Home » صحافتی کرپشن: ہائی برڈ وار کا ایک اہم ہتھیار

صحافتی کرپشن: ہائی برڈ وار کا ایک اہم ہتھیار

by ONENEWS

صحافتی کرپشن: ہائی برڈ وار کا ایک اہم ہتھیار

کل (29جنوری) کے اخبار میرے سامنے تھے۔ کرپشن کے بارے میں ”ٹرانس پرنسی انٹرنیشنل“کی ایک رپورٹ کے تناظر میں چند اردو اور انگریزی روزناموں کی صفحہ اول کی شہ سرخیاں مندرجہ ذیل تھیں:

1۔ 2020ء میں،پاکستان میں کرپشن بڑھ گئی…… نون لیگ کے مطابق یہ رپورٹ عمران حکومت کی کرپشن کا عالمی ثبوت۔(روزنامہ پاکستان)

2۔کرپشن کے گراف کے سلسلے میں پاکستان چار نمبر مزید نیچے گر گیا……پاکستان کی رینکنگ گزشتہ چھ برسوں میں بدترین سطح پر پہنچ گئی(روزنامہ ایکسپریس ٹریبون)

3۔ رشوت ستانی اور کرپشن کے سلسلے میں پاکستان کی عالمی پرسپشن مزید 4پوائنٹس نیچے گر گئی۔(روزنامہ ڈان)

4۔ کرپشن پاکستان میں اونچی چلی گئی۔ (روزنامہ دی نیوز)

5۔پاکستان میں کرپشن بڑھ گئی(روزنامہ جنگ)

ٹرانس پرنسی ایک عالمی تنظیم ہے جو دنیا بھر کے ممالک میں بددیانتی اور رشوت ستانی وغیرہ پر نگاہ رکھتی ہے اور گاہے ما ہے رپورٹیں شائع کرتی رہتی ہے کہ فلاں ملک کرپشن میں مزید نیچے گر گیا اور فلاں میں بہتری کے آثار ہیں۔ لیکن ایک اور طرح کی عیارانہ بددیانتی ایسی بھی ہے جس پر عام قاری کی نگاہ نہیں جاتی۔  اور جن دوستوں کی جاتی ہے وہ اس کا اظہار کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ ہر قاری تو کالم نویس، صحافی یا اخبار نویس نہیں ہوتا کہ اپنے دل کی بھڑاس نکال سکے اور اس ”عیارانہ صحافتی بددیانتی“ کا پول سکے…… میری نگاہ میں اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ یہ ایک عالمگیر وبا ہے۔اب تک اس صحافتی کورونا کی کوئی ویکسین منظر عام پر نہیں آ سکی۔

ڈان کے صفحہ نمبر13 (میٹرو سنٹرل) کی ایک سرخی یہ بھی ہے: ”سینیٹ کے انتخابات سے پہلے بزدار کی اپوزیشن کے دو اراکین صوبائی اسمبلی سے ملاقات“…… یہ خبر الیکٹرانک میڈیا پر بھی چل چکی ہے۔ 28جنوری کی شب اس ملاقات کی وڈیو ٹی وی ناظرین و سامعین کی نگاہ و گوش سے گزر چکی ہو گی۔ ڈان کا سٹاف رپورٹر اس خبر کا آغاز کس طرح کرتا ہے، یہ اندازِ تحریر بھی ملاحظہ کیجئے: ”اگرچہ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار اپنی پارٹی (PTI)کے ان اراکین صوبائی اسمبلی سے نہیں ملے کہ جن کو ان کی حکمرانی کی ناکامیوں سے شکوے شکائتیں ہیں لیکن انہوں نے ایک بار پھر نون لیگ کے ایک رکن صوبائی اسمبلی اور پاکستان پیپلزپارٹی کے بھی ایک رکن صوبائی اسمبلی سے ملاقاتیں کی ہیں اور فرمایا ہے کہ ان کے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں۔ پی ٹی آئی اس ملاقات کو اپنی کامیابی سمجھ رہی ہے اور آنے والے سینیٹ انتخابات میں اسے نون لیگ اور پی پی پی کی وکٹیں گرانے کا پیش خیمہ قرار دے رہی ہے“۔

اس کے بعد اس خبر میں ان دونوں اراکین صوبائی اسمبلی کے نام لکھے ہوئے ہیں اور اس ملاقات میں جو باتیں ہوئیں، ان کا خلاصہ درج ہے۔یہ خبر اس حوالے سے عیارانہ صحافتی کرپشن کی مثال ہے کہ اس خبر کو یوں بھی پیش کیا جا سکتا تھا: ”نون لیگ اور پی پی پی کے ایک ایک رکن نے ’خود‘ جا کر پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے ملاقات کی ہے اور انہیں (شاید) آنے والے سینیٹ انتخابات میں اپنی حمائت (ووٹ) کا یقین دلایا ہے۔“

اسی روز ڈان کی ایک اور پانچ کالمی خبر بھی قابلِ ملاحظہ ہے جس کی سرخی یہ ہے: ”ترین کی واپسی کی تجویز نے پی ٹی آئی میں ایک ہلچل کی سی صورت حال پیدا کر دی ہے…… پی ٹی آئی کے بعض لیڈر خیال کرتے ہیں کہ اگر ترین (جہانگیر ترین) پاکستان آ گئے تو وہ پنجاب میں سینیٹ پولنگ میں پی ٹی آئی کی فتح میں ایک کلیدی کردار ادا کریں گے۔“

اس خبر میں جانبداری کا پہلو یہ ہے کہ یہ خبر نون لیگ / پی پی پی کی حمائت اور پی ٹی آئی کی مخالفت کا کھلا اظہار ہے۔ راجہ ریاض پی ٹی آئی  کے رکن قومی اسمبلی ہیں۔ انہوں نے عمران خان کو تجویز دی ہے کہ جہانگیر ترین کو واپس لایا جائے تاکہ وہ نون لیگ کی مخالفت (سینیٹ کے الیکشن میں) کے سلسلے میں ایک رول ادا کر سکیں۔

اسی روز ڈان کے میٹرو ایڈیشن میں ایک اور خبر کی شہ سرخی ملاحظہ کریں: ”جنگ گروپ کے ایڈیٹر اور دو دوسرے افراد کے خلاف زمین کے ایک مقدمے میں فرد جرم عائد کر دی گئی ہے“…… خبر کی تفصیل میں وہی بات دہرائی گئی ہے جو گزشتہ کئی بار پریس میڈیا میں آ چکی ہے اور جنگ گروپ میڈیا آج تک اپنے ایڈیٹر انچیف کی حوالہء زنداں کرنے کی اس خبر کو بڑے تسلسل سے نمایاں کرتا رہا ہے اور کہتا رہا ہے کہ 34سال قبل کا یہ مقدمہ اب اس وقت کھولا گیا ہے جب نوازشریف کی جگہ عمران خان برسرحکومت آئے ہیں۔

اگر کوئی غیر جانبدار قاری اخبار ڈان کا مطالعہ کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ یہ اخبار اپوزیشن کا کس قدر حمائتی اور حکمران جماعت کا کتنا مخالف ہے۔

یہ صرف اپنے اردو یا انگریزی پرنٹ میڈیا پر ہی منحصر نہیں دنیا بھر کا میڈیا انہی راہوں کا مسافر ہے۔ 29جنوری کے ”دی نیویارک ٹائمز“ کے انٹرنیشنل ایڈیشن کے صفحہ اول پر ایک باتصویر (رنگین تصویر) پانچ کالمی خبر کی سرخی ملاحظہ کریں: ”برائے نیپال“: موسم سرما میں ایک قاتل (کوہستانی چوٹی) کو موسمِ سرما میں کوہ پیماؤں نے سر کر لیا“……

یہ خبر پاکستان ہی نہیں دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کے لئے باعثِ مسرت تھی کہ انہوں نے پہلی بار پاکستان میں واقع K-2 کو موسم سرما میں فتح کیا تھا…… اس خبر کی ذیلی سرخی جو ’نیویارک ٹائمز‘ نے لگائی وہ یہ تھی: ”شرپاؤں (Sherpas) کی اکثریت والی ٹیم نے دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کو سر کرکے اپنے قومی افتخار میں اضافہ کیا“۔

ہم جانتے ہیں کہ ماؤنٹ ایورسٹ دنیا کی بلند ترین چوٹی ہے جس کی بلندی 29029 فٹ ہے اور یہ نیپال میں ہے اور دوسری بلند ترین چوٹی K-2 ہے جو پاکستان میں ہے اور جس کی بلندی 28251 فٹ ہے۔ یہ چوٹی کوہ پیماؤں کی قاتل بھی کہلاتی ہے۔آج تک جتنے کوہ پیماؤں نے اس کو سر کرنے کی کوشش کی ہے ان میں سے اکثر موت کے منہ میں چلے گئے۔ اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق 17فیصد کوہ پیما گزشتہ کوششوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔16جنوری 2021ء کو نیپالی شرپاؤں (Sherpas) نے جو یہ چوٹی سر کی ہے تو یہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ موسم سرما میں کسی ٹیم نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔

یہ خبر بڑی مفصل اور آدھے جہازی صفحے پر پھیلی ہوئی ہے اور اس میں ان کوہ پیماؤں کی کہانی بیان کی گئی ہے جو ایک ایک کرکے ہلاک ہوتے رہے۔ سردیوں میں تو کوئی کوہ پیما بھی یہ جرات نہ کر سکا کہ اس کو فتح کرے۔ لیکن انسانی جرات بھی قابلِ احترام و سلام ہے کہ اس نے یہ کارنامہ بالآخر انجام دیا۔ لیکن اس میں ”عیارانہ صحافتی کرپشن“ یہ ہے کہ اس ساری خبر میں ’پاکستان‘ کا نام صرف ایک بار استعمال کیا گیا ہے اور وہ بھی ایک فقرے میں جو  یہ ہے: ”K-2 پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع ہے“…… مغربی میڈیا، پرنٹ ہو کہ الیکٹرانک ’پاکستان‘ کا نام اگر کسی بھی حوالے سے قابلِ ستائش ہو تو اس کو نمایاں کرنے سے ’شرماتا‘ ہے لیکن اگر دہشت گردی کا ذکر کرنا ہو تو پاکستان کا نام اس کی جیب میں دھرا رہتا ہے……

یہ بھی واضح ہو کہ ”ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل“ بھی ایک مغربی شماریاتی ایجنسی ہے جس نے 180ممالک کی فہرست میں پاکستان کو 124نمبر پر رکھا ہے اور لکھا ہے کہ گزشتہ 6برسوں میں پاکستان کا انڈکس ’کرپشن‘ کے حوالے سے 4پوائنٹ نیچے چلا گیا ہے……پی ٹی آئی حکومت کا منشور اور طرۂ امتیاز اگر کرپشن کی بیخ کنی تھی تو یہ رپورٹ اس کے لئے باعثِ تشویش ہونی چاہیے۔ ”صحافیانہ کرپشن“ اس حوالے سے سخت تشویش ناک ہے کہ یہ اگر پرنٹ میڈیا میں در آئے تو ایک ”خاموش قاتل“تصور کی جاتی ہے اور ہائی برڈ وار فیئر کا ایک کارگر ہتھیار شمار ہوتی ہے۔ یہ اخباری حروف و الفاظ صوت و صدا سے عاری ہوتے ہیں لیکن ان کی رسائی، اثر انگیزی اور تاثیر کسی بھی صدائی واویلے یا صوتی ڈھنڈورے کے ہتھیار سے زیادہ خطرناک ویپن ہے!

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment