Home » عوام کہاں ہیں؟

عوام کہاں ہیں؟

by ONENEWS

پاکستان میں جمہوریت کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے پروگرام میں عوام کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ نہ ان کی تنظیموں میں اور نہ ہی ان کی سیاست میں۔ تحریک انصاف کے برسراقتدار آتے ہی مخالف جماعتوں نے خاص طور پر مسلم لیگ(ن) اور مولانا فضل الرحمن نے حکومت کے خلاف مورچہ بندی کر لی۔ مولانا جو کبھی خود صوبہ خیبرپختونخوا کی حکومت کے والی وارث تھے اور وفاق میں کشمیر کمیٹی کے دس سال سے چیئرمین تھے اور اس حوالے سے وفاقی وزیر کی مراعات سے فیض  یاب ہو رہے تھے۔ نئی صورت حال کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔2013ء کے انتخابات میں انہوں نے مسلم لیگ (ن)  سے کہا صوبہ سرحد میں تحریک انصاف کی حکومت نہ بننے دی جائے، لیکن میاں نوازشریف نہ مانے، انہیں صوبہ خیبرپختونخوا میں کھچڑی بنانے میں دلچسپی نہ تھی۔ وہ پنجاب اور وفاق میں اختیارات سنبھالنے پرخوش تھے۔ بلوچستان میں بھی ان کی حکومت بن گئی تھی، لیکن مولانا زخمی شیر کی طرح دھاڑتے رہے اور جب دوسری مرتبہ صوبہ خیبرپختونخوا ان کے ہاتھ سے نکلا تو برداشت نہ کر سکے، لیکن 2018ء کے انتخابات میں دوسری مرتبہ صوبہ کے ہاتھ سے نکلنا اور اس پر وفاق میں بھی تحریک انصاف کی حکومت گویا کہ زخموں پر نمک بھی چھڑکا گیا تو صورت حال مولانا کے لئے اور بھی ناقابلِ برداشت ٹھہری اور یوں مولانا انتخابات کے خاتمے کے ساتھ ہی میدانِ مزاحمت میں کود پڑے۔

مسلم لیگ (ن) بھی زخمی تھی اور محکمہ زراعت کے خلاف ادھار کھائے بیٹھی تھی، لہٰذا فوراً مولانا کی گود میں آگری، مولانا کا چونکہ کوئی مفاد اس حکومت سے وابستہ نہ تھا، لہٰذا انہوں نے پہلے دن سے اسمبلیوں سے استعفیٰ کو اپنا نعرہ بنا لیا۔ پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت تھی، لہٰذا اس کے لئے یہ ناقابلِ قبول تھا اور شاید اب بھی ہے۔ اگرچہ مولانا نے مسلم لیگ (ن) کو راضی کر لیا ہے، لیکن پیپلزپارٹی سندھ میں آئندہ تین سال کی حکومت چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوگی، کیونکہ آئندہ تین سال تک حکومت میں نہ رہنے کا مطلب سندھ میں کسی دوسری سیاسی قوت کے لئے راہ ہموار کرنا ہے اور اس دوران کوئی نیاجام صادق بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ پیپلزپارٹی کی سندھ میں گزشتہ بارہ برس سے کارکردگی بھی کوئی ایسی تسلی بخش نہیں کہ تین سال حکومت سے باہر رہ کر عوام کے قریب رہ سکے اور پھر پیپلزپارٹی جانتی ہے کہ سندھ میں نئے صوبے کا نعرہ شہروں کو اس سے دور کر سکتا ہے۔نہ صرف یہ بلکہ سندھ میں مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علمائے اسلام، قوم پرست جماعتیں اور کچھ اور مذہبی حلقے بھی اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو رہے ہیں، لہٰذا آئندہ تین برس تک حکومت میں نہ رہنا سندھ میں پیپلزپارٹی کے لئے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ تو ایک پس منظر ہے۔  اپوزیشن اور خاص طور پر مسلم لیگ (ن) کا حکومت سے عوامی اور قومی زندگی کے حوالے سے کیا اختلاف ہے؟ گزشتہ دو سال سے تحریک انصاف کی خارجہ پالیسی، معاشی پالیسی، تعلیمی پالیسی، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی طرف حکومت کا رویہ، نج کاری اور تجارتی پالیسی کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) نے تحریک انصاف کی حکومت کی مخالفت کی ہے۔ معیشت اور تجارت کو تحریک انصاف نے ملک کے بڑے سرمایہ داروں اور تاجروں کے حوالے کر دیا ہے۔ رزاق داؤد اور ندیم بابر جیسے لوگ اپنے مفادات کے حوالے سے پالیسیاں بناتے ہیں اور عوام لٹ رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) یا مولانا فضل الرحمن نے اس حوالے سے کیا کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی پالیسی بھی یہی تھی کہ بڑے بڑے تاجروں کے مفادات کے مطابق تجارتی اور معاشی پالیسی بنائی جائے۔ اسحاق ڈار تیل، گیس، بجلی اور درآمد و برآمد کی پالیسیاں سب مقتدر مالیاتی گروہ کے مفادات کو سامنے رکھ کر بناتے تھے۔ سٹیل مل کی نج کاری پر مسلم لیگ (ن) کیوں خاموش ہے۔ پیپلزپارٹی کی بنیاد میں چونکہ سچا، جھوٹا مزدور کسان کا لفظ موجود ہے، لہٰذا سعید غنی، ناصر حسین اور مرتضیٰ وہاب جیسے لوگ اس پر بول پڑے ہیں۔ پی آئی اے کی نج کاری پر بھی مسلم لیگ (ن) خاموش رہے گی۔ مولانا کا تو مزدور کسان مسئلہ ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے پانچ برس صوبہ خیبرپختونخوا میں حکومت کی اور کوئی ایک عوامی منصوبہ نہ بنایا اور نہ ہی اس پر کبھی سوچنے کی کوشش کی۔نہ وہ صوبہ کے بچوں میں تعلیم کے حوالے سے کوئی بنیادی تبدیلی لا سکے تھے، لیکن اکرم درانی کے اپنے پروگرام ہی بہت زیادہ تھے، جن کے ساتھ مولانا کی دلچسپی بھی تھی۔

اس وقت پاکستان کے عوام حقیقی معنوں میں تاریخ کی بدترین معاشی تنگدستی سے گزر رہے ہیں۔ مہنگائی اور بیروزگاری کے علاوہ شہروں میں امن و امان کی صورت حال اور جرائم پیشہ افراد کی کارروائیوں نے عوام کو ہراساں کر رکھا ہے۔ قبضہ گروپوں نے زندگی کے ہر شعبہ پر اپنا تسلط جما لیا ہے، پاکستان کی زمین جس کے مالک 22کروڑ عوام ہیں، عوام کے ہاتھوں سے چھین لی گئی ہے۔ ملک کے اقتدار پر نہ عوام کا اختیار ہے اور نہ ہی ملکی وسائل میں ان کا حصہ کوئی قبول کرنے کے لئے تیار ہے۔ طاقت ور اختیار کو قانونی اور ماورائے قانون ہر طرح سے استعمال کر رہے ہیں۔ صوبوں اور مرکز کے درمیان تضادات کے نتیجہ میں قوم کی یکجہتی خطرے میں ہے۔ آٹا، دال، چینی، تعلیم،روزگار سب عوام سے چھن گئے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ امارت اور لگژری کے جزیرے بھی ہر طرف آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔ حکومت کرپشن کرپشن اور اپوزیشن سلیکٹڈ سلیکٹڈ کھیل رہی ہے۔ ملک کی کوئی پالیسی اور آئندہ کا کوئی پروگرام کسی کے پاس نہیں ہے۔

اختیار اور جمہوریت کے نام پر ایک سفاک ڈرامہ کھیلا جا رہا ہے۔ عوام کی تباہی اور فاقہ زدگی کا علاج کسی کے پاس نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس کا ذکر کرنا پسند کرتا ہے۔ ملک جنگلات سے خالی ہو رہا ہے۔ شہریوں کی سانس سموگ اور آلودگی سے گھٹ رہی ہے، جیسے کسی کالے کی گردن پر کسی گورے نے اپنا بوٹ رکھ دیا تھا اور بنی گالہ سے جاتی امراء اور جاتی امرا سے بلاول ہاؤس تک کسی کو اس کی فکر نہیں ہے۔ عوام کہاں ہیں۔ کس حال میں ہیں، کسی کو کوئی خبر نہیں ہے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment