Home » طبقاتی سچ سب سے بڑی حقیقت

طبقاتی سچ سب سے بڑی حقیقت

by ONENEWS

طبقاتی سچ، سب سے بڑی حقیقت

چار روز ہوئے گھر کے باہر عجیب منظر دیکھا۔ سڑک کے دوسری طرف جو چھوٹا سا پبلک پارک ہے اُس کے گیٹ کے ساتھ درختوں کے درمیان کوئی پچاس میٹر طویل رسی بندھی ہوئی تھی۔ ہمارے نہایت خوش اخلاق پڑوسی کے مکان کے سامنے آدھ درجن دربانوں کی فوج صبح و شام براجمان رہتی ہے۔ اُن سے پوچھا تو باغ کے پار اشارہ کر کے کہنے لگے: ”وہ دیکھئے، اُن کی وجہ سے کیا ہے۔“ غور کرنے پر پتا چلا کہ وہ بڑی سی کوٹھی،جس کے باہر ہمہ وقت بارہ چودہ نئے ماڈل کی کاریں رُکی رہتی تھیں، اب وہاں اُسی تعداد میں ایک جیسے چمکیلے رنگوں سے مزین سامان بردا ر سوزوکی گاڑیاں بھی قطار باندھے کھڑی ہیں اور ہر ایک پہ کمپنی کا نام لکھا ہے۔ اچھا تو یہ صورت حال رہائشی علاقوں کی روز افزوں کمرشلائزیشن کا شاخسانہ ہوئی۔ سوچا جب قومیں ترقی کرتی ہیں تو یہی ہوتا ہے، اِس پہ پریشانی کیسی؟

سوچنے کو یہ سوچ تو لیا، لیکن وہ جو لارنس کالج مری میں انگریزی پڑھانے والے میرے دوست سلیم بھٹی ایک لفظ بولا کرتے تھے ’کھُت بلُلی‘۔ یوں سمجھیں کہ ایک اندرونی کھُد بُد یا خارش سی ہونے لگی جس پہ بندہ دلیلوں میں پڑ جاتا ہے۔ آخر ہر بستی کی طرح ’شادمان ٹو‘ میں بھی رہائشی عمارات کو تجارتی مقصد کے لئے برتنے کا کوئی طریقِ کار تو ہوگا؟ یہ کیا کہ یونہی بیٹھے بیٹھے آپ کمرشلائز ہو جائیں۔ کوئی پندرہ سال پہلے ساؤتھ ایشین فری میڈیا ایسوسی ایشن کی شاخ کھُلی تو فرض شناس شہری اور جانے پہچانے مصنف مختار مسعود نے یہ کہہ کر قانونی پھڈا ڈال دیا تھا کہ ہمسایوں کی منظوری کے بغیر رہائشی علاقوں میں دفتر قائم نہیں کئے جا سکتے۔ اور اجازت مِل بھی جائے تو پراپرٹی ٹیکس کئی گنا زیادہ ہو گا تو کیا اِس نکتے پہ بات ختم ہو گئی؟

جواب اِس لئے نفی میں ہے کہ جو ولایت پلٹ احباب حقوق کے معاملے پر ولایت اور یورپ کی مثالیں دینے لگتے ہیں، اللہ کی مہربانی سے اِس کالم نگار کا شمار بھی اُنہی میں ہے۔ لندن کے شمالی مضافات میں ہماری رہائشی بستی کے اندر ایک شاپنگ سنٹر کا منصوبہ بنا تو ہم جیسے غریب غربا خوش تھے کہ چلئے سودا سلف کی خاطر ہر ہفتے ہائی بارنیٹ سے چار مِیل دور فنچلی سنٹرل نہیں جانا پڑے گا، لیکن یہ کیا؟ وہاں تو ہر مڈل کلاسیا مختار مسعود نکلا۔ پہلے تو سینکڑوں شہریوں نے ایک پیٹیشن پر دستخط کئے کہ علاقے کا ریذیڈنشل کیریکٹر تباہ کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ اگلا مرحلہ سلسلے وار احتجاجی مظاہروں کا تھا۔ آخر میں طویل مذاکرات اِس اتفاق رائے پر منتج ہوئے کہ شاپنگ سنٹر ایک طے شدہ حد سے بڑا نہ ہو اور تعمیراتی ڈیزائن صدیوں پرانے چرچ، لائبریری اور دیگر کہنہ عمارات کے عین مطابق ہو۔

دوبارہ پڑھیں تو اوپر کے پیراگراف میں کالم نگار نے کچھ مخصوص اصطلاحات برتی ہیں۔ ایک تو لندن کے اِس نواحی علاقے کی روایات اتنی مستحکم تھیں کہ تاریخ ِ انگلستان کے آغاز پر جنگِ گلاب کے کچھ معرکے یہیں ہوئے۔ دوسرے یہ علاقہ مڈل کلاس پر مشتمل ہے اور تعلیمی نتائج کے لحاظ میں مُلک میں سب سے اوپر۔ یاد رہے کہ برطانیہ میں مڈل کلاس کے مفہوم میں صرف سفید پوشی نہیں، بلکہ ایک گونہ خوشحالی کا تصور بھی شامل ہے۔ چنانچہ پیشہ ورانہ رُتبے میں پرائمری اسکول کی اُستانی سے لے کر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور اسپتال کی نرس سے لے کر اسپیشلسٹ ڈاکٹر تک بیچ کی سبھی پرتیں متوسط طبقے میں گِنی جائیں گی۔ تو پھر نکتہ کیا ابھرا؟ نکتہ سبق آموز، فکر انگیز اور ایک گونہ عبرتناک ہے، جس کی تہہ میں اترنے کے لئے طبقاتی سچ کو سمجھنا پڑے گا۔

مراد ہے کہ کوئی بھی جس وسیلے سے رزق حاصل کرتا رہے، انسان کے ورلڈ ویو پر اُس کا اثر بنیادی اور پائیدار ہوا کرتا ہے۔ بہت عرصہ نہیں ہوا کہ اُن میدانی علاقوں میں، جو پاکستان میں شامل ہیں، اکثریت کا تعلق زراعت سے تھا، اور زراعت بھی جدید مشینی کاشت سے پہلے کی۔ یوں اِن پیداواری سرگرمیوں کی اہمیت محض یہ نہیں کہ معیشت کا بیشتر دارومدار اِسی پہ تھا۔ زیادہ نمایاں پہلو یہ ہے کہ ماضی قریب تک ادب آداب، میل ملاپ کے طور طریقوں، بلکہ تمام تر تمدنی قدروں کا انحصار اِسی پہ رہا۔ یہ ڈھانچہ جیسا بھی تھا، جب ٹوٹا تو یوں لگا کہ اقدار و روایات بھی ٹونٹی ٹونٹی کھیلنے لگی ہیں۔ سبب یہ کہ زراعت کے پیداواری تقاضے کنبے، وسیع تر خاندان، گاؤں اور بہت حد تک سماج کو جوڑے رکھتے ہیں، جبکہ تجارتی و صنعتی معاشرے میں اِس کی اُتنی ضرورت نہیں رہتی۔

پھر یہ کہ تاریخ کا اگلا دَور شروع ہو جانے پر بھی رزق کا حصول نئے انداز میں اپنا آپ دکھاتا ہے۔ جیسے ماہانہ تنخواہ لینے والے اور دیہاڑی دار کا فرق۔ غصہ کئے بغیر یہ خیال رہے کہ آمدنی کی شرح سے قطعِ نظر یومیہ محنت کش کی طرح پرائیویٹ ڈاکٹر، وکیل اور تاجر پیشہ افراد، کسی کے پاس یہ ضمانت نہیں ہوتی کہ اگر چند دن کوئی مریض، موکل یا گاہک ہاتھ نہ لگا تو خرچہ کیسے چلے گا؟ مَیں نے اِس نزاکت کو بچپن میں اپنے ہی گھر کی ٹوٹ پھوٹ سے اُس وقت سمجھا جب دادا کو جنہوں نے زندگی کی ابتدا بطور محنت کش کی کاروبار میں گھاٹا پڑ گیا تھا۔ گھاٹا پڑنا کہتے کسے ہیں اور نتیجے میں عدم تحفظ سے نمٹا کیسے جاتا ہے؟ یہ کوئی مجھ سے پوچھے۔ والدِ محترم تو ماہوار تنخواہ کے نیٹ پہ کھیلتے ہوئے تب بھی ٹائی کوٹ پہنے بس قطار بندی، صحت و صفائی اور پابندیء وقت کی افادیت ہی بیان کرتے رہے۔

اب موجودہ عمر میں اِن دونوں بزرگوں کا موازنہ کرنے لگتا ہوں تو دونوں کے الگ الگ رویوں میں ظاہری تضاد کے باوجود کوئی جھول دکھائی نہیں دیتا۔ والد نے دفتری زندگی کے لئے اپنے رول ماڈل جنرل قمر علی مرزا کی طرح جو کڑے اخلاقی ضوابط مرتب کر رکھے تھے، وہ انہیں افورڈ کر سکتے تھے۔ اِس کے برعکس دادا نے، جنہیں سب نے اباجی ہی کہا، ٹھیڈے ٹھُڈے کھا کر جو کچھ خود سیکھا، اُسی پہ کاربند رہے، کیونکہ اپنی دانست میں انہیں بھی یہی وارا کھاتا تھا۔ ”بیٹا، کنسٹرکشن کے کام میں انجینئر، اوور سیئر اور بِل کلرک کی کمیشن تو ویسے ہی جیسے کسی کی تنخواہ دینی ہو۔ باقی مَیں بابوؤں کو آئس کریمیں اور پیسٹریاں اِس لئے کھِلاتا ہوں کہ میرے کام د وڑ دوڑ کر کرتے ہیں تو کیا ہم کرپشن کو پھیلنے دیں اور رہائشی آبادیوں کا ماحول تجارتی سرگرمیوں سے تباہ ہونے دیا جائے؟ آپ مانیں یا نہ مانیں، مسئلے کا حقیقی حل احساسِ تحفظ کی یکساں فراہمی میں ہے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment