Home » عام آدمی کے ساتھ سرکاری ملازمین کی مشکلات بڑھ گئیں

عام آدمی کے ساتھ سرکاری ملازمین کی مشکلات بڑھ گئیں

by ONENEWS

عام آدمی کے ساتھ سرکاری ملازمین کی مشکلات بڑھ گئیں

مَیں نے کالم کا عنوان سرکاری ملازمین کی بڑھتی ہوئی مشکلات سے مشروط کیا ہے،حالانکہ پرائیویٹ ملازمین بھی مشکل سے زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں، سرکاری ملازمین گزشتہ دو سال سے سڑکوں پر سینہ کوبی کر  رہے ہیں،پیٹ پر روٹیاں باندھ کر ہائے مہنگائی، ہائے مہنگائی، مار گئی مہنگائی کے نعرے بلند کر رہے ہیں۔گزشتہ حکومتوں کی لوٹ مار کا رونا رو کر عوام کو نئے پاکستان کا تحفہ دینے کا  وعدہ کیا گیا تھا۔اِس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔گزشتہ حکومتوں نے دِل کھول کر ملک کو لوٹا ہے، لیکن ایک بات جو عام آدمی کہتا نظر آ رہا ہے، مسلم لیگ(ن)،پیپلزپارٹی کھاتے تھے تو لگاتے بھی تھے، تبدیلی سرکار نے گزشتہ دو سال میں بجٹ کے ساتھ سرکاری اور نجی اداروں کے لئے10فیصد تنخواہوں میں اضافہ کی  روایت بھی ختم کر دی ہے۔ 2018ء کے الیکشن کے بعد وزیراعظم عمران خان سے توقعات وابستہ کرنے والے بھی اب مایوسی کا شکار ہیں، سرکاری ملازمین اور تمام عوام اب وزیراعظم کی طرف سے مہنگائی کا نوٹس لینے سے  بھی خوف محسوس کرنے لگے ہیں،دو سال میں وزیراعظم نے ایک درجن دفعہ مہنگائی کا اعتراف کیا اور سخت اقدامات کا اعلان کیا،چیزوں کی قیمتیں کم ہونے کی بجائے آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں۔ پہلی دفعہ تاریخ میں پیاز، آلو، دالیں،ادرک، دھنیا، ٹماٹر عوام کی (پہنچ) سے باہر ہوئی ہیں۔

یہی حال چینی، آٹا، گھی کا ہو رہا ہے، ہر شہر میں موجود درجنوں مجسٹریٹ قیمتیں کم کرنے کے لئے مصروف عمل ہیں مگر مہنگائی کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے، ہمارے ملک میں روایت رہی ہے وزارتِ خزانہ سالانہ مہنگائی کی شرح اورعام آدمی کی مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے وزیراعظم کے سامنے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی تجویز رکھتی ہے،موجودہ حکومت اس لحاظ سے بھی انفرادیت کی حامل ہے،اس نے دو سال میں اگر وزیراعظم کے سامنے کوئی تجویز رکھی ہے تو وہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی رکھی ہے، موجودہ حکومت  کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے، اس نے دو سال سے سڑکوں پر احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین، لیڈی ہیلتھ ورکر، کلرکس، اساتذہ اور پنشنرز، صحافی حضرات کو تنخواہیں اور مراعات بڑھانے کا حوصلہ بھی نہیں دیا، ملک بھر میں کوئی ترقیاتی کام بھی نہیں۔گزشتہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت نے بھی اقتدار سنبھالتے ہی اعلان کر کے روایت برقرار کھی کہ ہمیں خزانہ خالی ملا، ملک تباہی کے دہانے پر پہنچا کر گئے ہیں، ملک چلانا مشکل ہے، قرض لینا مجبوری ہے، ڈاکوؤں کو نہیں چھوڑیں گے، لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے۔ پاکستانی عوام قیام پاکستان سے اب تک آمریت اور جمہوریت کے تمام ادوار میں یہ نعرے مختلف انداز میں سن چکے تھے انہیں موجودہ حکومت کے نعروں میں تبدیلی اور نئے پاکستان نے زیادہ متاثر کیا،اِس لئے پھر امید باندھ لی کہ شاید تبدیلی آ جائے۔

افسوس کہ وزیراعظم کے گرد سیکیورٹی اور مشیروں کے حصار نے عوام کو اوجھل رکھا اور عام آدمی کس حال میں ہے،وزیراعظم تک یہ بات دو سال مکمل ہونے کے بعد بھی نہیں پہنچ پا رہی، اپوزیشن لیڈر کا دعویٰ ہے،مَیں نے دِھلے کی کرپشن نہیں کی،حکومتی مشیر روزانہ اربوں روپے کی کرپشن کے کاغذی ثبوت اخباروں میں لا رہے ہیں۔ مہنگائی ہر آنے والے دن میں خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے، ڈالر، سونا بے لگام ہیں۔ گورننس نام کی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی، دو سال میں وزیر مشیر سابقہ حکومت کے لگائے ہوئے بیورو کریسی اور افسروں کا گِلا تو کرتے ہیں مگر ان کو تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔تھانہ کلچر ٹس سے مس نہیں ہوا، پٹواری کلچر مزید کمپیوٹرائزڈ ہو گیا ہے، پہلے پٹواری کو راضی کرنا پڑتا تھا اب کمپیوٹر آپریٹرز بھی حصہ دار ہیں، وزیراعظم کا تعمیراتی پیکیج کی کامیابی کا یہ حال ہے، آٹھ ہزار والی اینٹ12ہزار میں فروخت ہو رہی ہے،سینٹری، سیمنٹ،سریا، عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے، تاجر رو رہا ہے۔ استاد رو رہا ہے، سرکاری ملازم رو رہا ہے،کلرک رو رہا ہے،صحافی رو رہا ہے، کورونا سے اب تک اگر کوئی قوم خوشحال نظر آئی ہے،جنہیں کورونا بھی کاروبار کی صورت میں تحفے میں ملا وہ ہے ہماری پولیس اور ڈاکٹرز حضرات، وزیر خزانہ تو ہمارے شروع دن سے عوام کے بہی خواہ ہیں،ان کی مانیٹرنگ کی وجہ سے ہماری مہنگائی کا تناسب8.8 پر پہنچ گیا  ہے، روٹی5روپے سے 8روپے، نان10روپے سے15روپے اور اکتوبر اِس لحاظ سے بھی اہم ہو گیا ہے وزیراعظم نے ایک دفعہ پھر مہنگائی کا نوٹس لے لیا ہے، اس لئے چینی 115 اور نان20روپے اور روٹی10روپے میں فروخت کرنے کا اعلان ہو گیا ہے۔

حکومت تو چلو مجبور ہے اسے عوام نظر نہیں آ رہی،سیکیورٹی کا مسئلہ ہے، اپوزیشن بھی اقتدار سے دور رہ کر عوام کو بھول گئی ہے، پی ڈی ایم کے اب تک کے منشور اور ایجنڈے میں مہنگائی اور بڑھتی ہوئی بے روز گاری کا تذکرہ نہیں ہے،ان کی سوئی صرف نیب کے خاتمے پر اٹکی ہوئی ہے۔ پی ڈی ایم کے مطالبے میں بھی بڑھتی ہوئی بے حیائی، بے روزگاری، مہنگائی، سرکاری اور پرائیویٹ ملازمین کی حالتِ زار شامل نہیں ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے ایماندار ہونے کا فائدہ اب تک عوام کو نہیں ہوا۔سروے رپورٹ بتا رہی ہے کرپشن کا تناسب،زنا کاری، قتل و غارت، چوری ڈکیتی کا تناسب بڑھ گیا ہے۔وزیراعظم عمران خان صاحب آپ نے تو90دن میں پاکستان کا قبلہ درست کرنے اور کرپشن ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اب تو تیسرا سال شروع ہو گیا ہے، ڈریں اُس وقت سے آپ کو ایک کروڑ84لاکھ ووٹ دینے والے ناراض نہ ہو جائیں،ووٹ دینے والوں کے صدقے کی اہل ِ پاکستان کی ڈوبتی ناؤ کو منزل دینے کے لئے وزیراعظم ہاؤس سے نکلیں۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment