Home »  فیض:آج تم یاد بے حساب آئے (5)

 فیض:آج تم یاد بے حساب آئے (5)

by ONENEWS

فیض:آج تم یاد بے حساب آئے (5)

تو کیا فیض احمد فیض کی نظریاتی وفاداری کا موضوع جو اُن کی زندگی میں بھی قدرے متنازعہ تھا، دنیا سے چلے جانے پر بتدریج زیادہ بڑا سوالیہ نشان بنتا جا رہا ہے؟ اِس ضمن میں قریبی ساتھی احمد ندیم قاسمی کی ’میرے ہمسفر‘ تو بعد میں شائع ہوئی، لیکن اِس سے بہت پہلے اُنیس سو ستر کی دہائی میں فیض پر ایک بہت دلچسپ کتاب ’ہم کہ ٹھہرے اجنبی‘ کے مصنف ڈاکٹر ایوب مرزا نے اُن کی سیاسی وابستگی پر اپنی بین السطور رائے دے دی تھی۔ ایوب مرزا نے اِس تاثر کی نفی کی کہ فیض بنیادی طور پر نظریاتی کارکن تھے۔ اِس پر جانے پہچانے کالم نویس اور مترجم خالد حسن نے شخصی خاکوں کی اپنی پہلی کتاب ’اسکور کارڈ‘ میں فیض کی قلمی تصویر کھینچتے ہوئے ڈاکٹر مرزا کا ’توا‘ لگانے کی کوشش کی۔

خالد حسن نے، جو ’ہم کہ ٹھہرے اجنبی‘ کے مصنف کی طرح اب خود بھی اِس دنیا میں نہیں، چسکا لینے کے انداز میں لکھا: ”’مَیں نے سُن رکھا ہے کہ ایوب مرزا جنابِ فیض کے مداح ہیں اور بچوں کے بہت بڑے ڈاکٹر۔ اگر مَیں اُن کی جگہ ہوتا تو بس اپنے مقدس پیشے پہ توجہ رکھتا اور دماغ میں وہ خیالات کبھی نہ ٹھونستا جن کے سمجھنے کی مجھ میں اہلیت نہیں“۔ ظاہر ہے ایوب مرزا یہ پڑھ کر محظوظ نہیں ہوئے تھے۔ کئی سال گزرنے پر لندن میں خالد حسن کو ایک شام جب میری موجودگی میں ڈاکٹر مرزا کے سامنے اپنے دل کا بوجھ اتارنے کا موقع ملا تو انہوں نے فرش پر ہاتھ لگا کر انگشتِ شہادت اپنے ماتھے پہ رگڑی۔ پھر ہاتھ جوڑ کر التجا کی کہ ڈاکٹر صاحب معافی دے دو۔ اِس پر ڈاکٹر مرزا اپنی غن غنی آواز میں یہ کہتے ہوئے بغل گیر ہو گئے تھے کہ ”شرارتاں کرنا ایں، باز آجا“۔

اچھا ہوا کہ خود فیض احمد فیض نے ہمارا سوشل میڈیا کا عہد نہ دیکھا، وگرنہ معترضین اور چاہنے والے دونوں اُن پہ ایسی ایسی رائے زنی کرتے کہ جس کی تصدیق یا تردید کرنا فیض کا مزاج تھا ہی نہیں۔ ایک مرتبہ خالد حسن ہی نے دائیں بازو کے ایک موقر اخبار کا نام لیا تو مزے کا مکالمہ ہو گیا۔ ”فیض صاحب، یہ آپ کو ہمیشہ سُرخ دانشور یا انڈو سوویت لابی کا نمائندہ لکھتے ہیں مگر آپ نے کبھی جواب نہیں دیا“۔ ”بھئی وہ بھی (مراد اخبار والے) ہمارے دوست ہیں، اُن کا کام بھی چلتے رہنا چاہیے“۔ دوستی والی بات بے جا نہیں تھی کیونکہ جیل سے ایلس کے نام لکھے گئے ایک سے زیادہ خطوط میں یہ یاد دہانی موجود ہے کہ حمید اور خلیل نے ہمارے حق میں پھر ادریے لکھے ہیں۔ میری دانست میں حمید سے امکانی طور پہ حمید نظامی مراد ہیں جن کا ادارتی جھکاؤ لیاقت علی حکومت کی طرف نہیں تھا۔

اِسی طرح ترانۂ پاکستان کے خالق ابوالاثر حفیظ جالندھری کے انتقال پر راولپنڈی کی ایک محفل میں میرے سامنے بعض نوجوان دوستوں نے حفیظ مرحوم کے بارے میں کچھ چبھتی ہوئی باتیں کیں تو فیض آدھ گھنٹے تک گُم سُم بیٹھے رہے۔ پھر دوبارہ چُپ ہونے سے پہلے ایک بلیغ جملہ کہہ دیا:”ساڈے دوست سن، چنگے بھلے ہوندے سن۔ پاکستان بنن توں بعد پتا نئیں کیِہہ ہوگیا؟“ اُِسی محفل میں صاحبِ طرز شاعر اور صحافی حسن عباس رضا کے منہ سے نکلا:”وہ فیض صاحب ہمیں بھی پکڑ کر لے گئے تھے۔“ اب کے برجستہ جواب ملا:”بھئی، بہت اچھا ہوا۔ جو پکڑا نہیں گیا وہ جرنلسٹ کاہے کا ہے۔“

جس واردات پر موجودہ دَور میں فیض احمد فیض کے جیتے جی فیس بُک اور واٹس ایپ پہ گھمسان کا رن پڑتا وہ جنرل ضیاالحق سے اُن کی ملاقات ہے۔ اُس وقت مجھ جیسے فیض پرستوں کے لیے یہ حیرت کا مقام تھا کہ فلسطینیوں کے جریدہ ’لوٹس‘ کا مدیر، یاسر عرفات، ایڈورڈ سعید اور محمود درویش کا ہم نوا اور لبنان کی خانہ جنگی کا چشم دید گواہ پاکستان لوٹے اور جنرل ضیا سے ملنے پہنچ جائے۔ ”بھئی، یہ اُس دن کا قصہ ہے جب اسلام آباد میں جوش ملیح آبادی کی وفات ہوئی۔ مَیں نے ملتے ہی کہا کہ ملک کی ایک بڑی تخلیقی شخصیت کے جنازے پر حکومت کا کوئی نمائندہ نہیں تھا۔ کہنے لگے کہ واقعی کوتاہی ہو گئی۔ ساتھ ہی پوچھا کہ میرے لائق کوئی کام؟ ہم نے کہا کہ ہمیں پاکستان آتے جاتے بہت تنگ کیا جاتا ہے۔ بولے اب نہیں ہوگا۔ اتنی دیر میں چائے کی پیالی ختم ہو گئی اور ہماری میٹنگ بھی اختتام کو پہنچ گئی۔ بس اتنی سی بات تھی‘‘۔ جوش ملیح آبادی کا احترام ایک تو اُن کی ادبی حیثیت اور بزرگی کے پیشِ نظر، دوسرے سرینگر میں فیض احمد فیض اور ایلس جارج کی تقریبِِ نکاح میں جوش صاحب بھی شریک تھے۔

آج جب فیض احمد فیض کی رحلت کو چھتیس سال گزر چکے ہیں، ایک بدلی ہوئی دنیا میں ہم فیض کو ری وزٹ کریں تو کیسے کریں؟ مطلب یہ کہ ہمارے تجزیے کا ڈھانچہ کیا ہونا چاہیے؟ یارِ عزیز ثقلین امام نے، جو انگلستان میں بیٹھ کر اچھے اچھے مشوروں سے نوازتے رہتے ہیں، فیض کی پچھلی برسی پر لیفٹ اور لبرل کے تقابلی جائزے کی غرض سے جن نظریاتی خد وخال کی نشان دہی کی تھی، وہ دلچسپی سے عاری نہیں۔ جیسے یہی کہ لیفٹسٹ سرمایہ داری کا مخالف اور سامراج دشمن ہوتا ہے جبکہ لبرل سرمایہ داری کا حامی اور سامراج نواز ہوتا ہے۔ لیفٹسٹ کی سوچ بین الاقوامی ہوتی ہے اور لبرل کی قوم پرستانہ۔ اِس سے بھی نمایاں نکتہ جس پہ ہر ’دانا آدمی‘ کے ورلڈ ویو کا دارومدار ہوگا، دونوں کے درمیان ایک ازلی و ابدی فرق ہے۔ وہ یہ کہ لیفٹسٹ کا بنیادی ہتھیار طبقاتی جدوجہد ہے اور لبرل کا طبقاتی اشتراک۔ یہاں یہ کہنے کو دل چاہتا ہے کہ ”یار ثقلین، مروا دیا“۔

وجہ یہ اِنہی معیارات کو سامنے رکھ کر اپنے پیر و مرشد کو کہِیں فِٹ کرنے کی کوشش کروں تو دُور سے اُنہی کی آواز آئے گی کہ بھئی تم نے گڑ بڑ کردی۔ پھر خیال آئے گا کہ گزشتہ سال کا دھُوم دھڑکے والا فیض فیسٹول اگر اُن کی زندگی میں برپا ہو رہا ہوتا تو کیا نقشے ہوتے۔ یہی کہ ہم مزدور کسان پارٹی کے سُرخے میجر اسحاق اور افضل بنگش کے نام پہ سی آر اسلم اور عابد منٹو کی سوشلسٹ پارٹی کے سُرخوں سے وہابی سُنی لڑائی کی طرح دوست و گریباں ہوتے کہ فیسٹول منانا نظریاتی طور پہ جائز ہے بھی یا نہیں۔ خود فیض کو ڈھونڈنے نکلتے تو پتا چلتا کہ آپ تو میاں محمد بخش کے عرس کی طرح دستار بندی کی تقریب میں ایک بار پھر دولہا بنے بیٹھے ہیں۔

اپنی بھتیجی ناعمہ کے اصرار پر، جو شرکت کے لیے کئی ہم عمر ساتھیوں کے ہمراہ اسلام آباد سے لاہور پہنچیں، مَیں بھی پچھلے فیسٹول میں جانے کے لیے نکلا تو سہی مگر بیرونی گیٹ سے واپس چلا آیا۔ بس حواس پہ یہ خوف چھانے لگا تھا کہ بابا گرونانک کے پانچ سو پچاسویں جنم دن اور بابا فیض احمد کی پینتیسویں برسی پہ جس معجزے کی دبی ہوئی تمنا دل میں ہے، وہ پوری نہ ہوئی تو ہمارا کیا حال ہوگا۔ معجزہ یہی کہ الحمرا پہنچیں تو پوسٹروں پہ درج ساری انگریزی فقرے بازیاں اور بہانہ سازیاں بابا گرو نانک کی میت کی طرح دوبارہ پھولوں کی ڈھیری میں بدل چکی ہوں۔     (ختم شد)

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment