Home » فوج نے آج تک کوئی دباؤ نہیں ڈالا، عمران خان

فوج نے آج تک کوئی دباؤ نہیں ڈالا، عمران خان

by ONENEWS

فوٹو: اے ایف پی

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے فوج نے آج تک ان پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا اور نہ ہی کبھی انہوں نے فوج کے خلاف کوئی مزاحمت کی ہے۔ وزیراعظم نے سلیکٹڈ اور یوٹرن ماسٹر کے الزامات کا جواب بھی دیا

ایکسپریس ٹی وی کے اینکر پرسن منصور علی خان کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے سلیکٹڈ کے لقب پر اعتراض اٹھایا ہے اور یوٹرن کی وضاحت کی ہے۔

منصور علی خان نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ اپوزیشن آپ کو سلیکٹڈ اور یوٹرن ماسٹر کہتی ہے۔ کیا آپ کو یہ الزامات برے لگتے ہیں۔ عمران خان نے جواب دیا کہ ’جس نے بھی زندگی میں کوئی مقابلہ کیا ہو، وہ سمجھتا ہے کہ یوٹرن ہوتا کیا ہے یا یوٹرن کس کو کہتے ہیں۔‘

وزیراعظم نے اپنے یوٹرن کو حکمت علی کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’مثلا میں میچ کھیل رہاں اور مجھے میچ جیتنا ہے۔ میں نے حکمت عملی بنائی ہے، تو اگلا کوئی ایسی چال کھیل دیتا ہے کہ میں اگر اسی حکمت عملی پر چلتا رہا تو ہار جاوں گا۔ پھر میں اپنی حکمت عملی تبدیل کرتا ہوں۔ ’کیا اس کو یوٹرن کہتے ہیں۔‘

وزیراعظم نےکہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ آپ جب مقابلے کی صورتحال میں ہوتے ہیں تو اس میں آپ مسلسل اپنے حربے تبدیل کرتے رہتے ہیں جیتنے کیلئے۔ اصل مقصد ہے جیتنا۔‘

سلیکٹڈ کے بارے میں وزیراعظم نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’جو سلیکٹڈ ہے، اس کے اوپر مجھے حیرت ہوتی ہے۔ جو دو مرکزی پارٹیوں کے بانی ہیں۔ نواز شریف سلیکٹڈ تھا جبکہ ذوالفقار علی بھٹو ایک ملٹری ڈکٹیٹر کے ساتھ وزیر بنا۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ ’میری تو 22 سال کی جدوجہد ہے۔ کوئی سیاسی پس منظر نہیں تھا۔ زیرو سے شروع کیا۔ مجھے اس کا بڑا اعتراض ہوتا ہے۔ یہ بڑی عجیب سی بات ہے۔‘

فوج نے کبھی دباؤ نہیں ڈالا

وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں فوج کے خلاف مزاحمت کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ فوج نے کبھی ان پر دباؤ نہیں ڈالا۔ وزیر اعظم خان نے کہا کہ ’اگر فوج نے مجھ پر دباؤ ڈالا ہوتا تو میں فوج کے خلاف مزاحمت کرتا مگر فوج نے کبھی بھی ایسا کوئی کام نہیں کیا جس پر میں مزاحمت کروں۔‘

خارجہ پالیسی کون بناتا ہے

ناقدین کا یہ خیال ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی پر فوج کا اثر و رسوخ زیادہ ہوتا ہے۔ منتخب حکومتیں آزادنہ پالیسی نہیں بناسکتی مگر وزیر اعظم نے واضح کیا کہ موجودہ خارجہ پالیسی تحریک انصاف نے بنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم نے اپنے منشور پر عمل کیا۔ مثال کے طور پر میں نے کہتا تھا کہ افغانستان کے مسئلے کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات ہیں۔‘

جہانگیر ترین مشکل وقت سے گزر رہے ہیں

وزیر اعظم نے کہا کہ جہانگیر خان ترین کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور وہ پارٹی میں کوئی عہدہ نہیں رکھتے۔

جہانگیر ترین عمران خان کے قریبی دوست ہیں۔ حال ہی میں چینی کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے میں ان پر الزامات لگے۔ ایک سرکاری رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ ان کی جے ڈی ڈبلیو ملز کو شوگر سبسڈی میں سب سے زیادہ فائدہ پہنچا۔ ان کی ملوں نے تین سالوں میں 200 ارب روپے لیے۔

وزیر اعظم خان نے کہا کہ جہانگیر میرے بہت قریبی دوست ہیں اور وہ مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔ ان کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے مگر وہ بے قصور ہیں اور ان کے خلاف الزامات جھوٹے ہیں۔

You may also like

Leave a Comment