Home » فائزعيسیٰ کو خفيہ رياستی جاسوسی کا نشانہ بنایاگیا، سپریم کورٹ

فائزعيسیٰ کو خفيہ رياستی جاسوسی کا نشانہ بنایاگیا، سپریم کورٹ

by ONENEWS

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ معزز جج کے خلاف ریفرنس غیر آئینی تھا۔ انہیں خفيہ رياستی جاسوسی کا نشانہ بنایا گیا۔

جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کے خلاف صدر مملکت عارف علوی نے بیرون ملک اثاثہ جات رکھنے کے الزام میں سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا تھا جس کے خلاف قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ نے 19 جون 2020 کو مختصر فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس خارج کر دیا تھا۔

جمعہ کو سپریم کورٹ نے کیس کا تفصیلی فیصہ کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صدارتی ریفرنس بدنیتی پر مبنی تھا۔ ریفرنس میں لگائے گئے الزامات میں کوئی جان نہیں۔ جسٹس فائز عیسیٰ کو لندن کی جائیدادیں بتانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ انہیں خفیہ ریاستی جاسوسی کا نشانہ بنایا گیا۔

سپریم کورٹ کا 244 صفحات پر مبنی فیصلہ جسٹس عمرعطا بندیال نے لکھا ہے جبکہ جسٹس فیصل عرب اور جسٹس یحیٰ آفریدی نے فیصلے میں الگ نوٹ تحریر کیا ہے۔

فیصلے کے مطابق شہزاد اکبر کے ایسٹ ریکوری یونٹ کی قانونی حیثیت نہیں۔ اس کے ذریعے یا دیگر ذرائع سے جسٹس عیسیٰ کے خلاف جمع کی گئی تمام معلومات غیرقانونی ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور دیگر درخواست گزاروں نے ریفرنس کے خلاف دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت اور مخصوص ادارہ فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے سے خوش نہیں تھے۔ اس لیے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا اور اس فیصلے کو بھی چیلنج کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی درخواستوں کو بدنیتی نہیں کہا جاسکتا۔ فیصلوں کے خلاف نظر ثانی درخواستیں دائر کرنا آئینی و قانونی حق ہے۔

صدر مملکت کا کردار

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس غیر آئینی تھا۔ صدر مملکت آئین اور قانون کی روشنی میں فرائض انجام نہیں دے سکے۔ صدر اپنی ذمے داری ادا کرنے میں ناکام رہے۔ صدر مملکت نے اپنا دماغ استعمال کرنے کے بجائے وزیرقانون اور اٹارنی جنرل کے کہنے پر ریفرنس بھیجا۔ حالانکہ ان دونوں نے ریفرنس تیار کیا تھا اور یہاں مفادات کا ٹکراؤ تھا۔

جب صدر مملکت کے سامنے ریفرنس پیش کیا گیا تو اس میں بہت ساری خامیاں تھیں۔ سر دست اس میں یہ بھی شامل نہیں تھا کہ آیا ایف بی آر نے سرینہ عیسیٰ کو نوٹس بھیجا یا نہیں اور انہوں نے کیا جواب دیا۔ اس کے باوجود صدر نے ریفرنس آگے بڑھا دیا۔

ججوں کا احتساب

سپریم کورٹ نے ججز کے احتساب کو جمہوری معاشرے کیلئے لازمی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ کی آزادی اتنی نازک نہیں کہ شکایات سے خطرے میں پڑجائے۔ درحقیقت بلامتیاز، قانونی اور شفاف احتساب نہ صرف عدلیہ کی آزادی کو مزید مستحکم کرنے کا باعث بنے گا بلکہ عوام کا اعتماد بحال ہونے کے ساتھ قانون کی حکمرانی کو پروان چڑھانے میں مدد گار ثابت ہوگا۔

ایف بی آر، ایسٹ ریکوری یونٹ، وزارت قانون 

سپریم کورٹ نے لکھا ہے کہ وزارت قانون اور ایسٹ ریکوری یونٹ نے غیرقانونی طریقے سے جسٹس فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ کے انکم ٹیکس ریٹرن حاصل کرکے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ اسی طرح ایف بی آر کے چیئرمین نے معلومات غیرقانونی طور پر وزارت قانون اور اے آر یو کو فراہم کرکے جرم کیا ہے۔ 

سپریم کورٹ نے ایف بی آر کے موجودہ چیئرمین کو ہدایت کی ہے کہ تمام ریکارڈ کو سامنے رکھتے ہوئے وزیر قانون فروغ نسیم، اے آر یو کے سربراہ شہزادا کبر اور اس وقت کے چیئرمین ایف بی آر سمیت ان تمام افسران کے خلاف کارروائی کی جائے جنہوں نے غیر قانونی طریقے سے معلومات فراہم کیں یا حاصل کیں۔

فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ ڈوگر نے جب شکایت کی تو وزیر قانون نے ایسٹ ریکوری یونٹ کو اس کی تصدیق کی ہدایت کی جبکہ ایسٹ ریکوری یونٹ نے ایف بی آر سے ٹیکس گزاروں ( جسٹس عیسیٰ اور اہلیہ) کا کنفیڈینشل ڈیٹا مانگ لیا اور ایف بی آر کے چیئرمین نے اس غیرقانونی عمل پر احتجاج کرنے کے بجائے من و عن ایسٹ ریکوری یونٹ کی ہدایات پر عمل کیا۔ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت یہ غیرقانونی عمل ہے۔

ریفرنس میں کیا خیامیاں تھیں

سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف تحقیقات کی صدر مملکت یا وزیراعظم سے منظوری نہیں لی گئی بلکہ وزیرقانون کے حکم پر تفتیش شروع ہوئی۔

ریفرنس دائر کرنے سے قبل سرینہ عیسیٰ کو انکم ٹیکس قوانین کے تحت نوٹس بھیجنا لازمی تھا جو نہیں بھیجا گیا۔

ریفرنس اس مفروضے کی بنیاد پر تیار کیا گیا کہ جسٹس قاضی عیسیٰ اپنی خود مختار اہلیہ اور بچوں کے اثاثوں کے بارے میں جوابدہ ہیں۔

ریفرنس میں منی لانڈرنگ کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

اسی طرح ریفرنس میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ فارن ایکس چینج منجمنٹ ایکٹ کے کس قانون کی خلاف ورزی کی گئی۔

صدر مملکت نے ریفرنس سے متعلق وزیرقانون اور اٹارنی جنرل کے ناقابل عمل مشوروں پر عمل کیا۔

صدر مملکت نے ریفرنس دائر کرنے کیلئے کسی تیسرے فریق سے غیرجانبدار، شفاف اور قابل عمل رائے نہیں مانگی۔

صدر مملکت ریفرنس میں پائی جائے والی قانونی خامیوں کو بھانپ نہ سکے۔

صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت مضبوط رائے قائم نہیں کی۔

جسٹس عیسیٰ اور سرینہ عیسیٰ کے خلاف تحقیقات کیلئے متعلقہ حکام ( صدر، وزیراعظم) سے منظوری نہیں لی گئی۔ اس لیے ایسٹ ریکوری یونٹ اور وزارت قانون نے غیرقانونی طریقے سے ڈیٹا حاصل کیا اور ایف بی آر نے فراہم کیا۔

جب مقدمہ عدالت میں چل رہا تھا تو اس وقت کی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے فائز عیسیٰ پر کیچھڑ اچھالا اور توہین عدالت کی مرتکب ہوئیں۔ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہوگی۔

You may also like

Leave a Comment