Home » عزت کو تماشہ نہ بنایا جائے

عزت کو تماشہ نہ بنایا جائے

by ONENEWS

اگست 2020  میں ایک ویڈیو  شوشل میڈیا پر وائرل ہورہی تھی جس میں ایک لڑکی بری حالت میں کسی سڑک  کے کنارے چل رہی تھی۔ اس لڑکی کے برابر سے ٹریفک گزرتا رہا اور کسی نے بھی اس کی مدد نہ کی اور نہ  ہی اس کے جسم کو ڈھانپا۔ وہ مظلوم اسی طرح سڑک کے کنارے چلتی گئی  اور اس کی ویڈیو بنتی گئی۔ ویڈیو میں ٹریفک دیکھ کر معلوم ہورہا تھا کہ یہ پاکستان کی ہی ہے۔

اس سے بھی زیادہ افسوناک با ت یہ ہے کہ یہ ویڈیو کسی گاؤں میں نہیں جہاں مقامی جرگے کے حکم ایسا کیا گیا ہو۔ جہاں ملک کے قانون سے زیادہ طاقتور جرگا  لگتا ہے۔ کیونکہ  لوگ خاموشی سے  حکم پورا کرتے ہیں۔ یہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں پیش آیا۔ جہاں سے پارلیمان زیادہ دور نہیں اور جہاں پولیس کی رٹ چلتی ہے۔ مگر یہ نہ پہلا ایسا واقعہ ہے نہ آخری۔ پاکستان خواتین کے لیے دنیا میں ان دس ممالک میں آتا ہے جو خواتین  کے لیے خطرناک ہے۔ تاہم اسی ملک میں لوگ مسلسل خواتین کے حقوق کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے  ہیں کتنے حقوق چاہیئے عورتوں کو۔ کیا چاہتی ہیں کتنی آزادی چاہتی ہیں۔ یہ مغرب کی باتیں یہاں لیکر آگئیں ہیں ہمارے ہاں یہ باتیں نہیں چلیں گئی وغیرہ وغیرہ۔

معلوم نہیں یہ لوگ عورتوں کے حقوق کو کیا سمجھتے ہیں اور کیوں ڈرتے ہیں۔ پاکستان میں عورت تو جینے کا حق مانگتی ہے۔ یہ حق مانگتی ہے کہ اس کو اپنے مرد رشتہ داروں کے جرائم کی سزا نہ دی جائے۔ اس کو پیدائش کے وقت زندہ دفن نہ کیا جائے۔ اس کو کسی اور کے جرم کی وجہ سے زبردستی برہنہ کرکے سڑک پر نمائش نہ کیا جائے۔ یہ تو مغربی باتیں نہیں ہیں یہ تو انسانیت کی باتیں ہیں۔ آئین اور قانون کی باتیں ہیں۔ خواتین اپنے بنیادی حقوق لینا چاہیتی ہیں جو ان کا پیدائشی حق ہے۔

تاہم  جب بعد میں تفصیلات سامنے آئیں تو ایسا ہی نکلا کہ یہ 19 سال کی لڑکی کو کچھ مجرموں نے اغوا کیا تھا اور اس کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد میں اس کی یہ ویڈیو بناکر شوسل میڈیا پر عام کردی۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد 4 افراد گرفتار ہوئے جن میں سے 2 کو بعد میں رہا بھی کردیاگیا۔ تاہم ابھی 2 افراد رہا نہیں ہوئے۔ اگر ان کو سزا ہوئی تو وہ 2 سال میں باہر آجائیں گے۔

حیرت کی بات ہے کہ  اتنے سنگین جرم کی سزا بہت معمولی ہے۔ پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن  ۴۵۳   اور ۴۵۳اے کے تحت مجرم کو 2 سال کی قید ہوسکتی ہے یا جرمانہ ہوگا یا دونوں سزائیں  ملیں گی۔ مگر اگر دیکھا جائے تو یہ سزا ناکافی ہے۔ جرم اتنا سنگین اور سزا اتنی معمولی بات نہیں؟ یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی۔ برہنہ کرکے اس کے بعد سڑکوں پر زبردستی گھومانا شدید نویت کا جرم ہے، جس کی سزا بھی زیادہ ہونی چاہییے، جیسے عمر قید، سزائے موت اور ایک بڑی رقم جرمانے کے طور پر۔

سال 2019 میں ملتان کے قریب نواب پور میں ایک ایسا واقعہ پیس آیا، جس 40 سے 50 افراد نے ایک گھر پر حملہ کیا اور ایک آدمی  کو بہت مارا اس کے بعد گھر میں موجود اس کی 2 بھابیاں اور اس کی 9 سال کی بہن کے کپڑے پھاڑ کرعلاقے میں پھرایا۔ اگر یہ لاچار  اپنے جسم کو چھپانے کی کوشش کرتی تو ان کو مارا جاتا اور بندوق سے  دھمکایا جاتا۔ اگر وہ اپنا منہ چھپانے کی کوشش کرتیں تو ان کے بال نوچے جاتے۔  اس دوران  کسی نے بھی ان خواتین کی مدد نہیں کی اور نہ اس ظلم کو ہونے سے روکا۔

یہ وہی معاشراہ ہے جس نے رسم و رواج عورت کے لئے اتنے سخت کردیئے ہیں کہ وہ  اپنی دفاع کے لیے آواز نہیں اٹھاسکتی۔ اگر اٹھاتی ہے تو اس کا جینا حرام کردیا جاتا ہے۔ یہ وہی معاشرہ ہے جہاں عورت کو مردوں کی عزت کہا جاتا ہے اور سات پردوں میں رکھا جاتا ہے۔تاہم اس دن نواب پور کی ان 4 عورتوں کے لیے کوئی معاشرہ نہیں تھا کوئی رسم و رواج نہیں تھے۔ ان بے گناہوں کو کسی اور کے گناہ کی سزا دی جارہی تھی۔ اور تمام لوگ خاموش تماشہ دکھتے رہے۔ کسی میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ ان پر چادر ہی ڈال دے۔

اس واقعہ کے  کچھ عرصے بعد اخبار میں شائع  ہونے والی ایک خبر میں کچھ  مقامی لوگوں نے کہا کہ   ان خواتین کے گھر کے ایک فرد کے خواتین کے ساتھ تعلقات  تھے جس کی سز ا میں ان کے مردوں نے ایسا کیا۔ تاہم ان لوگوں کا کہنا تھا کہ جو کچھ گناہ اس آدمی نے کیا تھا دوسروں کی عورتوں کے ساتھ تو یہ سزا ہونی چاہیے تھی۔ تاہم جو قیامت ان عورتوں پر گزری ہوگی اس کی کوئی اہمیت نہیں۔

اس معاشرے میں اکثر خواتین اپنے مردوں کے کرتوں کی سزا برداشت کرتی ہیں۔اور یہ اکثر ہوتا ہے۔مگر ابھی تک یہ نہیں پتہ چلا کہ راولپنڈی والے واقعے کی تفصیل کیا ہے۔اس نوجوان لڑکی کو کس کے گناہوں کی سزادی گئی تھی۔ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے قانون سازی اور موجودہ قوانین میں ترامیم ہونا بہت ضروری ہے۔ اگر نوا ب پور کے واقعے  میں ملوث افراد کو سخت سے سخت سزا ملی ہوتی تو شاید مزید خواتین کو اس عذاب سے نہیں گذرنا پڑتا۔ وہی وقت تھا جب قانو ن میں تبدیلی یا بہتری لائی جاسکتی تھی اور مجرموں کو ایسے سزا دی جاتی کہ کوئی آیندہ ایسا کرنے سے پہلے سو بار سوچتا۔ اور مظلوم کو تحفظ دیا جاتا جو اس کا  بنیادی آئینی حق ہے۔ ایف آئی ار درج کروانا آسان بنایا جائے۔ اگر ممکن ہو تو چھوٹے شہروں اور گاوں کی پولیس کو  تربیت دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ جرم رپورٹ ہونے کے فورا  بعد بغیر وقت ضائع کیے  حرکت میں آجائیں۔ اگر کوئی سسٹم بنالیا جائے تو پاکستان میں خواتین کے خلاف جرائم میں کمی آسکتی ہے۔

.

You may also like

Leave a Comment