Home » طلبہ یونین بحالی!37 سال سے حکمران دو عملی کا شکار

طلبہ یونین بحالی!37 سال سے حکمران دو عملی کا شکار

by ONENEWS

طلبہ یونین بحالی!37 سال سے حکمران دو عملی کا شکار

قانون سازی کرنے والے ہمیشہ تعلیم یافتہ اور اعلیٰ اخلاقی قدروں کے حامل ہوتے ہیں، ہمارے ملک میں بھی عوامی امنگوں کے مطابق پہلے میٹرک اور بی اے کی تعلیم ارکان پارلیمینٹ کے لئے لازمی قرار دی گئی اور پھر قوم نے دیکھا ارکان پارلیمینٹ کے لئے بی اے کی لازمی شرط کو ختم کرانے کے لئے وطن ِ  عزیز کے جاگیردار اور سرمایہ دار تمام اختلافات کو پس ِ پشت ڈال کر تعلیم کی شرط ختم کرنے میں کامیاب ہوئے اور پھر ہماری پارلیمینٹ میں عرصہ سے جاری گالم گلوچ، الزامات دنگا فساد معمولی تعطل کے بعد دوبارہ جاری ساری ہے، عموماً کہا جاتا ہے ہمارے جمہوری نظام میں طلبہ یونین نرسری کا فریضہ انجام دیتی رہیں ہیں یہی وجہ ہے تاریخ میں پارلیمینٹ میں جتنے بڑے سپیکر، یعنی تقریر کرنے والے آئے سب طلبہ یونین کی  نرسری سے تیار ہو کر آئے۔

موجودہ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی، موجودہ سپیکر قومی اسمبلی جناب احسن اقبال، جناب جاوید ہاشمی، جناب خواجہ سعد رفیق، جناب لیاقت بلوچ، جناب شیخ رشید، جناب قمرالزماں کائرہ، جہانگیر بدر(مرحوم)،فرید پراچہ، سراج الحق جیسے درجنوں نام موجود ہیں،جو زمانہ طالب علمی میں طالبہ یونین کا حصہ رہے اور طلبہ سیاست کی سیڑھی چڑھ کر پارلیمینٹ کی سیاست میں آئے اور تاریخ رقم کرتے چلے گئے۔ فروری کا مہینہ جب آتا ہے  تو طلبہ پر37 سال پہلے مارا گیا شب خون یاد آ جاتا ہے۔1984ء میں جب جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء کے ضابطہ60 جاری کر کے طلبہ کو ہمیشہ کے لئے جمہوری عمل سے باہر کیا لمحہ فکریہ ہے، مارشل لا کا خاتمہ ہو گیا،جمہوری عمل بحال ہو گیا،  مگر جمہوریت کے چیمپئن وہ پیپلزپارٹی ہو یا مسلم لیگ(ن)،وہ ایم کیو ایم ہو، اے این پی یا تحریک انصاف اقتدار ملنے کے باوجود اپنے انتخابی نعروں اور منشور کے مطالبہ طلبہ یونین بحال کرا سکے اور نہ مرکز  اور صوبوں میں طلبہ یونین کے انتخاب کرانے میں کامیاب ہو سکے۔

جمہوری حکومت آتی رہی جمہوری نعرے لگتے رہے،لیکن یونین بحالی اور الیکشن کرانے کا وعدہ کسی نے پورا نہ کیا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے 22سالہ جدوجہد میں ہمیشہ طلبہ یونین کی بحالی کا اعلان کیا اور طلبہ یونین پر پابندی کو جمہوری عمل پر شب خون قرار دیا، ڈھائی سال ہونے کو ہیں آج تک نعرے عملی شکل حاصل نہ کر سکے،موجودہ وزیر تعلیم شفقت محمود بھی گزشتہ روز ملک بھر کے وائس چانسلر کی اسلام آبا میں ہونے والی کانفرنس میں فرماتے ہیں،میں طلبہ یونین کا مخالف نہیں خدوخال واضح کرنے کی ضرورت ہے۔

جناب والا آپ بااختیار ہیں طلبہ یونین کے مخالف بھی نہیں ہیں، آپ کو خدوخال واضح کرنے سے کسی نے روکا ہے آپ کے قومی اسمبلی کے سپیکر بھی زمانہ طالب علمی میں سرگرم رہنما کی حیثیت سے کردار ادا کر چکے ہیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے رکن رہے ہیں طلبہ یونین کی افادیت اہمیت پر ان کی تقریریں بھی تاریخ کا حصہ ہیں،پھر کیا عمل منع ہے آپ طلبہ کو جمہوری عمل سے دور رکھے ہوئے ہیں۔آپ اس بات کا بھی اعتراف کر چکے ہیں طلبہ یونین جمہوریت کی نرسریاں ہیں اس سے طلبہ کی صلاحیتیں نکھرتی ہیں، غیر نصابی سرگرمیاں بڑھتی ہیں، طلبہ و طالبات ذاتی طور پر تحریری اور تقریری طور پر آگے بڑھتے ہیں، طلبہ و طالبات میں مقابلہ سازی کا رجحان بڑھتا ہے، پھر آپ کو کس نے اتنے اچھے کام سے روکا ہوا ہے، اب طلبہ کی آواز سنیں، 37 سال سے طلبہ یونین کی بحالی کے لئے جدوجہد کرنے والے طلبہ و طالبات کے دِل جیت لیں، جمہوری نرسریاں بحال کریں یہی حال ہماری پیپلز پارٹی کی حکومت کا رہا ہے، تین دفعہ اقتدار کے مزے لینے کے باوجود طلبہ یونین کی بحالی اور الیکشن کے انعقاد میں ناکام رہے ہیں، بارہ سال قبل پیپلز پارٹی کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اسمبلی سے اپنے خطاب میں ججز کی بحالی کے ساتھ سو روز میں طلبہ یونین کے انتخابات کرانے کا اعلان کیا اور کہا طلبہ یونین کی بحالی اور انتخابات محترمہ بے نظیر بھٹو کا خواب تھا، جو ہم پورا کریں گے۔

سید یوسف رضا گیلانی بھی اپنی تقریر پر عمل نہ کرا سکے اب سندھ حکومت میں پیپلزپارٹی کے صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی نے طلبہ کو خوشخبری سنائی ہے اور کہا ہے2021ء طلبہ یونین کی بحالی اور الیکشن کا سال ہو گا۔ ایک یا دو ماہ طلبہ یونین کی بحالی میں لگیں گے اور اسی سال سندھ میں طلبہ یونین کے انتخاب ہوں گے۔سعید غنی کا ہی موقف ریکارڈ پر آیا ہے طلبہ یونین پر پابندی کا فیصلہ غلط اور آمرانہ تھا، جس سے نقصان ہوا، تعلیمی اداروں میں تشدد بڑھا۔ سعید غنی نے کہا کہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری طلبہ یونین کی بحالی چاہتے ہیں۔ طلبہ یونین کی بحالی کا بل سندھ اسمبلی میں پیش ہو چکا ہے،جو سٹیڈنگ کمیٹی کے سپرد ہو چکا ہے۔ ممبران سٹیڈنگ کمیٹی میں اتفاق رائے کے ساتھ ہی اسمبلی سے پاس ہو جائے گا۔

دلچسپ امر یہ ہے وزیر تعلیم سعید غنی کے بیان کو بھی ایک سال ہونے کو ہے اور طلبہ یونین کی بحالی کا  بل سٹیڈنگ کمیٹی سے آگے نہیں بڑھ سکا ایسی ہی تاریخ اے این پی اور ایم کیو ایم کی ہے ان لوگوں نے بھی طلبہ یونین کی بحالی کو نعرے کے طور پر خوب استعمال کیا۔ عملی طور پر دو عملی کا شکار  رہے ایسا ہی معاملہ مسلم لیگ(ن) کا ہے ان کا طلبہ یونین کی بحالی کا نعرہ بھی گزشتہ37 سال سے نظریہ ضرورت سے آگے نہیں بڑھ سکا ہے۔ 9فروری1984ء سے9فروری2021ء تک کا جائزہ لے لیا جائے 37برسوں میں تعلیمی اداروں نے قوم کو کیا دیا اور اس سے پہلے طلبہ یونین کے تسلسل سے تعلیمی اداروں میں انتخابات کے نتیجے میں قوم کو کیا ملا۔اس کے لئے کمیشن بنانے کی ضرورت ہے تو بنا لیا جائے،لیکن اس باب کو دو عملی کی بھینٹ چڑھانے کی بجائے جائزہ ضرور لیا جائے۔

اس کا فائدہ کتنا  ہے اور نقصان کتنا ہے اگر ثابت ہو جائے کہ طلبہ یونین واقعی جمہوریت کا حسن بنتی ہیں، طلبہ کے کردار کو سنوارتی ہیں، تحریر و تقریر اور کردار بناتی ہیں تو پھر دیر نہ کی جائے، کیونکہ نئی نسل مباحثوں، تقریروں،کھیلوں، مقابلوں کی دوڑ سے دور جا رہی ہے صرف موبائل کی دلدادہ ہو کر رہ گئی ہے۔اب بھی حکمرانوں کے پاس نئی نسل کو بچانے کا وقت ہے ان کی غیر نصابی سرگرمیوں کی بحالی اور جمہوری نرسریاں آباد کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مرکز اور صوبوں میں فوری طلبہ یونین کے انتخابات کرائے جائیں اگر کمیشن فیصلہ دیتا ہے کہ طلبہ یونین وطن ِ  عزیز اور طلبہ و طالبات کے لئے ضروری نہیں ہیں ان کے مستقبل کو سنوارنے اور اخلاقی قدروں کی بحالی کے لئے موبائل ہی ضروری ہے پھر بھی دیر نہ کی جائے اور اس باب کو ہمیشہ کے لئے بند کر دیا جائے آخر ہم کب تک دو عملی کا شکار ہو کر طلبہ و طالبات کے ساتھ پوری قوم کو بے وقوف بناتے رہیں گے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment