Home » فوجی پنشنروں کا بھی خیال کیجئے!

فوجی پنشنروں کا بھی خیال کیجئے!

by ONENEWS

فوجی پنشنروں کا بھی خیال کیجئے!

اَپ سالا (سویڈن) سے ایک پاکستانی دوست، عبدالقیوم صاحب میرے کالموں کی تعریفیں اور ان پر تبصرہ کرتے رہتے ہیں۔ میں ان کا شکر گزار ہوں …… خودستائی سے قطع نظر عرض کرنا چاہوں گا کہ دیار ہائے غیر میں جا بسنے والے پاکستانیوں کو ہم پاکستان میں رہنے والوں سے بھی زیادہ وطن سے محبت ہے۔ پاکستان کے سیاسی دنگل کے پہلوانوں اور داؤ پیچوں کا ذکر اذکار تو وہ کم کم کرتے ہیں لیکن غیر سیاسی موضوعات بالخصوص اقتصادیات اور دفاع پر ان کی پسندیدگی، ان کی حب الوطنی پر دلیل محکم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جو زرِمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں وہ ان کی کوئی مجبوری نہیں بلکہ پاکستان کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کی ایک ’حقیر‘ سی کوشش ہےّ لیکن وہ دفاعی موضوعات پر پاکستان کی کوئی مادی (میٹریل) مدد کرنے سے قاصر ہیں۔ میں ان کو لکھتا رہتا ہوں کہ مغربی ممالک میں جو دفاعی نمائشیں منعقد ہوتی ہیں، وہاں جا کر اُن نئی دفاعی ایجادات کی سُن گُن مجھے بھیجا کریں جو مستقبل کے پاکستان کی اصل ضرورت ہیں۔

میری ای میل کے مندرجات تو خفیہ نہیں رہ سکتے لیکن میں پھر بھی ان کو (انگریزی میں) اکساتا رہتا ہوں کہ وہ دفاعی پیداوار کے کارخانوں میں کام کرنے والوں کے ساتھ دوستیاں استوار کریں اور ان سے ایسی معلومات حاصل کریں جن کا تعلق جدید دفاعی مصنوعات سے ہو۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ مشن دراصل ان ممالک کے پاکستانی سفارت خانوں میں تعینات دفاعی اتاشیوں کا ہے۔ پاکستان کے دفاعی اور تجارتی (کمرشل) اتاشی یہ ذمہ داریاں ادا کرتے رہتے ہیں اور یہ ان کے فرائض منصبی کا حصہ بھی ہے۔ لیکن اس میں ایک قباحت یہ بھی ہے کہ مغرب میں دفاعی پیداوار اور تحقیق و تجسس کے اداروں میں ان کا ایک کاؤنٹر جاسوسی نظام بھی ہوتا ہے جو اس قسم کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھتا ہے۔

اکثر قارئین کو From Russia with Love نام کی فلم یاد ہو گی جس میں محبت اور جاسوسی کے نازک موضوع کو بڑی ہی فنکارانہ مہارت سے فلمایا گیا ہے۔ اسی طرح ایک اور امریکی فلم Moment to Moment کا ذکر بھی کرنا چاہوں گا جس مین جین سبزرگ کی اداکاری اوجِ کمال پر ہے۔ اس کی نسوانی اداؤں کا اسیر جب ایک نوجوان امریکی میرین آفیسر ہو جاتا ہے تو وہ اس سے جاسوسی راز لیتے لیتے خود اس کے دامِ الفت میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ اس طرح کی بہت سی فلمیں ہیں جن کا ذکر طولِ بیان کا باعث ہوگا۔ بعض بالی وڈ فلمیں بھی اسی موضوع کے گرداگرد بنائی گئی ہیں۔ پاکستانی فلم انڈسٹری (لالی وڈ) نے بھی اس کے جواب میں ایک آدھ ’کوشش‘ کی ہے لیکن نہ تو ہمارے فنکاروں نے اپنے رول کو بطریقِ احسن نبھانے کی سعی کی ہے اور نہ ہی ہمارے ناظرین نے ایسی فلموں کو کچھ پذیرائی بخشی ہے…… روس اور امریکہ کی باہم دشمنی کا سکیل شاید پاک بھارت کی باہم دشمنی سے زیادہ گہرا اور زیادہ موثر ہوگا…… میں اپنے غیر ملکی پاکستانیوں کو یاد دلاتا رہتا ہوں کہ اگر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی داستانِ محبت، پاکستان کو جوہری صلاحیت سے ہمکنار کر سکتی ہے تو کیا خبر کوئی دوسرا پاکستانی عبدالقدیر خان بھی کسی دیارِ غیر میں بیٹھا ہو اور پاکستان کے طول و عرض میں جو تیل و گیس کے دفینے مدفون ہیں ان کی وہ ٹیکنالوجی دریافت کرنے کی خبر لے آئے جو صحرائے عرب کو دنیا کا امیر ترین خطہ بنا چکی ہے!

لیکن سویڈن سے عبدالقیوم صاحب نے الٹا مجھے کہا کہ اگر آپ ایک ریٹائر فوجی ہیں تو کیا حکومتِ وقت نے آپ کی پنشن میں کوئی اضافہ کیا ہے؟ اگر نہیں کیا تو کیا آپ نے اپنے ہم مکتب فوجی پنشنروں کی حالت زار پر بھی کوئی کالم لکھا ہے؟…… دفاع کے موضوعات پر لکھنے والے کو ان لوگوں پر بھی لکھنا چاہیے کہ جن کا تعلق دفاع سے ہے۔ انہوں نے ساری زندگی شہادت کے انتظار اور تمنا میں گزار دی۔ یہ بات دوسری ہے کہ ان کی یہ آرزو پوری نہ ہوئی لیکن ان کی آرزو کی صداقت اور اہمیت پر تو کوئی حرف گیری نہیں کی جا سکتی۔ کرنل صاحب! آپ کو ایسے فوجی پنشنروں کی مالی کیفیات سے بھی پاکستانیوں کو خبردار کرنا چاہیے۔ ان لوگوں کا تعلق ایک ایسے پیشے سے رہا جس کے متعلقین ہر آن (اور زندگی بھر) موت / شہادت کی تمنا دل میں لئے سروس سے ریٹائر ہو گئے۔ کیا ان کی دیکھ بھال قوم کا فرض نہیں؟…… تحریکِ انصاف کی حکومت کو اب 30ماہ ہو چکے ہیں لیکن کیا کسی فوجی کی تنخواہ / پنشن میں ایک ’دھیلے‘ کا اضافہ بھی کیا گیا ہے؟ وغیرہ وغیرہ

قیوم صاحب کی یہ باتیں بلاشبہ مبنی برحقیقت ہیں۔ میں ایک پیشگوئی کئے دیتا ہوں کہ تحریک انصاف والوں کی یہ ”بے انصافی“ ان کو زیادہ دیر تک راس نہیں آئے گی۔ فوجی خواہ حاضر سروس ہو خواہ ریٹائر اس کے ساتھ اگرچہ ڈسپلن کا ایک اٹوٹ ضابطہ چمٹا رہتا ہے اور وہ چاہے بھی تو اس ضابطے کی حدود و قیود سے باہر نہیں نکل سکتا۔ لیکن جب یہ بندھن ٹوٹنے پر آتا ہے تو خود تو ٹوٹتا ہی ہے، گرد و پیش کے ماحول کو بھی کرچی کرچی ہوتا دیکھنے کا منتظر رہتا ہے!

ڈرو اس سے جو وقت ہے آنے والا

چند روز پیشتر اسلام آباد میں سرکاری ملازمین نے جو احتجاج کیا تھا، اس سے سرکار کی آنکھیں کھل جانی چاہیے تھیں۔ گریڈ 16تک کے ملازمین کو تو 25%اضافہ دے دیا گیا لیکن احتجاج کی آگ پھر بھی بجھ نہ سکی۔ ناچار سرکار کو گریڈ 20تک اضافہ کرنا پڑا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فوج میں بریگیڈیئر رینک تک کے افسروں کی تنخواہ بھی 25% بڑھ جائے گی۔ حکومت نے یہ کوئی نرالی ’مہربانی‘ نہیں کی۔ دو سال تک بجٹ میں تنخواہ / پنشن کو منجمد رکھنا اور تیسرے سال صرف 25% اضافہ کر دینا، سالانہ دس فیصد اضافے سے بھی 5%کم ہے اور وہ بھی یکم جولائی سے لاگو ہوگا!

حکومت کا ادّعا یہ ہے کہ 2010ء میں 18ویں ترمیم کے بعد وفاق کنگال ہو گیا ہے۔ اس کے پاس بجٹ کا جو حصہ آتا ہے اس کا 50% تو پچھلی حکومتوں کے قرضے اتارنے پر دینا پڑتا ہے۔ 1700ارب دفاع کی مد میں چلے جاتے ہیں اور باقی جو کچھ بچتا ہے وہ 600ارب روپے ہوتا ہے جس سے متفرق رفاعی اخراجات بھی پورے نہیں ہو پاتے اور یہی وجہ ہے کہ حکومت کو مالی سال کے آغاز پر ہی کشکول ہاتھ میں لے کر عالمی مالیاتی اداروں کے پاس جانا پڑتا ہے۔

…… اس کا حل ایک ہی ہے کہ یا تو صوبے اپنا وہ حصہ چھوڑ دیں جو 18ویں ترمیم میں ان کو دیا گیا تھا یا حکومت اس ترمیم کو ساقط کر دے۔ تاہم یہ مالی معاملات کچھ ایسے آسان نہیں۔ 18ویں ترمیم میں صوبوں کو جو محکمے دیئے گئے ہیں ان پر اخراجات کا ایک الگ پہاڑ ہے۔ بعض حلقے یہ خیال کر رہے ہیں کہ جونہی سینیٹ میں PTI کی اکثریت ہوئی اور حکومت کو دوتہائی اکثریت مل گئی تو پہلا ’کلہاڑا‘ 18ویں ترمیم پر چلایا جائے گا اور جو کلہاڑا دونوں سیاسی پارٹیوں (نون لیگ اور PPP) نے مل کر گیارہ برس پہلے ’مرکز‘پر چلایا تھا اس کے لگائے زخم مندمل ہونے کا آغاز ہو جائے گا۔

دیکھئے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment