Home » عوام کے جان ومال کی محافظ پو لیس عید کیسے گزارے گی؟

عوام کے جان ومال کی محافظ پو لیس عید کیسے گزارے گی؟

by ONENEWS

عوام کے جان ومال کی محافظ پو لیس عید کیسے گزارے گی؟

پنجاب پولیس نے مختلف خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے تھریٹس کے باوجود عید الاضحی کے موقع پر خوداعتمادی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پنجاب کے باسیوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے جس کیلئے ہر اضلاع میں جامع سکیورٹی پلان ترتیب دیا گیا ہے۔ پولیس فورس کے تمام دستے اس موقع پر اپنے اپنے علاقہ جات میں گشت کی ڈیوٹی سرانجام دیں گے عید کے اجتماعات میں مساجداور کھلے مقامات پر داخلے کے لئے تمام شرکاء کی کورونا پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایس او پی پر عملدرآمدکے بعد داخلے کی اجازت ہوگی۔پولیس افسران و اہلکار اپنے گھروالوں کے ساتھ عید منانے کی بجائے چھٹی کے چار دن شہریوں کی حفاظت پر مامور ہوکر خدمت میں گزارنے کا عزم کیے ہو ئے ہیں۔ مویشی منڈیوں، عید الاضحی کے موقع پر مساجد میں ڈیوٹی، قبرستان اور تفریحی مقامات پر الرٹ ہوکر فرائض سرانجام دینے کے لیے افسران سمیت پوری فورس ایک بار پھرعوام کے جان و مال کا تحفظ کرتی نظر آئے گی۔پولیس میں نڈر، بہادراورفرض شناس لوگوں کی کمی نہیں ہے۔حالات چاہے کتنے ہی مشکل ہوں، یہ پولیس والے کبھی اپنے فرض سے منہ نہیں موڑتے۔

ایسے ہی اچھے اور بہادر پولیس والوں کی وجہ سے محکمے کی عزت قائم ہے۔دنیا بھرمیں بننے والی اگرفلموں کا جائزہ بھی لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ 75 فیصد سے زائد فلموں کا ہیرو پولیس والا یا پھرقانون نافذ کرنے والے ہی کسی ادارے کا آفیسر ہوتا ہے جو کہ بدی سے لڑتے ہوئے آخرکارفاتح ثابت ہوتا ہے۔حقیقی زندگی میں بھی پولیس والا عوام کی مدد کرتا ہے اوربعض اوقات ان کے جان و مال کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان بھی قربان کردیتا ہے۔انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب شعیب دستگیرنے پنجاب بھر کے تمام افسران کو عید الا ضحی کے موقع پر فول پروف اور جامع سکیورٹی پلان ترتیب دینے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ اگر شہرِ لاہور میں امن و امان، پولیس اصلاحات اور پولیس اہلکاروں کی ویلفیئر کی بات کی جائے تو سو فیصد کریڈٹ لاہور پولیس کے سر براہ ذوالفقار حمید،ڈی آئی جی آپریشن اشفاق احمد خان،ایس ایس پی آپریشن فیصل شہزاد اور ایس ایس پی انوسٹی گیشن زیشان اصغر کو جاتاہے جنہوں نے دن رات کام کرتے ہوئے جرائم کی شرح کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ڈی آئی جی آپریشن اشفاق احمد خان کی لاہور میں دوبارہ تعیناتی سے فورس کے درمیان ایک جذباتی عکس کی جھلک دکھائی دے رہی ہے انھوں نے آتے ہی سمن آباد اور اقبال ٹاؤن میں جنم لینے والے مذہبی ایشو کو پیشہ وارانہ مہارت اور مقامی معززین کے ساتھ مل کر احسن طریقے سے حل کیاہے،پولیس کے افسران و اہلکاروں کا صبر کا پیمانہ لبریز نہ ہونے دیا اور لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو انتہائی پروفیشنل طریقے سے ہینڈل کیا ہے، تمام افسران کی دن رات محنت، انصاف، اعلی معیار پو لسینگ اوربہتر ین ایڈ منسٹریشن کی بدولت آج پنجا ب بالخصوص لا ہورپو لیس کا امیج پہلے سے بہتر ہواہے۔

لاہور پولیس کی بہترین کارکردگی کا اندازہ آپ اس سے بھی لگا سکتے ہیں کہ کا ہنہ کے علاقہ میں دوروز قبل شہری مدثر خلیل سے لوٹی جانیوالی 15لاکھ کی رقم کے ڈاکوؤں کو ایس ایچ او کاہنہ رانا ارحم نے چند منٹوں بعد ہی گھیراؤ کر کے گرفتار کرلیا جبکہ ان کا ایک ساتھی ڈاکوؤں کی اپنی فائرنگ سے ہی ہلاک ہو گیا اسی طرح قبل گجر پورہ کے علاقہ میں بھی ایک ڈاکوورادات کے بعدفرار ہونے کی کوشش میں پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا جبکہ گجر پورہ میں ہی پولیس نے ڈکیتی کے دوران اجتماعی بد اخلاقی کرنے والے ملزمان کو وقوعہ کے تھوڑی ہی دیر بعد گرفتار کر لیا ۔ کرائم فائٹر،محب الوطنی اور جانفشانی کے پیکر ڈی آئی جی اشفاق احمد کہتے ہیں، کہ آئی جی پولیس اور سی سی پی او کی ہدایت کے مطابق محکمہ داخلہ کی طرف سے کالعدم قرار دی گئی کسی بھی تنظیم کے قربانی کی کھالیں اکٹھے کرنے پر مکمل پابندی ہو گی،کالعدم تنظیموں کو قربانی کی کھالیں اکٹھی کرنے سمیت کسی بھی قسم کی سرگرمی نہیں کرنے دیں گے،کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر محرم الحرام سمیت پورا سال راؤنڈ دی کلاک پابندی ہو گی،لا ہورپولیس محرم الحرام کے سیکورٹی پلان کی تیاری کے حوالے سے پہلے ہی آن بورڈ ہے ضلعی امن کمیٹی سمیت ہر سطح کی امن کمیٹیوں اور مختلف قانون پسند طبقات سے تجاویز موصول ہو رہی ہیں، عید الاضحی کے سیکورٹی پلان پربھی پولیس کو اسی سپرٹ کے ساتھ کام کرنا ہو گا جس سپرٹ سے عیدالفطر کے موقع پر سیکورٹی انتظامات کئے گئے جس کی وجہ سے عیدالفطر کا تہوار لا ہورکی عوام نے قانون کی حکمرانی کی وجہ سے قائم قابل رشک پرامن ماحول میں منایا۔تمام ایونٹس پر خفیہ ایجنسیوں کی دہشت گردی بارے اطلاعات اور لا ہور پولیس کی جانب سے ثابت قدمی سے ان تمام چیلنجز کو قبول کر کے کامیابی حاصل کرنے پر یہ سیلوٹ کی حقدار ہے۔

آج پہلے والی پولیس نہیں ہے اس میں خوف خدا بھی ہے اور لوگوں کی خد مت کر نے کا جذبہ بھی شامل ہے۔میرے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ عید کے پرمسرت موقع پر جب نماز کے ختم ہونے کے بعد لوگ اپنے دوستوں پیاروں سے گلے مل رہے ہوتے ہیں اور مبارکبادیں پیش کر رہے ہوتے ہیں تو عیدگاہ کی حفاظت پر معمور ”پولیس جوان“ کو یکسر نظرانداز کرتے اسے گلے لگانا تو دور کی بات اس سے سلام کرنا بھی گوارہ نہیں سمجھتے۔ جس کی وجہ سے اسکے دل میں معاشرے کے خلاف نفرت مزید بڑھ جاتی ہے اور پھر معاشرے اور پولیس کے درمیان حائل نفرتوں کی خلیج مزید وسیع ہو جاتی ہے۔قارئین سے درخواست ہے کہ کہ اگر ہم ان نفرتوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان پولیس والوں کو بھی اپنے ہی جیسا انسان سمجھنا ہو گا جو ہماری حفاظت پر معمور بیس‘ بیس گھنٹے اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں اور بالخصوص عید کے تہواروں پرکہ جب اپنے ماں‘ باپ‘ بیوی بچوں اور بہن بھائیوں سے دور اپنی فیملی کو چھوڑ کے اور اپنی جان داؤ پر لگا کے ہماری حفاظت کر رہے ہوتے ہیں ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم انہیں بھی اپنی فیملی کا ممبر سمجھتے ہوئے کررونا وباء کی وجہ سے گلے تو نہیں لگاسکتے مگر ہاتھ اٹھا کر سیلوٹ پیش کرتے ہوئے اپنی خوشیوں میں شامل کریں۔مجھے امید ہے کہ اس عید قربان پر جہاں کروڑوں فرزندان توحید سنت ابراہیمی کو زندہ کریں گے وہاں معاشرے میں ان نفرتوں کو ختم کر نے کے لئے بھی بھرپور کردار ادا کریں گے اور پولیس والوں کو بھی انسان سمجھتے اپنی خوشیوں میں شریک کریں گے

مزید :

رائےکالم

You may also like

Leave a Comment