Home » عظیم فٹبالر میراڈونا اِک عہد جو تمام ہوا

عظیم فٹبالر میراڈونا اِک عہد جو تمام ہوا

by ONENEWS

فوٹو: اے ایف پی

ارجنٹائنی لیجنڈ ڈیاگو میراڈونا کا شمار دنیا کے ان عظیم فٹبالرز میں ہوتا ہے جنہوں نے شاندار کھیل سے دنیا کو اپنا گرویدہ بنایا۔ میراڈونا کی زندگی  فٹبال کے میدانوں میں حیرت انگیز کارکردگی اور گراؤنڈ سے باہر منشیات کے استعمال سمیت  مختلف تنازعات سے بھرپور تھی۔ انہوں نے ارجنٹینا کے دارالحکومت بیونس آئرس میں زندگی کی آخری سانسیں لیں اور 25 نومبر کو حرکت قلب بند ہونے سے چل بسے۔ نومبر کے اوائل میں ہی ان کی کامیاب برین سرجری ہوئی تھی۔ ان کے دماغ کی شریانوں میں کلوٹس بن گئی تھیں۔ ڈیاگو ارمانڈو میراڈونا 30 اکتوبر 1960 کو صوبے لینس کے ایویٹا پولی کلینک میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین انتہائی غریب تھے۔ میراڈونا کی ولادت چار بہنوں کے بعد ہوئی تھی۔ ان کے دو چھوٹے بھائی ہیوگو اور راؤل بھی پروفیشنل فٹبالرز تھے۔

ڈیاگو ارمانڈو میراڈونا کے والد ڈیاگو چیٹورو میراڈونا اور والدہ  ڈالما سلواڈورو فرانکو تھیں۔ والد پہلے کورینٹس کے پیراڈیلٹا میں کشتی چلاتے تھے اور ان کی والدہ بیونس آئرس میں گھریلو ہیلپر کے طور پر کام کرتی تھیں۔ بعد میں میراڈونا کے والد بھی بیونس آئرس آگئے اور ایک فیکٹری میں ملازمت اختیار کی۔ میراڈونا کی فیملی ارجنٹائنی دارالحکومت کے نواح میں ایک شانتی ٹاؤن میں رہتی تھی ان کا گھر انتہائی خستہ حال تھا جو اینٹوں اور لوہے کی چادروں سے کھڑا کیا گیا تھا۔ اس کچی آبادی میں پانی اور بجلی مفقود تھی۔ بڑا بیٹا ہونے کے ناتے اسی آبادی کی گلیوں میں میراڈونا بھی کم عمری میں   معمولی کام کرکے پیسے کماتے تھے۔ وہ گلیوں میں کپڑے اور کاغذوں سے بنی گیند سے کھیلتے۔ اس گیند کو آگے رول کرنے کیلئے فٹبال نسبت زیادہ زور لگانا پڑتا تھا۔ وہ زگ زیگ بناتے ہوئے گیند کو آگے لے جاتے تھے اور یقیناً اسی پریکٹس نے میراڈونا کے اندر ڈربلنگ ڈاجنگ کی ایسی منفرد اور غیر معمولی صلاحیت پیدا کی جو مستقبل میں لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈالنے کا سبب بنی۔ وہ اپنی اس خصوصیت اور مہارت کی وجہ سے حریف ٹیموں کے مضبوط ترین دفاع  کو بھی پاش پاش کر دیتے تھے۔

وہ پانچ فٹ پانچ انچ قامت اور گھٹے ہوئے جسم کے مالک تھے جس میں تیندوے جیسی برق رفتاری اور پھرتی تھی۔ بسا اوقات شائقین فٹبال ان کی حیران کن کارکردگی کو دیکھ کر سکتے میں آجاتے تھے۔ میراڈونا نے دو دہائی سے زیادہ عرصے دنیا بھر کے فٹبال شائقین کو اپنے کرشماتی کھیل سے محظوظ کیا۔ انہوں نے اپنے انٹرنیشنل کیریئر میں مجموعی طور پر 91 انٹرنیشنل میچ کھیلے اور وہ 34 گول کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ارجنٹینا نے ان کی زیر قیادت 2 مرتبہ فیفا ورلڈ کپ کا فائنل کھیلا اور انہوں نے 1986 میں ارجنٹینا کو عالمی چیمپئن بنانے کا کارنامہ انجام دیا۔ انہوں نے ارجنٹینا کی جانب سے مسلسل چار فیفا ورلڈ کپ کھیلے۔ ڈربلنگ اور ڈاجنگ کی غیر معمولی صلاحیت جلد ہی لوگوں کی نظروں میں آنے لگی۔

وہ ابتدا میں نیبرہڈ کلب آسٹریلا روجا سے کھیلتے تھے جہاں ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں ارجنٹینوس جونیئرز کی جونیئر ٹیم لٹل اونین کیلئے منتخب کیا گیا۔ اس وقت میراڈونا کی عمر صرف 10 سال تھی۔ یہاں میراڈونا کو اپنی خداداد صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع میسر آیا۔ وہ کلب کے فرسٹ ڈوثژن میچوں کے وقفے میں گراؤنڈ میں آکر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے تھے اور شائقین سے داد وصول کرتے تھے۔ میرا ڈونا کی کارکردگی میں مسلسل بہتری آنے پر انہیں ارجنٹینوس جونیئرز کی سینیئر ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور انہوں نے 20 اکتوبر 1976 کو کلب کی جانب سے اپنا پہلا پروفیشنل میچ ٹیلرس ڈی کارڈوبا کلب کے خلاف کھیلا۔ اس وقت میراڈونا کی 16 ویں سالگرہ میں 10 دن باقی تھے۔  انہوں نے اپنی 16 ویں سالگرہ کی مناسبت سے 16 نمبر کی جرسی زیب تن کی تھی۔ اور اس طرح ارجنٹینا پریمیئر ڈویژن میں ڈیبیو کرنے والے  کم عمر ترین کھلاڑی کا ریکارڈ ان کے نام کے ساتھ جڑ گیا تھا۔ انہوں نے اپنے پہلے ہی پروفیشنل میچ میں گول کرنے کا کارنامہ بھی انجام دے دیا تھا۔ میچ کے بعد میرا ڈونا کا کہنا تھا کہ گول کرنے کے بعد میں خود کو آسمان پر محسوس کر رہا تھا میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اور اس کے اظہار کیلئے میرے پاس الفاظ نہیں تھے۔ ڈیاگو میرا ڈونا 1976 سے 1981 تک ارجنینٹوس جونیئرز کلب سے کھیلتے رہے۔ انہوں نے کلب کی کارکردگی کو چار چاند لگائے اور 167 میچوں میں 115 گو ل کیے۔

میرا ڈونا کے شاندار کھیل کے چرچے ہونے لگے اور انہیں مختلف کلبس کی جانب سے شمولیت کی آفرز ملنے لگیں۔ انہوں نے 4ملین ڈالر میں بیونس آئرس کے کلب بوکا جونیئرز کی پیشکش کو قبول کر لیا کیونکہ وہ اس مشہور کلب میں کھیلنے کی شدید خواہش رکھتے تھے۔ میراڈونا نے بوکا جونیئرز کی فتوحات میں نمایاں کردار ادا کیا اور کلب کو فٹبال لیگ ٹائٹل جتوانے کا کارنامہ انجام دیا جو میراڈونا کا واحد ارجنٹینا ڈومیسٹک لیگ ٹائٹل ہے۔ اچھی پرفارمنس کے باوجود کلب مینجر کے ساتھ میراڈونا کے اختلافات بڑھتے رہے اور ایک سال میں ہی انہیں اپنے پسندیدہ کلب کے ساتھ مزید چلنا دشوار نظر آنے لگا۔ میراڈونا کی ڈاجنگ ڈربلنگ برق رفتاری اور گیند پر زبردست کنٹرول کی شہرت ملک کی سرحدوں سے باہر پھیل گئی تھی۔ اسپین انگلینڈ اور اٹلی کے فٹبال کلبس دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں اور اسی طرح اسپین کے معروف کلب بارسلونا نے پانچ ملین پونڈ کی فیس کے عوض میراڈونا سے معاہدہ کرلیا جو اس وقت کا ورلڈ ریکارڈ معاوضہ تھا۔ بارسلونا میں ارجنٹائنی اسٹار کی کرشماتی کارکردگی سر چڑھ کر بولی۔ انہوں نے 1983 میں بارسلونا ایف سی کو اسپین کا سالانہ نیشنل ٹورنامنٹ کوپا ڈل رے جتوایا۔ ٹورنامنٹ کے فائنل میں بارسلونا نے ریال میڈرڈ کو اس کے اپنے گراونڈ پر شکست دی۔ اسٹیڈیم میں موجود تماشائیوں نے بارسلونا اسٹار میراڈونا کو دل کھول کر داد تھی اور ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ اس گراؤنڈ پر بارسلونا کے کسی فٹبالر کو ایسی زبردست دادا دی گئی۔ ریال میڈرڈ کے ہوم گراؤنڈ پر میراڈونا نے جو گول  کیا تھا وہ گیند پر کنٹڑول‘تیز رفتاری‘ڈاجنگ اور ڈربلنگ کا شا ہکار تھا۔ انہوں نے گول کیپر سیمت تمام کھلاڑیوں کو ڈاج کر دیا تھا اور وہ خود گول پوسٹ کے قریب گیند لیکر کھڑے ہو گئے اور حریف کھلایوں کو تکتے رہے۔ جب ایک حریف کھلاڑی ان کی جانب بڑھا تو انہوں نے ہلکی کک سے گیند کو گول پوسٹ میں پھینک دیا۔ اسی سال بارسلونا نے  اسپینش سپر کپ جیتا۔ پھر اگلے برس کوپا ڈل رے کا کامیاب دفاع کیا۔ یہاں بھی میراڈونا کا کلب کی انتظامیہ کے ساتھ رویہ جارحانہ رہا۔ 1983-84 کوپا ڈل رے فائنل میں ایتھلیٹک بلباؤ کے خلاف جھگڑے کا مرکزی کردار بھی میراڈونا تھے۔ اس فائنل کو دیکھنے کیلئے اسپین کے باشاہ کارلوس بھی اسٹیڈیم میں تھے۔ میراڈونا حریف کھلاڑیوں اور بلباؤ کی یونیفارم پہنے ہر شخص پر بڑھ چڑھ کر حملے کر رہے تھے۔ اس میچ کے بعد میراڈونا کا بارسلونا کے ساتھ مزید چلنا ناممکن ہوگیا۔ انجریز کے علاوہ منشیات کا استعمال بھی ان کی کارکردگی اور رویئے کو متاثر کر رہا تھا۔ بارسلونا کیلئے میراڈونا کا یہ آخری میچ  تھا۔ میراڈونا نے دو برسوں کے دوران بارسلونا کی جانب سے 58  میچوں میں 38 گول کیے۔ یہاں سے ایک بار پھر انہوں نے 6.9 ملین پونڈ ورلڈ ریکارڈ معاوضے پر اطالوی فٹبال کلب نیپولی سے معاہدہ کیا اور اس طرح انہوں نے ریکارڈ معاوضے کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا۔

یپولی فٹبال کلب جنوبی اٹلی کے شہر نیپلز میں ہے۔ فٹبال کے مقابلوں میں شمالی اٹلی کے کلبس کو سبقت حاصل تھی۔ میراڈونا جب پہلی بار نیپلز پہنچے تو ان کی ایک جھلک دیکھنے اور استقبال کیلئے 80 ہزار سے زیادہ تماشائی موجود تھے۔ میراڈونا اس کلب سے سات سال کھیلے۔ انہوں نے شمالی اٹلی کی بالادستی کا خاتمہ کیا جس کی وجہ سے انہیں جنوبی اٹلی میں دیوتا کا درجہ حاصل  ہوا اور نیپلز کی دیواروں پر ان کی تصاویر اور سڑکوں پر مجسمے نصب ہیں۔ انہوں نے اطالوی کلب نیپولی کو 1987 میں پہلی بار سیری اے کا اعزاز جتوایا جس کا جشن فتح پانچ دن تک منایا جاتا رہا۔ اسی سال انہوں نے کلب کو اطالوی کپ کا فاتح بنا دیا۔ نیپولی 1990 میں پھر سیری اے چیمپئن بنا۔ 1991 میں میرا ڈونا کی بہترین کارکردگی نے نیپولی کو یو ایفا کپ جتوایا۔

اٹلی میں میراڈونا نے اپنی زندگی کی بہترین فٹبال کھیلی۔ وہ اس کا اقرار کرتے ہیں کہ مجھے فٹبال کھیلنے کا اس سے زیادہ لطف کسی اور جگہ نہیں آیا لیکن اس کے ساتھ  وہ اسی شہر میں منشیات کے استعمال میں ڈوب گئے جس کی وجہ سے وہ کئی مرتبہ پریکٹس اور کلب میچوں سے غیر حاضر رہے اور انہیں ہزاروں پونڈ جرمانے کی مد میں ادا کرنے پڑے۔ اسی دوران ان کا تعلق کیمورا مافیا سے قائم ہوا۔ 1991 میں پہلی بار میراڈونا کو سزا کا سامنا کرنا پڑا جب ڈرگ ٹیسٹ مثبت آنے پر نیپولی نے ان پر 15 ماہ کیلئے پابندی لگا دی تھی۔ اسی سال کے آخر میں میراڈونا کو بیونس آئرس ائرپورٹ پر نصف کلو کوکین رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ارجنٹائنی عدالت نے قومی ہیرو ہونے کی وجہ سے رعایت دیتے ہوئے انہیں 14 ماہ قید کی معطل سزا سنائی تھی۔ میراڈونا نے نیپولی کلب کی جانب سے سات سال فٹبال کھیلی اور وہ 1992 میں نیپولی کو چھوڑگئے۔ انہوں نے نیپولی کیلئے 115 گول کیے۔ وہ ایک وقت میں نیپولی سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی تھے۔ ان کے اس ریکارڈ کو 2017 میں مرک ہمسک نے اپنے نام کیا۔

نیپولی کیلئے فٹبال خدمات کے اعتراف میں انہیں نیپلز کی اعزازی شہریت دی گئی تھی۔ میراڈونا کی موت کے بعد نیپولی کا اسٹیڈیم  بھی ان سے موسوم کر دیا گیا ہے۔ ان کی موت پر نیپلز میں بھی ارجنٹینا جیسے سوگ کا سماں تھا۔ اٹلی میں قیام کے دوران کثرت شراب نوشی‘منشیات کے استعمال اور مافیا کے ساتھ روابط جیسے اسکینڈلز نے ان کے کھیل اور شخصیت کو نقصان پہنچایا حالانکہ وہ اٹلی میں کامیاب ترین فٹبالر تھے۔ پورا اٹلی ان  کا گرویدہ تھا۔ یہاں ان کے ایک ناجائز بیٹے کا اسکینڈل بھی سامنے آیا جس کا باپ ہونے کا اعتراف انہوں نے بعد میں کیا تھا۔ نیپولی سے میراڈونا کی رخصتی کے بعد  بارسلونا اور مارسیل نے ان سے معاہدے میں دلچسپی ظاہر کی تھی لیکن میراڈونا نے ان دونوں کلبس کے بجائے سویلا کو ترجیح دی جہاں وہ صرف ایک سال رہے۔ اس کے بعد وہ نیوویل اولڈ بوائز اور پھر وہاں سے 1995 میں واپس ارجنٹائنی کلب بوکا جونیئرز چلے گئے۔ میراڈونا نے اپنے پروفیشنل کیریئر میں مختلف کلبس کی جانب سے 603 میچوں میں 320 گول کیے۔

میراڈونا نے 17 سال کی عمر میں اپنا پہلا انٹرنیشنل میچ 27 فروری 1977 کو ہنگری کے خلاف کھیلا تھا۔ اگلے سال ارجنٹینا میں ہونے والے ورلڈ کپ 1978 میں انہیں کم عمر ہونے کی وجہ سے قومی ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا تھا جس کا ارجنٹینا فاتح تھا۔ میراڈونا نے اپنا پہلا انٹرنینشنل گول1979 میں اسکاٹ لینڈ کے خلاف کیا جو قومی ٹیم کی جانب سے ان کا پانچواں میچ تھا۔ میراڈونا کو 1979 میں جاپان میں ہونے والے انڈر 20 ورلڈ کپ کیلئے ارجنٹائنٹی ٹیم میں منتخب کیا گیا جہاں ان کے سحر انگیز کھیل کا جادو سر چڑھ کر بولا۔ شائقین فٹبال اس نوجوان کھلاڑی کی ڈاجنگ‘ ڈربلنگ اور برق رفتاری کو دیکھ کر حیرت زدہ ہوگئے۔ اس ٹورنامنٹ میں انہوں نے چھ گول کیے اور گولڈن بال کے مستحق قرار پائے۔  انہوں نے مسلسل چار ورلڈ کپ ٹورنامنٹس 1982‘ 1986‘ 1990 اور 1994 میں کھیلے۔ ان کی کپتانی میں ارجنٹینا دو بار ورلڈ کپ فائنل میں پہنچا۔ ایک بار عالمی چیمپئن بنا جبکہ ایک بار رنرز اپ رہا۔ میراڈونا اسپین میں ورلڈ کپ 1982 میں  پانچ میچوں میں دو گول کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ اس کے بعد 1986 میں ہونے والا ورلڈ کپ میں فٹبال کی تاریخ میں  ہمیشہ یادگار اور موضوع بحث رہے گا جو انگلینڈ اور ارجٹنیا کے درمیان فاک لینڈ تنازع پر جنگ کے بعد ہوا تھا اس جنگ میں برطانوی افواج فاتح رہی تھیں۔ اس تنازع کی وجہ سے دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدہ تھے۔ میکسیکو 1986 کے ورلڈکپ کا میزبان تھا اور  پوری دنیا کی نظریں ٹورنامنٹ میں کسی بھی مرحلے پر ارجنٹیا اور برطانیہ کی ٹیموں کے ٹکرانے پر مرکوز تھیں۔ راؤنڈ میچز اور پری کوارٹر مقابلوں کے بعد ارجنٹینا اور انگلینڈ کوارٹر فائنل میں مدمقابل آگئے تھے۔ دونوں ٹیموں کے کھلاڑی  انتہائی جذباتی تھے اور ان کیلئے یہ میچ جنگ کی حیثیت رکھتا تھا۔ میراڈونا ارجنٹینا کے قائد تھے۔ اس میچ میں انہوں نے جو دو گول کیے وہ ہمیشہ یادگار رہیں گے۔ میچ کو شروع ہوئے 51 منٹ گزر چکے تھے۔ کوئی ٹیم گول نہیں کر پائی تھی۔ اسی دوران میراڈونا کو انگلینڈ کے باکس ایریا میں فضا میں بال ملی تو انہوں نے اس کو حاصل کرنے کیلئے انگلش گول کیپر پیٹر شلٹن اور میراڈونا دونوں ہی فضا میں اچھلے۔ میراڈونا کا سامنا طویل قامت پیٹر شلٹن سے تھا۔ میراڈونا نے گیند کو ہیڈ مارنے کی کوشش کے دوران ہاتھ سے پنچ کر کے گول میں پھینک دیا۔ ریفری نے ارجنٹینا کے حق میں گول دے دیا حالانکہ انگلینڈ کے کھلاڑیوں نے اعتراض بھی کیا تھا۔ ریفری کو یہ واضح دکھائی نہیں دیا تھا کہ میراڈونا نے گیند کو  پنچ کیا ہے اگر یہ ثابت ہو جاتا تو انہیں یلو یا ریڈ کارڈ دکھایا جاتا کیونکہ اس وقت کسی ویڈیو اسٹنٹ ریفری کا وجود نہیں تھا۔ اس متنازع گول کو میرا ڈونا نے ہینڈ آف گاڈ قرار دیا تھا کیونکہ وہ خود اس کی حقیقت سے واقف تھے۔ بعد میں ایک انٹرویو میں انہوں  نے یہ تسلیم کیا کہ میں نے ہاتھ کی مدد سے یہ گول کیا تھا۔ پہلے ان کا کہنا تھا کہ یہ گول کچھ میر سر سے اور کچھ میرے ہاتھ سے گیند لگنے سے ہوا  تھا۔ تاہم اس کے چند منٹ بعد میراڈونا نے جو گول کیا اس نے دیکھنے والوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ میراڈونا نے ارجنٹینا کے ہاف سے گیند حاصل کی اور صرف 11 سیکنڈ میں انہوں نے تقریباً 60  گز کا فاصلہ طے کرتے ہوئے انگلینڈ کے پانچ کھلاڑیوں کو اپنی برق رقتاری اور ڈربلنگ سے ڈاج کیا اس دوران انہوں نے 12 مرتبہ گیند کو اپنے پاؤں سے ٹچ کیا اور اس طریقے سے گول میں پھینکا کہ گول کیپر پیٹر شلٹن اور دیگر کھلاڑیوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ اس خوبصورت گول کو بعد میں 20 ویں صدی کا بہترین گول قرار دیا گیا۔ ارجنٹینا نے اس ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں بلجیئم کو 2-0 اور فائنل میں مغربی جرمنی کو 3-2 سے زیر کر کے دوسری مرتبہ فیفا ورلڈ کپ جیتا تھا۔ میرا ڈونا نے ٹورنامنٹ میں پانچ گول کیے اور پانچ گول کرنے میں اپنے ساتھیوں کی معاونت کی تھی جو ایک ریکارڈ ہے۔ شاندار کارکردگی پر میراڈونا ٹورنامنٹ کے بہترین فٹبالر قرار پائے تھے۔

اٹلی میں 1990 کے ورلڈ کپ میں ارجنٹینا کی قیادت میراڈونا کے کاندھوں پر تھی۔ ارجنٹینا کی ٹیم نے فائنل میں رسائی کی لیکن جرمنی نے سخت مقابلے کے بعد 1-0 سے ہرا کر گزشتہ شکست کا بدلہ چکا دیا۔ فائنل کا واحد اور فیصلہ کن گول 85 ویں منٹ میں  اینڈریس بریمی نے پنالٹی کک پر کیا تھا۔ میرا ڈونا اس مرتبہ ٹیم کیلئے زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوئے۔ دفاعی چیمپئن کو اپنے پہلے میچ میں کیمرون سے شکست ہوئی تھی۔ ایک مرحلے پر ارجنٹینا پہلے ہی راؤنڈ میں باہر ہونے کے قریب تھا۔ ٹخنے میں چوٹ کی وجہ سے میراڈونا کی کارکردگی  متاثر کن نہیں تھی جس سے ٹیم کی مجموعی کارکردگی متاثر ہوئی۔ وہ سات میچوں میں کوئی گول نہیں کر پائے۔ امریکا میں ہونے والے ورلڈ کپ 1994 میں لیجنڈ فٹبالر میراڈونا منشیات استعمال کرنے کے جرم میں ذلت کا شکار ہوئے۔ اس ٹورنامنٹ میں وہ صرف دو میچ کھیل پائے۔ انہوں نے اپنے انٹرنیشنل کیریئر کا آخری گول فیفا ورلڈ کپ 1994 میں یونان کے خلاف کیا تھا۔ نائیجیریا کے خلاف میچ ان کے کیریئر کا آخری میچ ثابت ہوا کیونکہ ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے پر انہیں واپس ارجنٹینا بھیج دیا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ کلب فٹبال کھیلتے رہے اور 1997 میں پروفیشنل فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد میراڈونا نے مختلف کلبوں میں کوچ کے فرائض انجام دیے۔ وہ 2008 میں ارجنٹینا کی فٹبال ٹیم کے مینیجر تھے۔ ان کی سرپرستی میں ٹیم 2010ء کے ورلڈ کپ کوارٹر فائنل میں پہنچی جہاں جرمنی نے 4-0 سے شکست دی اس ناکامی پر وہ مستعفی ہوگئے تھے۔ ان کی زندگی منشیات کی لت کے ساتھ مختلف تنازعات اور بے مثال کھیل سے بھرپور تھی۔ انہوں نے دنیائے فٹبال کے مداحوں کو اپنے خوبصورت کھیل کے سحر میں جکڑ لیا۔ وہ اپنے کھیل کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

.

You may also like

Leave a Comment