Home » عجب ڈراموں کی غضب کہانی

عجب ڈراموں کی غضب کہانی

by ONENEWS


عجب ڈراموں کی غضب کہانی

ویسے تو ہم نے زندگی میں ایک سے بڑھ کر ایک محیر العقول تماشے دیکھے ہیں مگر جو تماشا اس بار ہوا ہے اس کی تو نظیر ملتی ہے اور نہ مثال کہ تماشائی حیران ہیں اور اس اُلجھن میں گرفتار ہیں کہ اس تماشے کو نام کیا دیں پتلی تماشا یا پھر نواں تماشا میں یہ نہیں کہوں گا کہ مافیا ایک بار پھر جیت گیا، کیونکہ مجیب الرحمن شامی صاحب مجھے سمجھا چکے ہیں کہ مافیا کبھی نہیں جیتتا حکومت ہار جاتی ہے۔ تو صاحبو! ایک بار پھر اپنے پیارے کپتان کی حکومت ہار گئی ہے۔ پٹرول کو 26 روپے مہنگا کر دیا گیا ہے اور اس کا نفاذ بھی فوری ہوا ہے حالانکہ ضابطے کے مطابق ہر ماہ کی پہلی تاریخ سے نئی قیمتوں کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہ بھی عجب ڈرامے کی غضب کہانی ہے ایسی بے دست و پا حکومت پہلے کبھی دیکھی نہ سنی، پٹرول کو 75 روپے لٹر کیا تو وزیر اعظم عمران خان نے فخریہ انداز میں بتایا کہ پورے ایشیاء میں پٹرول صرف پاکستان میں سستا ہے لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ جب پورے ایشیاء میں پٹرول عام مل رہا ہے تو پاکستان میں نایاب ہو چکا ہے۔ پہلے تو وہ غصے میں نہیں آئے لیکن جب بہت دن گزر گئے تو انہوں نے غصے میں آکر حکم جاری کیا کہ پٹرول کی عدم دستیابی کے ذمہ داروں کو ایف آئی اے کے ذریعے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ حالانکہ پنجابی کے ایک محاورے کے مطابق چور تو بکل میں بیٹھے تھے۔ وہ بھلا وزیر اعظم کے حکم کو کیا نافذ ہونے دیتے۔ طاقت ور مافیا کی جرأت و بے خوفی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ ایف آئی اے پٹرول درآمد کرنے والی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز کو طلب کرتا رہ گیا مجال ہے انہوں نے آنا گوارا کیا ہو۔ یہی ایف آئی اے جب عام آدمی یا سیاستدانوں کو پکڑنا چاہتا ہے تو کیسی پھرتی دکھاتا ہے۔ آج وقت سے پہلے قیمت بڑھا کر حکومت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ گھٹنے ٹیک چکی ہے۔ عوام کو سستا پٹرول فراہم نہیں کر سکتی۔ اب قیمت بڑھی ہے تو آپ آج جس پٹرول پمپ پر جائیں گے پٹرول دستیاب ہوگا۔ کوئی بھی قطار نظر آئے گی اور نہ عوام دھکے کھاتے دکھائی دیں گے۔

ابھی تو یہ گھتی بھی نہیں سلجھی تھی کہ جب عالمی منڈی میں پٹرول تاریخی طور پر بہت سستا ہو گیا تھا تو پاکستان میں درآمد پر پابندی کیوں لگائی گئی۔ اب یہ عقدہ بھی کھل رہا ہے کہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے جو مالکان حکومت کے اندر بیٹھے ہیں انہوں نے یہ پابندی لگوائی، ایک صاحب تو براہ راست پٹرولیم وزارت کے مشیر ہیں اگر پٹرول سستا درآمد ہو جاتا تو پاور کمپنیوں کو فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ایک بڑا خسارہ ہوتا، اسے روکنے کے لئے پٹرول کی درآمد پر حیران کن حکم جاری کرکے پابندی لگوائی گئی۔ آج تک کوئی بھی ذمہ دار شخص اس بات کی وضاحت پیش نہیں کر سکا کہ جب پٹرول درآمد کرنے والی کمپنیاں یہ انڈر ٹیکنگ دے رہی تھیں کہ ان کے پاس پٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے تو پھر انہیں درآمد کرنے سے کیوں روکا گیا۔ اس معاملے کا کھرا مشیر پٹرولیم بابر ندیم کی طرف جا رہا ہے، مگر وزیر اعظم نے کابینہ اجلاس میں پٹرول کی قلت کا نوٹس لیتے ہوئے ان سے باز پرس تک نہیں کی۔ شاید اسی لئے فواد چودھری جیسے وزرا، یہ دہائی دیتے ہیں کہ حکومت غیر منتخب لوگ چلا رہے ہیں۔ ایسا ہو نہیں سکتا کہ وزارت پٹرولیم کو یہ علم نہ ہو کہ ملک میں پٹرول و ڈیزل کا کتنا ذخیرہ موجود ہے۔ اس کے باوجود وزیر اعظم سے تیس روپے لٹر قیمت کم کرائی گئی۔ اس وقت انہیں نہیں بتایا کہ تیل تو ملک میں ہے ہی نہیں آپ قیمت کم نہ کریں، بحران پیدا ہو جائے گا۔ شاید یہ کوئی منصوبہ تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کی مقبولیت کو نقصن پہنچایا جائے۔ جب اتنی زیادہ قیمت کم کی گئی تو تیل کمپنیوں نے اپنا مہنگے داموں خریدا ہوا پٹرول چھپا لیا، اپنے پمپ بند کر دیئے۔ اس کے بعد جو ہوا سب کے سامنے ہے، عمران خان کی حکومت کے ماتھے پر ایک اور ناکامی، ایک اور سکینڈل اور ایک اور نا اہلی کا داغ لگ گیا۔

تیل تو عالمی مارکیٹ میں اب بھی سستا ہے، پھر اسے یکدم اتنا مہنگا کیوں کیا گیا ہے صاف ظاہر ہے کہ حکومتی صفوں میں موجود وہ مافیا جیت گیا ہے جو ہمیشہ عوام دشمن فیصلے کراتا ہے، جس کا یہ مزاج ہی نہیں کہ عوام کو ریلیف دینے والے کسی فیصلے کو قبول کر سکے۔ شبلی فراز بڑے دعوے کر رہے ہیں کہ حکومت چینی سستی کر کے چھوڑے گی۔ حالانکہ انہیں پٹرولیم مافیا کی جیت سے سبق سیکھ لینا چاہئے۔ چینی مافیا بھی جیتے گا، اس کے بعد آٹا مافیا بھی بھنگڑے ڈالے گا اور آنے والے دنوں میں بجلی ا ور گیس کی قیمتیں بڑھیں گی تو ساری خوش فہمیاں دور ہو جائیں گی۔ میرے جیسے کپتان کے دیوانے یہ سمجھتے تھے کہ وہ مافیا کو نکیل ڈالے گا۔ عوام کے حق میں آزادانہ فیصلے کرے گا۔ مگر اب تو کپتان کی کمزوریاں کھل کر سامنے آ رہی ہیں غیر منتخب مشیران کرام انہیں انگلیوں پر نچا رہے ہیں حکمران جب بے بسی کی تصویر بن جاتے ہیں تو سمجھو کہ لٹیا ڈوب گئی ہے کیا بے بسی ہے کہ وزیر اعظم بن کر عمران خان عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں، فیصلہ بھی کرتے ہیں مگر طاقتور مافیا ان کے فیصلے پر عمل نہیں ہونے دیتا۔ انہیں الٹا مجبور کر دیتا ہے کہ نہ صرف فیصلہ واپس لیا جائے بلکہ عوام پر مزید بوجھ بھی ڈالا جائے۔ اب تو اپنے پیارے کپتان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر یہ گزارش کرنے کو جی چاہتا ہے کہ وہ کسی بات کا نوٹس نہ لیا کریں کیونکہ وہ نوٹس لیتے ہیں انکوائری کا حکم دیتے ہیں تو الٹا عوام کو لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں اور وہ ہاتھ اٹھا کر یہ کہتے پھرتے ہیں کہ ہم پہ احساں جو نہ کرتے تو احساں ہوتا۔

مثلاً کپتان نے پی آئی اے طیارے حادثے کی انکوائری کا بھی حکم دیا تھا۔ کیا شاندار انکوائری رپورٹ کپتان کو پیش کی گئی ہے اور حیرت ہے کہ اس پر انہوں نے شاباش بھی دی ہے۔ وزیر ہوا بازی غلام سردار خان کا استعفا اگر طیارہ حادثہ پر نہیں بھی بنتا تو کم از کم اس تقریر پر ضرور بنتا ہے جو انہوں نے قومی اسمبلی میں کی۔ کراچی میں تو پی آئی اے کا ایک طیارہ تباہ ہوا تھا، اس تقریر نے تو پورے پی آئی اے کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ ارے دنیا میں کسی ملک کا کوئی ایسا وزیر ہوا بازی بھی دیکھا ہے جو اپنی ہی قومی ایئر لائنز کی چن چن کے وہ خرابیاں بتائے جو آج کی دنیا میں تصور بھی نہیں کی جا سکتیں۔ کیا یہ تقریر میں بتانے کی ضرورت تھی کہ پی آئی اے کے پائلٹ ان پڑھ ہیں، ہوا بازی کی مہارت بھی نہیں رکھتے، کیا یہ کہنا ضروری تھا کہ جب طیارہ مشکل میں تھا تو دونوں پائلٹ کورونا کا مسئلہ ڈسکس کر رہے تھے، کیا منطق اس بات کو تسلیم کرتی ہے، کیا انہوں نے دنیا کو یہ باور نہیں کرایا کہ پاکستانی پائلٹ کورونا کے خوف میں جہاز اڑا رہے ہیں کیا انہیں خبر ہے کہ اس تقریر کے بعد دنیا کے عالمی نشریاتی ادارے پاکستانی ایئر لائنز کے معیار پر کیا تبصرے کر رہے ہیں کیا انہیں ذرا بھی اس بات کا ادراک ہے کہ ایئر لائنز اپنی محفوظ پرواز کی کریڈیبلٹی پر چلتی ہیں اور انہوں نے اپنی تقریر سے اسے تباہ کر دیا ہے۔ اب بھائی لوگ پوچھتے ہیں کہ غلام سرور خان کو کس قابلیت کی بنیاد پر ہوا بازی کا وزیر بنایا گیا۔ پائلٹوں کا رونا چھوڑیں پہلے یہ بتائیں کہ ایک شخص جس کی اردو بھی سیدھی نہیں کیسے ایک تکنیکی محکمے کا وزیر بنایا گیا، انہیں تو جو پرچی لکھ کر دی گئی اٹک اٹک کر اسمبلی میں پڑھ دی۔ اپنا ذہن ہی استعمال نہیں کیاکہ ان باتوں کے ملک کی ساکھ اور قومی ایئر لائنز پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ اب تو پے درپے واقعات سے پوری قوم گھبرا رہی ہے۔ لیکن کپتان کو کسی تقریر میں موقع ملا تو اب بھی یہی کہیں گے آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔

مزید :

رائےکالم





Source link

You may also like

Leave a Comment