Home » صنفی تقسیم اور معاشرہ

صنفی تقسیم اور معاشرہ

by ONENEWS


پاکستانی معاشرے میں صنفی تقسیم انسان کی پیدائش سے لے کر اس کی موت تک نظر آتی ہے ہم سب افراد اس صنفی تقسیم میں اس قدر ڈوب چکے ہیں کہ اس صنفی تقسیم کواپنی ثقافت اورمعاشرے کااہم پہلو سمجھنے کے ساتھ اس کوخود ذاتی طورپر بھی عمل میں لاتے ہیں صنفی تقسیم سے مراد مرداورعورت میں کیاجانے والا فرق ہے جو بعض اوقات ہمارے معاشرے میں بہت سارے مسائل کو جنم دیتاہے اسلام میں بھی خواتین کے لیے بہت سارے حقوق بتائے گئے ہیں لیکن صنفی قسی کے چکرمیں ان حقوق و فرائض کی کوئی پرواہ نہیں کرتاہے ہمارے ہاں صرف بنیادی حقوق کوہی مرد اورعورت کی ضرورت سمجھا جاتاہے اس کے علاوہ کسی چیز میں عورت کواہمیت نہیں دی جاتی ہے۔ہمارے ہاں بہت سے لوگ ابھی بھی عورت کو جائیداد میں حصے کاحقدار نہیں سمجھتے ہیں۔جبکہ اسلام میں بھی یہ ہے عورت وراثت کاحق رکھتی ہے۔خواتین کو پسند کی شادی کے حق اے بھی محروم کردیا جاتاہے اگرعورت یہ حق استعمال کرتی ہے تواسے غیرت کے نام پر قتل کردیاجاتاہے یاپھر خاندان سے تاحیات لاتعلقی کا تحفہ اس عورت کا مقدر بن جاتاہے۔منتظر نظر آتاہے۔جب خواتین کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جاتاہے تووہ بغاوت کاراستہ اختیار کرتی ہیں جب ایک مسئلے کی وجہ سے اتنے مسائل پیدا ہو رہے ہوں تو ہمیں بحیثیت انسان اس کے حل کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ صنفی تقسیم کے نام پر خواتین پر بہت سی پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں جس کی وجہ سے انہیں بہت سے مسائل کاسامنا کرنا پڑتا ہے لڑکیوں کو گھر کی چاردیواری میں قید کر دیاجاتاہے اورانہیں تعلیم کے زیور سے بھی محروم رکھا جاتاہے لڑکیوں کواُن کے خواب پورے کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی ہے۔اس معاشرے میں جہاں عورت کوکھل کر سانس لینے کی بھی اجازت نہیں وہاں پرمود کو ہر طرح کی آزادی میسر ہے۔

میڈیا میں بھی عورت کے کردار کو اتنا مظلوم دکھایا جاتاہے کہ ہم اپنے گھر بیٹھے ہوئے اس فکشن سے بھرپور ڈرامے کاکردار رنجیدہ لگنے لگتاہے۔یاپھر خواتین کو ضرورت سے زیادہ بولڈ دکھادیاجاتاہے۔اتنا فکشن کے خدا کی پناہ ان دونوں چیزوں کاحقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔بہرحال صنفی تقسیم سے مسائل اورالجھنوں کی ایک لمبی فہرست جنم لے رہی ہے۔جس میں زیادہ ترخواتین ہی مظلوم نظر آتی ہیں اورپھر میڈیا کے ایجنڈے کے تحت ہم بھی اس چیزکو صحیح ماننے لگ جاتے ہیں میڈیا ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے ہم عوام کی سوچ تبدیل کرسکتے ہیں۔لیکن ہمارے ڈراموں میں عشق و محبت کے علاوہ کچھ اور دکھایا بھی نہیں جاتا اور اگر دکھا بھی دیا جائے تو لوگاپنی اچھی تربیت کی وجہ سے اپنی بیوی سے اچھا سلوک کرتا بھی ہے تو اسے نارمل انسان نہیں سمجھا جاتا،تنگ نظرصرف مرد ہی نہیں بلکہ خواتین کی بھی کثیرتعداد ہوتی ہے۔کیونکہ مرد کی تربیت کی ذمہ داری عورت کی ہی ہوتی ہے اوریہ اس کی تربیت کاہی اثر ہوتاہے جو ہمیں ہر جگہ نظر آتاہے۔اس ناقص تربیت کی وجہ سے ہم صنفی تقسیم کیابلکہ انسانیت کے درجے سے بھی نیچے چلے جاتے ہیں خواتین کی ہراسگی میں عورت کاہی قصور سمجھاجاتاہے جوکہ ایک غلط سوچ ہے۔اس مردکو کیوں قصور وارنہیں سمجھاجاتا جوعورتوں کوورغلاکر انہیں اپنے گندے مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

صنفی تقسیم کے معاملے میں ہمیں آگاہی کی بہت ضرورت ہے جو صرف میڈیاکے ذریعے ہی مل سکتی ہے۔اس کے لیے ایک صحت مند معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے افراد کی سوچ تبدیل کریں۔اورپھراس صنفی تقسیم سے نکل کر انسانیت کی طرف آئیں۔عورت کو پاؤں کی جوتی،کھلونااوراپنی غلام سمجھنے کی بجائے انسان سمجھنا چاہیے کیونکہ اسلام میں حقوق العباد کو فوقیت دی گئی ہے۔ صنفی تقسیم کے خاتمے کے لیے ہمیں اپنی سوچ کو تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اسلاف کادیا ہوا سبق،قرآن سے راہنمائی اور سنت کی پیروی اورکتب سے ہم آہنگی کی بے حد ضرورت ہے۔کیونکہ ان کے علاوہ کسی چیز پر انحصار کرناممانعت ہے اورہمیں ان حماقتوں سے نکلتے ہوئے اپنی نسلوں کی اصلاح کرنی ہے مغرب کے ایجنڈے کومات دے کر ہم نے صحیح معنوں میں پاکستانی بنناہے ہماری مغرب جیسی آزادی نہیں صرف منفی حوصلہ شکنی کر کے مرد و عورت کے مناسب حقوق جو اسلام بھی دیتاہے۔اس کی بحالی چاہیے۔

عوام حکومت کوسپورٹ کرے

مکرمی!آج کے اس دور میں جب ملک مشکل حالات سے دوچار ہے ایسے میں عوام کو چاہیے کہ حکومت پر طنزو تنقید کرنے کی بجائے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کرے اوران مشکلات کامل کر پوری قوم سامنا کرے۔ہر قوم کو مشکلات کاسامنا کرناپڑتاہے لیکن اس میں صرف وہی کامیاب ہوتے ہیں جو سب مل کر ان کاسامنا کرتے ہیں اور اپنے حکمرانوں کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کی ضمانت دیتے ہیں ہم سب ملک پاکستان کے شہری ہیں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کوسمجھیں اورایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے حقوق و فرائض کی پابندی کریں اوراپنے ملک کے ساتھ کوئی غداری نہ کریں۔اگر سب مل کر پاکستان کے لیے کام کریں تووہ دن دور نہیں جب ملک میں خوشحالی اورترقی کاسورج چمکے گا۔

مزید :

رائےکالم





Source link

You may also like

Leave a Comment