0

طوفانی بارشیں تاریخ اور انسانی رویے!

طوفانی بارشیں، تاریخ اور انسانی رویے!

ماحولیات کے عالمی ماہرین عرصہ دراز سے موسمیاتی تبدیلیوں کا ذکر کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اس میں جو اہم بات ہے وہ یہ کہ ”اوزان“ کی تہ میں سوراخ ہو چکا، جو بتدریج بڑھتا جا رہا ہے اور اس کی وجہ سے دنیا کے درجہ حرارت میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اب تک پانچ سے سات درجہ فارن ہائیٹ کا اضافہ ہوا، انہی ماہرین نے بارشوں میں اضافہ اور گلیشیئر پگھلنے کی بھی اطلاع دی اور ان خطوں کا بھی ذکر کیا جو زد میں ہیں، جنوب مشرقی  ایشیا میں سیلابوں اور طوفانوں کا ذکر ہوا تو یورپی ممالک میں گرمی پڑنے کی اطلاع دی گئی۔ ان حضرات نے خصوصی توجہ کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ ہمالیہ کے زیر اثر برصغیر میں بھی موسمی تبدیلیاں ہوں گی اور ایسا ہوتا چلا آ رہا ہے، حتیٰ کہ ہمارے اپنے پاکستان کے موسموں میں جو تبدیلی ہوئی اس میں سردی اور بہار کا وقفہ کم اور گرمی کا زیادہ ہو گیا، جبکہ ساون، بھادوں میں، یہ تبدیلی ہوئی کہ ساون آتا ہی نہیں، اس کے آغاز ہی سے بھادوں کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، بارشیں ہوتی ہیں تو ایک ہی شہر میں کہیں کم اور کہیں زیادہ یا پھر کسی حصے میں بالکل نہیں ہوتیں اور یوں ابتداء ہی حبس سے ہوتی ہے، حالانکہ یہی ساون باغوں میں جھولے، پکنک اور سیر سے بھی موسوم ہے، بلکہ آم کھانے اور پکوڑوں سے لطف اندوز ہونے کا موسم تھا، لیکن اب ایسا نہیں ہوتا کہ ماحولیاتی آلودگی نے سب تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔

اس بار عالمی ماہرین نے طوفانوں کا خدشہ ظاہر کیا تو ہمارے اپنے ملکی ماہرین نے یہ بتایا کہ اس  سال معمول سے زیادہ بارشیں ہوں گی، تاہم این ڈی ایم اے نے خبردار کیا تھا کہ بارشوں کی زیادتی سیلابی کیفیت کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے، ہم سب نے اسے معمول کے مطابق لیا، سرکاری فائلیں جھاڑ کر گزشتہ برس والے بیانات نکالے اور جاری کرنا شروع کر دیئے کہ برساتی نالوں کی بروقت صفائی اور نکاسی آب کے راستے میں رکاوٹیں ختم کر دی جائیں۔ یوں فرض پورا ہواعمل ندارد تھا، یہ صرف کراچی کا مسئلہ نہیں، ہر بڑے شہر میں حالات یکساں نوعیت کے ہیں کہ قبضہ مافیا نے سرکاری ملازمین کے تعاون سے جو تجاوزات کیں وہ برساتی نالوں کے اوپر اور اردگرد بھی ہوئیں، اس سے برسات میں پانی کا نکاس ہمیشہ متاثر چلا آیا، برسراقتدار حضرات کے دعوؤں کے باوجود تجاوزات ختم نہیں ہو سکیں۔ ان نالوں پر  توپلازے اور پٹرول پمپ موجود ہیں، ان تجاوزات کو اس وقت نہیں روکا جاتا جب یہ شروع ہوتی ہیں اور جب قبضہ مافیا قبضہ مستحکم کرکے جگہ فروخت کر جاتا اور یہ دو تین ہاتھ آگے بک جاتی ہے تو پھر کسی پریشانی کے وقت یاد آتا ہے کہ تجاوزات بھی ایک مسئلہ ہے۔ اس وقت تک یہ انسانی مسئلہ بن جاتا اور ان کو ہٹانا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ترین ہو جاتا ہے، اسی لئے تو اب کہا گیا ہے کہ کراچی میں نکاسی آب (برساتی) کے نالوں پر اور اردگرد ہونے والی تجاوزات ختم کرتے ہوئے مکینوں کو متبادل جگہ فراہم کی جائے گی، حالانکہ اگر اس مسئلہ کا مکمل حل کرنا ہے تو تجاوزات ختم کرنے اور آباد کاری کا سلسلہ اپنی جگہ ہو، لیکن تحقیق کرکے قبضہ مافیا اور معاونت کرنے والے سرکاری ملازمین کا سراغ لگا کر ان سے نہ صرف رقوم وصول کی جائیں، بلکہ ان کو قانون کے کٹہرے میں لا کر سزا دی جائے اور نقصان بھی پورا کیا جائے۔

حالیہ بارشوں نے ریکارڈ توڑ دیئے۔کراچی کے حوالے سے الیکٹرونک میڈیا نوے سالہ ریکارڈ کی دہائی دے رہا تھا، جبکہ آج ہمارے اپنے اخبار میں بتایا گیا کہ یہ تریپن سالہ ریکارڈ ٹوٹا ہے۔ ہمیں یاد آیا کہ ریکارڈ تو بنتے ہی ٹوٹنے کے لئے ہیں، ہم نے اپنی ہوش میں برسات اور سیلاب کے دو ایسے واقعات دیکھے ہی نہیں بھگتے بھی ہوئے  ہیں، یہ بھی پچاس ہی کی دہائی کا ذکر ہے، جب لاہور میں مسلسل تین دن میں سولہ انچ بارش ہوئی، لاہور ہی کیا، جتنے بھی تاریخی اور پرانے شہر ہیں یہ دریاؤں کے کنارے آباد ہوئے اور ان میں تعمیرات اونچے حصوں پر ہوئی تھیں کہ نکاسی آب کا سلسلہ خود کار طریقے سے ہو، لاہور کا اصلی (پرانا) شہر بھی ایک ٹیلہ نما مقام پر دریا راوی کے کنارے آبادہوا تھا، یہاں نکاسی آب کا سلسلہ بھی قدرتی ہے کہ شہر میں گلیوں میں نالیاں ہیں تو بازاروں کے کناروں کی طرف بڑی نالیاں ہیں، یہ نکاسی آب کا فطری نظام ہے کہ یہ سب اپنے اپنے علاقے (دروازے) کے باہر سرکلر باغات کے کنارے اور شہر کے گرد بڑے برساتی نالے میں جاگرتی ہیں۔ یوں جب بھی بارش ہو، پانی تیزی سے نکلتا چلا جاتا ہے، لیکن ہم جس دور  کا ذکر کررہے ہیں، تب مسلسل بارش کا یہ عالم تھا کہ اندرون موچی دروازہ، بازار لال کھوہ، چوک نواب صاحب اور اکبری منڈی میں کمر کمر تک پانی کھڑا ہو گیا تھا، ہم چند دوست لال کھوہ کے ایک گھر میں تین دن تک محبوس رہنے پر مجبور ہوئے تھے۔

اسی طرح ایک اور سیلاب یاد آ گیا، یہ 1951ء میں آیا، جب ہم نویں جماعت کے طالب علم تھے، اور دریا راوی گندہ نالہ نہیں، دریا تھا کہ تب بھارت اور پاکستان کے درمیان طاس سندھ معاہدہ نہیں ہوا تھا، جس کے تحت ستلج اور راوی کے پانی پر بھارت کا حق تسلیم کیا گیا تھا، (یہ معاہدہ ایوب دور میں ہوا تھا) اور نہ ہی بھارت نے جہلم اور چناب کے طاس پر ڈیم تعمیر کئے تھے، چنانچہ اس سال (1951ء) زبردست سیلاب آیا، راوی کناروں سے بہہ نکلا حالت یہ تھی کہ سیلابی پانی مصری شاہ میں داخل ہو کر اک موریا پل سے باہر ا گیا اور آمد و رفت کشتیوں سے ممکن ہوئی تھی، اسی طرح رابطہ سڑکوں میں شگاف پڑ گئے۔ لاہور کے شیخوپورہ، گوجرانوالہ وغیرہ سے رابطے ختم ہوئے تو ستلج نے قصور سے للیانی اور پرے ساہیوال تک مار کی تھی، ہمیں یاد ہے کہ ہماری والدہ ہماری نانی کے پاس شیخوپورہ کے گاؤں ”ملکُو“ گئی ہوئی تھیں سیلاب کا اثر کم ہوا تو ہمارے والد ہمیں ساتھ لے کر ان کو واپس لانے چل پڑے۔

ایک حد تک بس پر سفر ہوا، پھر سڑک کے چوڑے اور چھوٹے بڑے شگافوں کو پار کرکے اگلی طرف پہنچے اور وہاں سے پھر بس پر شیخوپورہ، سکھیکے روڈ کے اس مقام پر گئے جہاں سے گاؤں کو راستہ جاتا تھا، ہم باپ بیٹے نے یہ پانچ کوس کا راستہ سیلابی پانی میں سے گزر کر طے کیا تھا، تمام کھیت ڈوبے ہوئے، دیہاتی مکان گر گئے تھے اور فصلیں تباہ ہو گئی تھین، یوں ہم والدہ صاحبہ کو لے کر واپس آئے۔یہاں یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ ہم کیسے لوگ ہیں۔1951ء کے اس سیلاب کے بعد لاہور کی آبادی کو بچانے کے لئے دونوں اطراف حفاظتی بند بنائے گئے، جو ہمیشہ تحفظ کا باعث بنے۔آج یہ بند دیکھنے کو نہیں ملتے، بند اور دریا کے اندر والے حصے میں کارخانے اور مکان بن چکے ہوئے ہیں۔یہاں بھی تجاوزات کا مسئلہ موجود ہے۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں