Home » علم اور ظلم

علم اور ظلم

by ONENEWS

طلبہ و طالبات اپنی درس گاہوں (سکول، کالجز، یونیورسٹیز) کو مادر علمی almamater (الما ماٹیر) کے الفاظ سے پکار کر احترام دیتے ہیں، لیکن مادر علمی کی آغوش میں ٹیچر، پروفیسر اور استاد اگر علم کی بجائے ظلم کو پروان چڑھائیں، تعلیم کی بجائے تعذیب ہو، احساس کی بجائے بے حسی ہو۔ حفاظت کی بجائے ہراسانی ہو، تو پھر ایسی مادر سے پناہ اور ایسے علم سے پناہ، ایسے ماحول سے پناہ اور ایسے کلچر سے پناہ۔ ارض پاک کے تعلیمی اداروں میں تسلسل اور تواتر سے ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں، مخلوط نظام تعلیم میں طالبات کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ہراسگی کے مبینہ ملزم اپنی پوزیشن اور اختیارات کو آڑ بنا کر شکار کرتے ہیں اور عموماً  سزا سے بچ جاتے ہیں …… اخباری ذرائع کے مطابق کچھ مدت قبل زکریا یونیورسٹی ملتان کی معذور طالبہ نے پروفیسر پر ہراساں کرنے اور ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی۔ انکوائری میں الزامات سچ ثابت ہونے پر پروفیسر کو برطرف کردیا گیا۔ایک اور خبر کے مطابق خیبر پختونخوا کے گومل میڈیکل کالج کی طالبات کو مبینہ طور پر جنسی ہراسگی کے الزام میں ڈاکٹر کو گرفتار کیا گیا۔پولیس ذرائع کے مطابق گومل میڈیکل کالج کے استاد نے تھانہ ڈیرہ ٹاؤن پولیس کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا  ہے۔ طالبات کی جانب سے ہراسگی کی شکایت کے بعد استاد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔اس سے قبل خیبرپختونخوا کی گومل یونیورسٹی نے جنسی ہراسگی میں ملوث 4 ملازمین کو برطرف کر دیا تھا۔

بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی طالبہ سے مبینہ طور پر ریپ کیس میں عدالت نے 6ملزمان کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔میڈیا نیوز کے مطابق ملزمان میں یونیورسٹی کے لیکچرار اور دیگر شامل ہیں۔کچھ عرصہ قبل رپورٹ سامنے آئی تھی، جس میں بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کی طالبہ نے اپنے استاد اور ساتھی طالب علم پر مبینہ طور پر ریپ کرنے الزام عائد کیا تھا۔متاثرہ لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ انہوں نے ایک سال قبل وائس چانسلر زکریا یونیورسٹی کو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے حوالے سے تحریری طور پر آگاہ کیا تھا، تاہم انتظامیہ کسی قسم کی کارروائی کرنے میں ناکام رہی۔مبینہ زیادتی کی شکار طالبہ کے والد نے الزام عائد کیا کہ شعبہ سرائیکی کے پروفیسر اور ایک طالب علم نے طالبہ سے زیادتی کی اور اس کی ویڈیو بھی بنائی۔متاثرہ لڑکی کا کہنا تھا کہ پروفیسر نے انہیں اپنی بیوی سے ملوانے کے بہانے گھر بلایا تھا، تاہم  جب وہ پروفیسر کے گھر پہنچیں تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ متاثرہ لڑکی نے مزید کہا کہ پروفیسر اور ساتھی طالب علم نے ان سے ریپ کرتے ہوئے ویڈیو بھی بنائی تھی۔ لاہورمیں ایل جی ایس(لاہور گرامر سکول) نے ایک ٹیچر کو کم از کم آٹھ سے زائد طالبات کو مبینہ طور پر غیر اخلاقی تصاویر اور پیغامات بھیجنے کے الزام میں عہدے سے برطرف کر دیا۔ یہ خبر مختلف نشریاتی اداروں نے شائع کی۔ یہ الزامات ان طالبات کی جانب سے سماجی رابطوں کی مختلف ویب سائٹس کے ذریعے لگائے گئے تھے۔ایل جی ایس سکول کی انتظامیہ نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان تمام تر الزامات کے نتیجے میں چار افراد کو نوکری سے برطرف کیا ہے۔علاوہ ازیں پرنسپل،ایڈمنسٹریٹر اور کوآرڈینیٹر کو بھی معطل کر دیا گیا۔

ٹیچر(مرکزی ملزم) اے لیول کے فرسٹ ایئر کو پڑھاتا تھا۔ایک طالبہ نے بتایا کہ ٹیچر کی طرف سے مبینہ طور پر کم عمر لڑکیوں کو تصاویر بھیجنے اور ٹیکسٹ پیغامات بھیجنے کا سلسلہ تقریباً چار سال سے جاری ہے۔طالبہ کا کہنا تھا کہ یہ تمام تر پیغامات ذومعنی تھے۔ایک دن سر نے مجھے ایک نامناسب میسج کیا، جس کے بعد میں نے سر کو بلاک کر دیا۔طالبہ نے بتایا کہ وہ اس سے پہلے بھی ایل جی ایس کی انتظامیہ کو ان واقعات کے بارے میں بتاتی رہی ہیں۔ طالبات کی کہانیاں مماثلت رکھتی ہیں۔ ان سب میں اساتذہ کی طرف سے ہراسگی اور منع کرنے کے نتیجے میں سرعام ڈانٹنے اور نمبروں میں کٹوتی جیسی دھمکیوں کا سامنا کرنا شامل ہے۔پشاور یونیورسٹی کی طالبہ نے شعبہ اقتصادیات کے پروفیسر کے خلاف ہراساں کرنے اور بار ہا ایک ہی مضمون میں فیل کرنے کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔ عدالت نے یونیورسٹی انتظامیہ سے جواب طلب کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار نے بتایا کہ وہ پشاور یونیورسٹی اکنامک ڈیپارٹمنٹ میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں، جہاں ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ایک ہی پرچے میں بار بار فیل کرکے غیراخلاقی مطالبات کررہے ہیں۔طالبہ نے عدالت کو بتایا کہ اس نے دیگر تمام پرچوں میں 80 فیصد سے زائد نمبر حاصل کئے ہیں،جس پر فاضل بنچ میں شامل جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنا اختیارات کے غلط استعمال میں آتا ہے۔عدالت نے درخواست کو سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے یونیورسٹی وائس چانسلر اور متعلقہ پروفیسر سے جواب طلب کر لیا۔

یہاں چند سوالات پوچھنا ضرور ی ہیں …… ایل جی ایس واقعہ اور دیگر واقعات میں کیا ان اساتذہ کی بر طرفی کافی ہے؟ سکول (تعلیمی اداروں) کو ان اساتذہ کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کرنی چاہیے؟ تاکہ ان طالبات کی تکلیف کا ازالہ ہو سکے؟ کیا محکمہ تعلیم ان اساتذہ کو دوبارہ کسی تعلیمی ادارے میں تدریس سے روکنے کا انتظام کرے گا؟ کیا وزارت سائنس کو ئی سیکس آفنڈر رجسٹر ایپ بنائے گی، جس میں جنسی ہراسگی کے جرم میں سزا پانے والے افراد کا اندراج ہو؟ ایسی مادر سے پناہ۔ ایسے علم سے پناہ۔ ایک سوال اہم ہے، اگرخواتین کے حقوق کے لئے جینڈر بیسڈ وائلینس کورٹ کا قیام عمل میں لایا جا سکتا ہے تو خواتین کے لئے جینڈر بیسڈ تعلیمی ادارے بنانے پر غور کیوں نہیں؟

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment