Home » علی سدپارہ اورٹیم کی تلاش:سی 130اور کوہ پیماؤں کا مشترکہ آپریشن شروع

علی سدپارہ اورٹیم کی تلاش:سی 130اور کوہ پیماؤں کا مشترکہ آپریشن شروع

by ONENEWS

فائل فوٹو

کے ٹو پر لاپتا ہونے والے علی سد پارہ، جان اسنوری اور جے پی موہر کی تلاش کیلئے 7 کوہ پیماؤں کی ٹیم ریسکیو آپریشن پر روانہ ہوگئی ہے۔ ریسکیو آپریشن کو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا آپریشن قرار دیا گیا ہے۔

جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن میں پاک فضائیہ کا سی 130 طیارہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ سی 130 میں لگے انفرا ریڈ کمیرے سے لی گئی خاکوں کو تصاویر میں تبدیل کیا جائے گا، جس سے علاقے میں موجود چیزوں یا کسی کی موجودگی کا پتا چل سکے گا۔

ریسکیو آپریشن میں شامل کوہ پیما طیارہ سے حاصل شدہ ڈیٹا کی روشنی میں گراؤنڈ آپریشن کریں گے اور نشاندہی کی گئی جگہ کا معائنہ کریں گے۔

سوشل میڈیا پر کلب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ علی سدہ پارہ سمیت دیگر کوہ پیماؤں کی تلاش میں جانے والی ٹیم میں علی سدپارہ کے علاقے کے 4 پورٹرز بھی شامل ہیں، جس میں صادق سدپارہ، علی سدپارہ، علی رضا سد پارہ اور دلاور سد پارہ شامل ہیں۔

دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ لاپتا کوہ پیماؤں کی تلاش کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ چلی اور آئس لینڈ کی حکومتوں سے رابطے میں ہیں۔

فائل فوٹو

گزشتہ روز جاری سیٹلائٹ تصاویر سے علی سد پارہ کے ممکنہ آخری مقام کی نشاندہی ہوئی تھی۔ جاری کی گئی تصاوير ميں بکھرا ہوا سامان نظر آرہا تھا، تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی کہ یہ سامان کس کا تھا۔

ریکسیو آپریشن میں پاک فضائیہ کا سی 130 طیارہ حصہ لے رہا ہے۔ طیارے سے ڈیتھ زون کی عکس بندی کی جائے گی۔ طیارے میں فاروڈ لکنگ انفرا ریڈ کیمرا سسٹم نصب ہے۔ انفرڈ ریڈار ٹیکنالوجی کی مدد سے لاپتا کوہ پیماؤں کا سراغ لگانے کی کوشش کی جائے گی۔

طیارے میں نصب ہائی ریزولیشن کیمرے سے فٹبال کے برابر پڑی چیز بھی واضح نظر آسکے گی۔

علی سد پارہ سمیت دیگر کوہ پیماؤں کا جمعہ 5 فروری کو کیمپ سے رابطہ منقطع ہوا، جس کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے کوہ پیما ٹیم کی تلاش کا مشن شروع کیا گیا، تاہم سخت موسم کی وجہ سے کامیابی نہ ملی۔ مہم جوئی میں علی سد پارہ کے ساتھ ان کے بیٹے ساجد سد پارہ بھی موجود تھے، جو آکسیجن ریگولیٹر خراب ہونے پر بحفاظت کیمپ ون میں پہنچ گئے تھے۔

والد کی تلاش کیلئے شروع کیے گئے آپریشن میں ساجد سد پارہ بھی شامل تھے۔ محمد علی سد پارہ نے 2016ء میں سردیوں کی مہم جوئی کے دوران پہلی بار نانگا پربت کو سر کیا تھا۔ انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے 8000 میٹر کی 8 چوٹیاں فتح کی ہیں۔

کوہ پیماؤں کا آخری مرتبہ رابطہ 8200 میٹر بلندی پر بوٹل نک سے ہوا تھا۔ موسم سرما میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو سرچ کرنے کی مہم پر روانہ کوہ پیماؤں کو لاپتا ہوئے آج7 روز گزر گئے ہیں۔

You may also like

Leave a Comment