Home » فن کاروں کی قدر کرنی چاہئے

فن کاروں کی قدر کرنی چاہئے

by ONENEWS

فن کاروں کی قدر کرنی چاہئے

2014ء کے دھرنوں کی بازگشت ابھی تک سنائی دے رہی جناب عمران خان سول نافرمانی کا اعلان کررہے ہیں۔ اس وقت کے بھاری اکثریت سے کامیاب ہونے والے وزیر اعظم نواز شریف کو گریبان سے پکڑ کر وزیر اعظم ہاؤس سے باہر نکانے کی خواہش کا اظہار کیا جا رہاہے۔ ایک طرف اسلام آباد کے مرکز ڈی چوک پر پارلیمنٹ کے سامنے 126 دن تک کا دھرنا ہے تو دوسری جانب۔ معیشت کو اربوں کا نقصان پہنچ رہا ہے پاکستانی روپے کی قدر کم ہونے کی وجہ سے قرضوں کی ادائیگی میں زیادہ رقم ادا کرنا پڑی ہے۔ سٹاک مارکیٹ میں مندی سے بھی اربوں روپے کا ہی نقصان ہورہاہے۔ چائنہ کے صدر کا دورہ ملتوی ہورہا ہے۔جناب عمران خان کی قیادت میں اداروں پر یلغار کر دی گئی ہے اور دنیا ان دھرنوں کے احوال اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے اور وہ دھرنے ملک و قوم کو بھرنے پڑے ہیں ایک بات تو طے ہے کہ عمران خان صاحب کے دھرنوں کی کچھ رونق اگر تھی تو جناب ڈاکٹر طاہر القادری کے کارکنوں کے دم قدم سے تھی، کیونکہ انکا کارکن بڑا پختہ عزم ہے۔ پی ٹی آئی کے کارکن تو قصے اور افسانوں والے تھے اور واقعی ان دھرنوں میں کئی قصوں اور افسانوں نے جنم بھی لیا، جس کا تذکرہ یہاں مناسب نہیں۔

2017ء میں پاکستان تحریک انصاف کی منحرف رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی کہہ چکی ہیں کہ خیبرپختونخوامیں تبدیلی کے نام پر ووٹ لے کر برسر اقتدار آنے والی تحریک انصاف کی صوبائی حکومت عوام کی زندگی میں تبدیلی لانے کی بجائے خودمفاد پرست اور کرپٹ مافیا میں تبدیل ہوچکی ہے۔ گالم گلوچ کا کلچر لانے والی پارٹی میں تبدیلی محض خواب ہے، جہاں خواتین کی عزت محفوظ نہیں رہی ہے۔ عائشہ گلالئی نے یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ انہیں عوامی رائے سے پتہ چلاہے کہ 2014ء کے دھرنے میں 47کروڑروپے کی منشیات فروخت کی گئی اور اس کاروبار میں پی ٹی آئی کے اپنے ایم این ایز اور ایم پی ایزشامل تھے،دھرنے میں خواتین کو رلایا گیا عائشہ گلالئی نے اور بہت سے انکشافات کئے تھے جن سے اتفاق کیا جا سکتا یا نہیں بھی کہ یہ انکی اپنی رائے اور انکشافات تھے عائشہ گلالئی کے الزامات تو رہے ایک طرف ہم جناب عمران خان کے قوم سے کئے وعدوں کا ذکر تو کر سکتے ہیں کہ ایک کروڑ نوکریاں مل جائیں گی پچاس لاکھ گھر ملیں گے انصاف ہوگا میرٹ ہوگا باہر سے پیسہ پاکستان آئے گا اور نہ جانے کیا کیا کچھ لیکن کیا ہوا؟ کچھ بھی تو نہیں بلکہ عوا م کو لینے کے دینے پڑ گئے روز بروز بڑھتی مہنگائی نے تو غریب کو خستہ اور شکستہ کر دیا ہے ہر کوئی عدم تحفظ کا شکار ہے سانحہ مو ٹر وے کے بعدچناب نگر میں ڈیڑھ سالہ بچی۔

چار سدہ میں اڑھائی سا لہ زینب اور خان پور میں چار سالہ بچے سے جنسی زیادتی کے بعد قتل کی لرزہ خیز وارداتوں نے حکمرانوں ہی کا سر تک شرم سے نہیں جھکایا ہے یہی نہیں ملک میں ایسی دیگر وارداتیں ہیں کہ رکنے کا نام نہیں لے رہیں اغواء۔ جنسی زیادتیاں اور قتل کے جاں سوز واقعات رونما ہوتے جا رہے ہیں پاکستان تحریک انصاف حکومت کے ایک ریکارڈ یافتہ جرائم پیشہ شخص کی درخواست پر سابق وزیراعظم نواز شریف، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی۔تین ریٹائرڈ جرنیل۔ موجودہ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر۔ مریم نواز سمیت مسلم لیگ (ن) کے دیگرعہدیداروں پر بغاوت کا مقدمہ درج کر دیا جاتا ہے اگرچہ حکومت اس سے لا تعلقی کا اظہار بھی کر چکی ہے۔جناب عمران خان نے اقتدا ر تک پہنچنے کے لئے عوام سے جوجو وعدے کئے کیا وہ پورے ہوئے؟ نہیں بلکہ انہوں نے عوام سے کئے وعدوں کو یکسر بھلا کر اپنے سیاسی حریفوں کو زچ کرنے میں تمام قوت لگا دی ہے اور اسکا فائدہ بھی کچھ نہیں ہوا حکومت ایڑھی چوٹی کا زور لگا کر بھی کسی پر کوئی روپیہ ثابت کر پائی ہے نہ ہی حکمران کسی سے کچھ وصول کر پائے خان صاحب پہلے روز سے کہتے چلے آرہے ہیں میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا اور اس نہیں چھوڑوں گا کی زد میں عوام بھی آگئے ہیں جناب عمران خان خود فرما چکے ہیں کہ میں یو ٹرن لیتا وزیر اعظم بن گیا ہوں اور باقی جیل پہنچ گئے ہیں۔

جناب عمران خان عام آدمی کی مشکلات کا ادراک نہیں کرپا رہے کہ وہ کس زبوں حالی کا شکار ہے ایک اندازے کے مطابق جناب وزیر اعظم 22ماہ میں مہنگائی پر تقریبا ڈیڑھ درجن نوٹس لے چکے ہیں اور مہنگائی پر جب بھی انہوں نے نوٹس لیا ہے اس کے بعد مہنگائی میں اور اضافہ ہوا ہے اب کے پھر وزیر اعظم صاحب نے مہنگائی پر نوٹس لیا ہے تو عوامی خدشات بڑھ گئے ہیں کہ پہلے ہی مہنگائی نے ان کا جینا محال کر رکھا ہے اس نوٹس کے بعد مہنگائی کا عالم کیا ہوگا اس لئے وزیر اعظم صاحب سے گذارش ہے وہ نوٹس نہ ہی لیا کریں تو بہتر ہے تاکہ مزید مہنگائی نہ ہو جناب وزیر اعظم فرماتے رہے ہیں کہ مہنگائی ہوجائے تو سمجھیں کہ حکمران چور ہیں تو جناب آپ ہی کے ارشادات کی روشنی میں اب کیا سمجھا جائے؟

ادھرسندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی نے مولانا عادل کے قتل کی تحقیق میں شیخ رشید کو شامل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے شیخ رشید جو آئے روز شگوفے چھوڑتے ہیں شائد اس لئے ایسا مطالبہ سامنے آیا ہے شیخ صاحب وزیر ریلوے ہیں لیکن فرائض وہ وزیر اطلاعات کے ادا کرتے ہیں بنکاک کے شعلوں سے لے کر بغداد کی راتوں تک جوڈو کراٹوں سے لے کر ٹائیں ٹائیں فش تک شیخ صاحب کی زندگی بس انہی ڈائیلاگ پر محیط ہے شیخ صاحب کو کسی بھی حکومت میں ایڈجسٹ ہونے کا فن آتا ہے لہذا جناب شیخ کو فنکار سمجھا جائے اور فنکاروں کی قدر کرنی چاہئے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment