Home » فنونِ لطیفہ کس سمت جا رہے ہیں؟

فنونِ لطیفہ کس سمت جا رہے ہیں؟

by ONENEWS

فنونِ لطیفہ کس سمت جا رہے ہیں؟

ٹی وی لاؤنج میں میرے ساتھ بیٹھے دوست نے ایک دم سے ٹی وی بند کر دیا اور ریموٹ اٹھا کر غصّے سے صوفے پردے مارا۔ پھر بُڑ بُڑ کرنے لگا۔ میں نے پوچھاآپ کواچانک کیا ہو گیا ہے اور اتنی جھنجھلاہٹ کا سبب کیاہے؟ وہ ٹی وی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا، ”یار، بندہ اس طرح کی بے ہودگی کب تک برداشت کرے۔ کبھی ٹیلی ویژن ڈرامے اور دیگر پروگرام تفریح طبع،علمی روشنی اور معلومات سے بھرپور ہوتے تھے۔ آج جس ٹیلی ویژن چینل کو کھولیں، بات”مصالحہ زَدگی“ سے شروع ہو کر ”مصالحہ زَدگی“ پر ختم ہوجاتی ہے۔ اور تو اور اشتہارات تک میں عورت کاایسامادیت پرستانہ رنگ رُوپ اجاگر کیا جاتا ہے جو مرد کی ذہنی پراگندگی کی گواہی دے رہا ہوتا ہے۔کتنی افسوس ناک بات ہے کہ ایک چھت کے نیچے بیٹھے خاندان کے افراد اگر ٹیلی ویژن دیکھ رہے ہوں تو یک دم سکرین سے نظریں ہٹا کر ایک دوسرے کی طرف ایسے دیکھتے ہیں جیسے اُن سے کوئی گناہ سَرزَد ہو گیا ہو اوروہ اس پر معذرت طلب ہوں۔“ دوست کی بات پر مجھے قطعاًتعجب نہ ہوا، اور نہ ہی میں نے کسی خفگی یاشکایت کا اظہار کیا۔کیوں کہ انہی اسباب کی وجہ سے میں نے پچھلے کئی سال  سے ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھنا ہی چھوڑ دیا ہے۔

ٹیلی ویژن، ریڈیو، اخبار، میگزین اور دیگر ذرائع رسل و رسائل فنونِ لطیفہ کی جلد ترویج و تشہیر کے مستند اور مُوثّرذرائع تصّور کیے جاتے ہیں۔ جو کچھ اور جس طرح فنونِ لطیفہ کے دائرے میں تخلیق ہو رہا ہوتا ہے، وہ اُسی طرح ان ذرائع ترویج و تشہیرکے ذریعے ہر خاص و عام تک رسائی حاصل کرتا ہے۔دراصل فنونِ لطیفہ زندگی کی تصویر کے ہمہ جہت رنگوں کی قوسِ قَزح ہے۔ جس کے رنگ معاشرے کے اَدب، نقش کشی،موسیقی، رقص اور دیگر عوامل سے دَھنک پذیر ہوتے ہیں اورجن کا معاشرے،اُس کے تعلیمی نظام، مذہبی عقائد،رسم و رواج،اندازِ فکر، اندازِگفتگو، زبان اور طرزِ بودوباش پرگہرا اثر ہوتا ہے، یا یوں کہیے یہ عوامل فنونِ لطیفہ کیلئے خام مال کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پھر فنونِ لطیفہ اپنے وقتِ تخلیق پرپَنپنے والے سماج کی معاشی، معاشرتی،سیاسی اورمذہبی نمائندگی کرتے ہیں۔ اسی لئے آج موہنجوداڑو، ہڑپہ اور دیگر تاریخی مقامات کی کھدا ئی سے دریافت ہونے والے نوادرات، آلات اور اشیاء استعمال سے اُس وقت کے معاشرے کی اَجمالی تصویر کشی آسان ہوگئی ہے۔

پاکستانی معاشرہ اپنے فنونِ لطیفہ اور تہذیب و ثقافت کی وجہ سے اپنے پڑوسی ممالک کیلئے کبھی درس گاہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ دورِ جدید کی مواصلاتی یلغار نے جہاں بہت سے اور ”کارہائے نمایاں“ سرانجام دیے ہیں، وہاں فنونِ لطیفہ کی ہرصِنف میں، قبل ازیں،جو تخلیقی اَوج، پُروقار کشش اور معانی کے پَرت پِنہاں تھے،آج وہ سب کچھ ایک شورو غوغاپر مبنی بے ترتیب، بے ہنگم اور اندھے راستوں کی جانب گامزن زندگی کی دوڑ میں کھو گیا ہے۔ راقم کے نزدیک اگر کسی قوم یا معاشرے کے مزاج اور تفہیمی لگاؤکوسمجھناہو تو اُس قوم یا معاشرے کے فنونِ لطیفہ کا طائرانہ مطالعہ کافی ہے۔

تھیٹرشروع اوقات سے ہی تفریح طبع کا سہل اور سستا ذریعہ رہا ہے۔ ڈرامائی کہانیوں کے ساتھ ساتھ، ہلکی پھلکی جُگت بازی،مسکراہٹوں اور قہقہوں کے ذریعے، ذہنی کوفت اور جسمانی تھکن کو قدرے کم کرنے کا ذریعہ سمجھی جاتی رہی ہے۔ مگر آج کے تھیٹر یا سٹیج ڈرامے ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے مقدّس رشتوں کی گھناؤنی تضحیک اور تکفیر کے گرد گھومتے ہیں۔ جہاں عورت کو انسان کی بجائے چیز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ادھرٹیلی ویژن کے ڈرامے والدین سے بغاوت اور میاں بیوی کے درمیان باہمی دھوکہ دہی کاتربیتی نصاب بن کر رہ گئے ہیں۔

ڈراموں کے علاوہ باقی کے پروگرام بھی تمسخرِ نسوانیت کے گرد گھومتے ہیں۔ سگریٹ کے اشتہار میں بظاہر ایک مرد سگریٹ کا والہانہ کش لگاتا دکھائی دیتا ہے، مگر اس کَش کو جولانی بخشنے کے لئے خاتون ماڈل کواشتہار سے اس طرح نتھی کیا جاتا ہے جیسے وہ سگریٹ کامتصِل حصّہ ہے یہی حال تقریباًہر اشتہار کا ہے جہاں صنفِ نازک مشتہر کی جانے والی چیز کے لازمی حصے کے طور پر دکھائی دیتی ہے۔ فلموں کو لے لیجیئے۔ وہ الفاظ جو کبھی گالی کے طور پر استعمال کیے جاتے تھے اورجن کا سننا یا بولنا بد تہذیبی پر دلالت کرتا تھا، آج وہی الفاظ فلمی مکالمے کی جان ہیں۔ شعر و سُخن نفیس جذبات کی عکّاسی سے نکل کرہوس کے بیانیے میں ڈھل رہا ہے۔ ذرا آج کی موسیقی پر نظر دوڑائیے،بے وقار شورشرابے، اُودھم پیل اور ذُومعانی بولوں سے بڑھ کے کچھ نہ سُن پائیں گے۔

چند سال قبل ایک انگریزی رسالہ کے صفحہ پر ایک انگریز خاتون کی تصویر شائع ہوئی، جو بے لباس تھی، مگر جسم کے چند حصوں پر پینٹ لگا کر پردہ داری کا بھرم رکھا گیاتھا اور اُس کے نیچے درج تھا ”What will she wear next?“ یعنی اس کے بعد وہ کیا پہنے گی۔آج خواتین کا پسندیدہ لباس وہ ہے جو کبھی کسی دوسرے لباس کے نیچے پہنا جاتا تھا، مگر اب وہ باہر آگیا ہے اور باہر والالباس قصّہِئ پارینہ بن گیا ہے۔ اگرچہ”جدید“ ماہرین ِفنونِ لطیفہ اس کی سب سے بڑی وجہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی یلغار کو قرار دیتے ہیں، تو پوچھنا یہ تھا کہ ساری یلغار کا مرکزپاکستان ہی کیوں ہے جو آج فُحش بینی میں وہ مقام حاصل کر چکا ہے کہ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی عالمی فُحش بینی کے مقابلے میں اِسے مات دینا شاید ممکن نہ ہو۔

مانا کہ اقبال نے کہا تھا ”وجودِزَن سے ہے تصویرِکائنات میں رنگ“مگر فنونِ لطیفہ کے موجودہ اجزاء دن بدن اس رنگ کو بَد رنگ کیے جا رہے ہیں۔فضا بدلتی جا رہی ہے۔نتیجتاًآج دو سال کی بچی کے ساتھ اُس کاناناشیطانیت کا مرتکب ہوتا ہے۔کہیں سات سالہ زینب درندگی کا نشانہ بنتی ہے، توکہیں آئے روزمعصوم بچے بد فعلی کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔اشرف المخلوقات کے مزاج، رذیل المخلوقاتی ہوتے جا رہے ہیں۔ فنونِ لطیفہ کے تخلیق کاروں سے سمت بدلنے کی درخواست ہے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment