی فہرستیں تیار کی جا رہی ہیں جلد انہیں اپنے اعمال کا حساب دینا پڑے گا۔ ان کی یہ باتیں سن کر خیال آیا کہ ان کے دور میں بھی تو افسروں نے یہ قبضے کرائے ہوں گے۔ یا قبضے ہوتے دیکھ کر آنکھیں بند رکھی ہوں گی۔ ایسے افسروں کے بارے میں ان کا کیا خیال ہے وہ زیادہ بڑے مجرم ہیں یا قبضے چھڑانے والے افسر، سرکاری افسراگر غیر قانونی کاموں میں ساتھ دیں تو انہیں شاباش ملے اور اگر قانون کو بروئے کار لائیں تو وارننگ کے حقدار ٹھہریں۔ ابھی اندھیر نگری چوپٹ راج کا ایسا نظام نہیں آیا کہ کسی کی قانونی ملکیت کو حکومت صرف اس وجہ سے واگزار کرالے کہ وہ حکومت کی حریف جماعت سے تعلق رکھتا ہے۔ سب نے دیکھا کہ کھوکھر برادران کو لاہور ہائیکورٹ نے قبضہ واپس دلایا اور حکومت کو تا فیصلہ مزید کارروائی سے روک دیا۔

مسلم لیگی رہنماؤں کا صرف یہی کام نہیں کہ وہ اپنے غیر قانونی قبضوں کا دفاع کریں بلکہ انہیں چاہئے کہ وہ موجودہ حکومت سے تعلق رکھنے والے ایسے لوگ تلاش کریں جنہوں نے سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضے کر رکھے ہوں۔ تحریک انصاف کے رہنما اگر حکومتی اثر و رسوخ سے زمینوں پر قبضے کر رہے ہیں تو ان کی تفصیلات سامنے لا کر یہ ثابت کیا جائے کہ وزیر اعظم عمران خان صرف سیاسی انتقام کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کو نشانہ بنا رہے ہیں، قانون کی عملداری سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں پاکستان میں بدقسمتی سے سیاست، لوٹ مار کا دوسرا نام بن کر رہ گئی ہے حالانکہ دنیا بھر میں اسے قومی خدمت اور عوام کی بہبود کا ایک مضبوط ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment