Home » عبدالقادر حسن بھی گئے

عبدالقادر حسن بھی گئے

by ONENEWS

عبدالقادر حسن کسی زمانے میں راولپنڈی اور سرگودھا کے درمیان چلنے والی اور اب سارے ملک میں دوڑتی ہوئی ‘اعوان ٹرانسپورٹ’ والوں کے خاندان سے اٹھ کر سید مودودی رح کے قدموں میں جا بیٹھے اور اسلام کے حقیقی فہم سے آراستہ ہو کر میدان صحافت میں اپنے منفرد انداز میں گامزن ہوئے۔ ان کیکالم ‘غیر سیاسی باتیں ‘ کی اٹھان ‘نوائے وقت’ میں ہوئی اور پھر وہ کالم نگاروں کے استاد اور ایک لیجنڈ صحافی بن گئے۔ ان کی اہلیہ بھی ‘نوائے وقت’ میں لکھتی تھیں بلکہ ‘نوائے وقت کو اپنا ‘میکہ’ کہتی تھیں۔ ہم نے جس زمانے میں چار آنے کے اخبار کے لیے سولہ آنے خرچ کر کے ‘نوائے وقت’ پڑھنا شروع کیا اس میں ‘م ش کی ڈائری’ ہماری دلچسپی کا پہلا سامان بنی۔ تحریک پاکستان کے دور کے نامور صحافی محمد شفیع تھے تو انگریزی اخبارات کے آدمی لیکن حمید نظامی مرحوم کے ساتھ خاص تعلق کی وجہ سے ‘نوائے وقت’ میں لکھتے تھے۔ ہمارے تحریکی قائد اور سید اسعد گیلانی مرحوم کے بڑے بھائی صدیق الحسن گیلانی مذاق میں اسے ‘موش کی ڈائری’ کہا کرتے تھے اور جب کبھی وہ جماعت کے مرکز 5-اے ذیلدار آتے  تو صدیق الحسن گیلانی کہا کرتے تھے ‘اے ڈائری لکھدا نئیں ڈائری دیندا’۔ م ش کی ڈائری کے علاوہ مولانا امین احسن اصلاحی کے صاحبزادے ابو صالح اصلاحی کا کالم بھی خاصے کی چیز ہوتی تھی۔

وہ پی آئی اے کی قاہرہ کے لیے افتتاحی پرواز کے حادثے میں جان بحق ہو گئے تو ‘نوائے وقت’ میں عبدالقادر حسن کی ‘غیر سیاسی باتیں ‘ ہمارے لیے کشش کا سامان بن گیا۔ بہت سے صحافی اور کالم نگار جو دوسرے اخبارات میں خوب چمکے لیکن صحافت میں ان کی پہلی درس گاہ ‘نوائے وقت’ ہی تھی۔ عمر میں ‘اردو ڈائجسٹ’ ‘نوائے وقت’ سے کم تھا لیکن 1960 کے بعد وہ بھی ‘نوائے وقت’ کے ساتھ ایک دبستان بن گیا اور اس نے اسلامی فکر کے کئی معروف صحافی تیار کیے۔ ‘نوائے وقت’ پاکستان کے تحفظ کا پاسدار رہا اور اردو ڈائجسٹ’ نے پاکستان کے ساتھ اسلام اور اخلاقی اقدار کا پرچم بھی تھام لیا اور ابھی تک تھامے ہوئے ہے۔ ‘نوائے وقت’ کی پالیسی میں جماعت اسلامی کی دبی دبی مخالفت ہمیشہ رہی لیکن فکری طور پر سید موددی رح کے سچے پیروکار ہونے کے باوجود عبدالقادر حسن یہاں خوب جمے رہے۔ ان کی کالم نگاری ایک ایسا نادر فن بن گئی کہ ہر اخبار اپنی اشاعت بڑھانے کے لیے انہیں لینے کا خواہش مند ہوتا تھا۔ مرحوم مجید نظامی کے ایک خاص مزاج کی وجہ سے ‘نوائے وقت’ میں ہر صحافی کو ایک گھٹن کا احساس رہتا تھا۔ اب نظامی صاحب کی منہ بولی بیٹی رمیزہ نظامی کے ادارے کا نظام سنبھالنے کے بعد اس کی پالیسیوں میں بھی بڑی تبدیلی آ گئی ہے۔ خیر وجہ کچھ بھی رہی ہو آخر عبدالقادر حسن نے بھی اپنا یہ محسن ادارہ چھوڑا اور ‘جنگ’ میں چلے گئے۔ ‘اردو ڈائجسٹ’ اور ‘نوائے وقت’ فکری طور پر قریب اور مزاج کے لحاظ سے خاصے مختلف صحافتی دبستان ہیں۔ ‘جنگ’ ان دونوں سے یکسر مختلف خالص کمرشل انداز کا ادارہ ہے۔

‘جنگ’ میں عبدالقارد حسن نے بظاہر بڑا خوشگوار وقت گزارا لیکن پتہ نہیں ان کے ساتھ کیا ہوا، وضع دار آدمی تھے کھل کر اظہار نہیں کیا۔ لاہور کے صحافتی ‘شاہ جی’ عباس اطہر انہیں ‘ایکسپریس’ میں لے گئے۔ میر خلیل الرحمان مرحوم کی اہلیہ ذات? طور پر ان سے ملنے گئیں اور انہیں ‘جنگ’ میں واپس لانے کی خواہش کی لیکن چونکہ ‘ایکسپریس’ سے ان کا معاہدہ ہو چکا تھا اس لیے بیگم میر خلیل الرحمان کے احترام کے باوجود انہوں نے ‘ایکسپریس’ سے معاہدہ توڑنا گوارا نہ کیا اور آخر دم تک اس اخبار سے وابستہ رہے۔

جہاں تک میری یادداشت کام کر رہی ہے عبدالقادر حسن نے ‘مجدد مودودی’ کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی تھی جس پر جماعت اسلامی نے اس خدشے کے تحت پابندی لگا دی تھی کہ کہیں اس کی آڑ میں اس کے خلاف مذہبی حلقے ایک اور طوفان نہ کھڑا کر دیں۔۔۔۔چنانچہ عبدالقادر حسن نے اس کی اشاعت کا سلسلہ روک دیا تھا۔ عبدالقادر حسن نے شاید ‘افریشیا’ کے نام سے اپنا رسالہ بھی نکالا تھا لیکن آخر وہ روزنامہ کالم نگاری کے لیے وقف ہو گئے تھے۔ لاہور کو اپنا مستقل مسکن بنا لینے کے باوجود اپنے گاوں اور علاقے سے ان کی گہری محبت قائم رہی اور سال میں کچھ عرصہ وہ اپنے گاوں میں گزارتے تھے اور پھر بڑے والہانہ انداز میں سرسبز وادی اور لہلہاتے کھیتوں کا تذکرہ اپنے کالموں میں کرتے تھے۔

دنیا سے جانے والوں کا ایسا تیز رفتار سلسلہ چل پڑا ہے کہ اس ایک سال میں کیسی کیسی ہستیاں خاک میں پنہاں ہو گئی ہیں۔ قحط الرجال بڑھ رہا ہے۔ لگتا ہے کہ ایک طرف عظمتیں پیدا ہونا بند ہو گئیں اور دوسری طرف جو تھیں موت تیزی سے ان کو سمیٹ کر لے جا رہی ہے۔ اللہ تعالی عبدالقادر حسن کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔ آمین

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment