Home »  عبد القادر حسن؛ پاکستان کے پہلے سیاسی کالم نگار

 عبد القادر حسن؛ پاکستان کے پہلے سیاسی کالم نگار

by ONENEWS

عبد القادر حسن؛ پاکستان کے پہلے سیاسی کالم نگار

“میں پاکستان کا پہلا سیاسی کالم نگار ہوں، وہ اکثر کہا کرتے۔

بات کچھ ایسی غلط بھی نہیں تھی، اس لیے اپنے ہوں یا غیر، سب نے تسلیم کی اور ان کا جائز کریڈٹ انھیں ملا۔

یہ کہانی ہے کہ مخدومی و محترمی عبدالقادر حسن کی جنھوں پیر کے مبارک دن آخری سانس لی اور رخصت ہو گئے۔

عبدالقادر حسن کون تھے؟ یوں سمجھ لیجئے کہ ہمارے صحافت کے وہ آخری آدمی تھے جن کے ہاں واضح نظریات کے باوجود ظرف اور برداشت کا ایسا جذبہ پایا جاتا تھا جو اس عہد میں اب کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ ان میں یہ خوبی کیسے پیدا ہوئی؟

ان کا تعلق وادی سون سکیسر کے زمینداروں کے ایک خوش حال خاندان سے تھا۔ خوشاب کے اعوانوں میں جب کوئی بچہ جوان ہوتا ہے تو بندوق اٹھا کر شکار کرتا ہے، توفیق ارزاں ہو جائے تو لڑائی جھگڑے بھی کر لیتا ہے، اس کے بعد کورٹ کچہری کے چکر کاٹتا ہے۔ یہ ان کی خوش قسمتی تھی والدین نے انھیں دینی تعلیم دلائی۔ بس، اسی دوران وہ مولانا مودودی سے متعارف ہوگئے۔ انھوں نے مولانا کی کتابیں پڑھیں اور ان کے حلقہ ارادت میں شامل ہو گئے۔

مولانا مودودی کی معیت بلکہ ان کی راہنمائی میں صحافت کو پیشے کے طور پر اختیار کیا۔ ان کے کیریئر کی ابتدا فیض احمد فیض جیسے ترقی پسند شاعر اور صحافی کی صحبت میں ہوئی۔ فیض صاحب اس وقت لیل و نہار کے ایڈیٹر تھے جب عبدالقادر حسن صاحب ایک ٹرینی کی حیثیت سے اس ادارے کا حصہ بنے اور اس محنت اور ذہانت سے کام کیا کہ اسی زمانے میں ان کا نام نمایاں ہو گیا۔

یہ اس عہد کی دو بڑی شخصیات یعنی سید ابوالاعلی مودودی اور فیض احمد فیض کی تربیت اور صحبت کا فیض تھا کہ ان کے مزاج میں اعتدال اور ہمہ رنگی پیدا ہوئی۔

ان کے کالم کا عنوان غیر سیاسی باتیں تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ آمریت کے زمانوں میں جب سیاسی بات کہنا جرم بن گئی، انھوں نے غیر سیاسی باتوں کے عنوان سے اس اسلوب میں اور سلیقے سے بات کہی کہ غیر سیاسی پردے میں سیاسی بات پڑھنے والوں تک پہنچ گئی۔ اپنے اسی منفرد اسلوب کے باعث وہ خود کو پہلا سیاسی کالم نگار قرار دیا کرتے تھے، ورنہ ان سے پہلے کالم میں مزاح ہوتا تھا اور سیاسی موضوعات پر سیاسی ڈائری لکھی جاتی تھی۔

ان کی تحریر میں مزاح کے بجائے طنز کی ایک ایسی زیریں لہر پائی پائی جاتی تھی۔ مولانا مودودی کہا کرتے تھے کہ ان کی ایسی تحریر پڑھ کر ہدف تنقید بننے والا بھی مسکرائے بغیر نہ رہ پاتا تھا۔

عبدالقادر حسن صاحب ایک بھرپور زندگی بسر کے اللہ کے حضور پیش ہو گئے ہیں، اللہ ان کی خطائیں معاف فرمائیں اور اپنے قرب میں بلند درجات عطا فرمائیں۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment