0

صباقمراوربلال سعید کی ضمانت قبل ازگرفتاری منظور

تصویر: انسگرام

سیشن کورٹ نے گلوکاربلال سعید اوراداکارہ صبا قمرکیخلاف مسجد وزیرخان میں گانے کی عکسبندی پردرج مقدمے میں دونوں کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں منظور کرلیں۔

ایڈیشنل سیشن جج چوہدری قاسم علی نے 25 اگست کو محفوظ کیا جانے والا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ دونوں ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں منظور کی جاتی ہیں۔ ان کی بریت یا سزا کا فیصلہ ٹرائل میں ہوگا ۔

اس سے قبل 25 اگست کوعدالت نے صبا قمر اور گلوکار بلال سعید کی حاضری مسے استثنیٰ کی درخواست منظورکرتے ہوئے دونوں کو آج 3 ستمبر کو طلب کیا تھا۔ عدالت نے پولیس کو 3ستمبر تک دونوں کو گرفتارنہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

دونوں کے خلاف 13 اگست کو تھانہ اکبری گيٹ ميں وکیل فرحت منظورکی مدعيت ميں مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں 295 کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ مدعی کی جانب سے صبا قمراور بلال پرمسجد کا تقدس پامال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے موقف اختیارکیا گیا تھا کہ مسجد ميں گانا عکس بند کرکے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھيس پہنچائی گئی۔

جس کے بعد صبا قمر اوربلال سعید نے 15 اگست کو عدالت میں پیش ہوکر 25 اگست تک عبوری ضمانت حاصل کی تھی جبکہ 25 اگست کو ان کےوکیل کی جانب سےسیشن کورٹ میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دیتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا کہ دونوں کو دھمکیاں مل رہی ہیں،عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے، جان کو خطرہ ہے اس لیے حاضری سے استثنیٰ ديا جائے، عدالت نے دونوں کو 3 ستمبرکوطلب کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

اس معاملے کا آغاز بلال سعید کے نئے گانے ” قبول ہے “کا ٹیزرآوٹ ہونے کے بعد ہوا۔ سوشل میڈیا پربلال اورصبا کوشدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ گانے کے آغازمیں لاہورکی مسجد وزیرخان میں شوٹ کیا جانے والا ایک منظرتھا جس کے دوران کیے جانے والے ایک ڈانس مووو نے سوشل میڈیا پر تنازع کو جنم دیا۔ بلال سعید نے میوزک ویڈیو سے وہ منظرنکالنے کے بعد12 اگست کو گانا ریلیز کیا تھا۔

https://www.youtube.com/watch؟v=ZqJb2L0OFJs

ٹوئٹرپرجاری ویڈیو میں بلال نے وضاحت دی تھی کہ ہم نے مسجد وزیر خان میں صرف نکاح کا شوٹ کیاتھاجس سے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی اور ایساسمجھا گیا کہ ہم نے مسجد کے تقدس کو پامال کیا، لیکن ایسا کرنےکا سوچ بھی نہیں سکتا۔ مسجد میں میوزک چلایا ، نہ ہی ڈانس کیا۔ وہاں موجود مسجد کی انتظامیہ بھی اس کی گواہ ہے،فوٹو لینے کیلئے ہم نے صرف ایک چھوٹا سا ڈانس موو کیا تھا۔ ایک کلپ کی وجہ سے یہ غلط فہمی پیدا ہوئی لیکن میں مانتا ہوں کہ ہم سے غلطی ہوئی۔ میں ، صبا قمر اور ہم سب اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے ہیں کیونکہ قرآن میں بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

گلوکار نےاس معاملے کو درگزر کرنے کی گزارش کرتے ہوئے کہا تھا کہ غلطی کااحساس ہے اس لیے ویڈیو میں سے وہ پورا سین نکال رہا ہوں، آئندہ کبھی ایسی غلطی نہیں دہرائیں گے۔

اس سے قبل صبا قمر نے بھی انسٹا پراس حوالے سے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ گانے کی شُوٹنگ کے دوران مسجد انتظامیہ وہاں موجود تھی اور وہ گواہ ہیں کہ کسی قسم کی کوئی موسیقی نہیں چلائی گئی۔ ویڈیو کے تعارفی حصے کی شوٹ وزیر خان مسجد میں کی تھی جس میں جس میں نکاح کا منظردکھایا گیا ہے۔ اسے نہ تو کسی پلے بیک میوزک کے ساتھ فلمایا گیا، نہ ہی یہ میوزک ٹریک کا حصہ ہے۔

.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں