Home » عیسیٰ خان ترخان (ثانی) کی آخری آرام گاہ

عیسیٰ خان ترخان (ثانی) کی آخری آرام گاہ

by ONENEWS

فوٹو: شکیلہ شیخ

لافانی تعمیراتی حسن کے حامل مکلی کے مقبروں کو اعلیٰ تعمیراتی معیار اور دلکشی میں اولیت کا شرف حاصل ہے۔ مکلی سندھ کی پرشکوہ تاریخ اور تہذیب کا عکاس ہے سب سے زیادہ شاندار اور دلفریب پتھر سے بنی عمارات میں عیسیٰ خان ترخان دوئم کا مقبرہ سر فہرست ہے، مکلی میں یہ مغلیہ دور کی سب سے بڑی اور عظیم الشان عمارت ہے۔ مرزا عیسیٰ خان ترخان ثانی، مرزا عیسیٰ خان اول کے پوتے تھے۔ ترخان خاندان کے زوال کے بعد دہلی کے مغل دربار میں پہلے چار ہزاری منصب پر فائز رہے اور بعد میں 1627ء میں انہیں سندھ کے شہر ٹھٹھہ کا گورنر مقرر کیا گیا۔ شاہجہاں کے دور حکومت میں وہ ´کرنا` کے قلعہ دار تھے اور اسی زمانے میں انہوں نے اپنے مقبرے کی تعمیر کے لئے پتھر ٹھٹھہ روانہ کرنا شروع کر دیے تھے۔ مقبرے کی تعمیر مرزا عیسیٰ خان ترخان نے خود شروع کرائی تھی، تعمیر کا کام مسلسل 18 سال تک ان کی زندگی میں بھی جاری رہا۔ ان کا انتقال 1664ء میں ہوا۔ مرزا عیسیٰ خان ترخان کا پورا مقبرہ پیلے رنگ کے پتھروں سے تعمیر کیا گیا ہے پتھر سے بنی ہوئی اس عمارت پر نقاشی، کندہ کاری اور کہیں کہیں برمائی بھی کی گئی ہے۔ محرابوں پر قرآنی آیات انتہائی خوبصورت انداز میں تحریرکی گئی ہیں جو خطاطی کا اعلیٰ نمونہ ہے جبکہ چھت کے اندرونی حصے میں ٹائلز لگے ہیں۔ بے شمار ستونوں پر کھڑے اس مقبرے کا گنبد سفید رنگ کا ہے۔

باہر سے دیکھنے پر یہ 2 منزلہ مقبرہ کسی حویلی کا منظر پیش کرتا ہے اور دروازے سے داخل ہوتے وقت کسی قلعے کا گمان ہوتا ہے۔ خواتین کے لیے مخصوص عمارت کی بالائی منزل گجراتی، اسلامی اور خالص مغلیہ طرز تعمیر کا حسین امتزاج ہے۔ مقبرے کے احاطے میں عیسیٰ خان ترخان ثانی کے خاندان کے 11 افراد کی قبریں کتبے کے بغیر ہیں جب کہ وہیں ان کی اہلیہ بھی مدفن ہیں۔ عمارت کی تعمیر میں آٹھ فٹ سے زیادہ لمبائی کے پتھروں پر اس انداز سے آیات اور نقش و نگار کنندہ ہیں کے دیکھنے والے حیران رہ جاتے ہیں۔ مکلی میں مرزا عیسیٰ خان ترخان کا مقبرہ عظمت، وسعت اور بلندی میں منفرد ہے۔ جسے دیکھنے والے اس کے کاریگروں کے فن کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ٹھٹھہ کے گورنر مرزا عیسیٰ خان ترخان کے مقبرے کی عمارت سندھ دھرتی کی شاندار و جاندار تاریخ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مغلیہ دور کی عمارتوں میں سے ایک یہ مقبرہ اپنی بناوٹ میں یکتا ہے، مگر یہ عمارت آجکل سوشل میڈیا پر تاریخ میں دلچسپی رکھنے والوں کا موضوع بحث بنی ہوٸی ہے۔ کچھ سندھ دشمن عناصر سندھ کی تہذیب و ثقافت کو عالمی سطح پر نقصان پہنچانے میں مصروف عمل ہے۔

عیسیٰ خان ترخان

فوٹو: شکیلہ شیخ

بس یہی وجہ تھی کہ اس اتوار کو ہم نے ’’ٹیم میں عوام‘‘ کے ساتھ مکلی جانے کا پروگرام بنایا اور جاننے کی کوشش کی کہ کیا واقعی محکمہ آثار قدیمہ و نوادرات سندھ کی تاریخ کو مسخ کر رہا ہے۔ ہم اتوار کی صبح ہی مکلی قبرستان پہنچ گئے وہاں ہماری ملاقات ظفراقبال جو کہ کنزرویٹر اور سرفراز نواز جتوئی جو اسسٹنٹ آرکیالوجی انجنیئر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ تعارف کے بعد یہ دونوں صاحبان ہم سب کو سیاحوں کے لیے مخصوص شٹل بس سروس میں بیٹھا کر مرزا عیسیٰ خان ترخان ثانی کے مقبرے پر لے گئے جہاں پر انہوں نے مقبرے کے احاطے میں ڈالے جانے والے فرش کو دکھایا جس کو لیکر سوشل میڈیا پر واویلا مچایا جا رہا تھا کہ تاریخ کو مٹایا جا رہا ہے اور پرانے پتھر نکال کر نئے پتھر نصب کیے جا رہے ہیں۔ ہمارے سوال کرنے پر ظفر اقبال صاحب نے بتایا کہ یہاں مقبرے کے احاطے میں فرش پر جو پرانی ٹائلیں تھیں وہ وفاقی حکومت کی طرف سے لگوائی گئی تھیں اور وہ آثار قدیمہ کا حصہ نہیں تھیں ان پرانی ٹائلوں کی حالت یہ ہوچکی تھی کہ ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے ٹائلیں اپنی جگہ سے ہل گئی تھیں اور انکے مابین کافی فاصلہ آچکا تھا جہاں بارش کا پانی انکے اندر ٹھہر جاتا تھا جس کو نکالنا ناممکن ہوجاتا تھا اور کٸی کٸی دن پانی کھڑا رہتا تھا اور وہ بارش کا پانی اصل تاریخی مقبرے کی بنیادوں کے لیے خطرناک ہو رہا تھا یہی وجہ تھی کہ پرانے فرش کی ٹائلیں نکال کر آثار قدیمہ کے اصولوں کے تحت بہتر فرش اور پانی کی نکاسی کا نظام بحال کیا گیا ہے جس کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے

سرفراز نواز جتوئی نے ہمارے سوال کے جواب میں بتایا کہ اس مقبرے کو ہنگامی بنیادوں پر مستحکم کیا گیا ہے کیونکہ پہلے بھی بارشوں میں اس مقبرے کو نقصان پہنچ چکا ہے اور پرانے فرش پر جابجا پودے نکل آئے تھے جن کی جڑیں اندر جا رہی تھیں اور نتیجے میں دراڑیں پڑ گئیں اور جب بھی بارش ہوتی تھی تو پانی بنیادوں میں چلا جاتا تھا اس لیے غیر ہموار پتھروں کو نکال کر پلین پتھر لگائے گئے ہیں تاکہ سیاحوں کو چلنے میں آسانی ہو اور ویسے بھی یہ پتھر آثار قدیمہ میں شمار نہیں تھے۔ پاکستان بننے سے پہلے بھی ہندوستانی سرکار نے یہ پتھر لگوائے تھے اور ابھی یہ کام نامکمل ہے، بچ جانے والے فرش کو ابھی چونے اور بجری کے پلستر سے دراڑوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ ہمارے رابطہ کرنے پر ڈائریکٹر جنرل محکمہ آثار قدیمہ و نوادرات منظور احمد کناسرو کا کہنا تھا کہ مکلی صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا عالمی ورثہ ہے اور اس پر کیا جانے والا بحالی کا ہر کام عالمی اصولوں کے مطابق ہی سرانجام دیا جاتا ہے، غلط بیانی کرکے عوام کو گمراہ نہ کیا جائے بلکہ سندھ کی تاریخ کو مثبت طریقے سے اجاگر کرنے میں ہمارا ساتھ دیا جائے تاکہ بین الاقوامی سیاح اور محققین کوسندھ کی طرف راغب کیا جاسکے، یہ عظیم الشان مقبرہ سندھ کا قومی ورثہ ہے جس کی دیکھ بھال و حفاظت محمکہ آثار قدیمہ کی ذمہ داری ہے اور اس کو احسن طریقےسے انجام دیا جا رہا ہے۔

.

You may also like

Leave a Comment