0

شہنشاہ ظرافت منور ظریف کی لازوال اداکاری

پچاس کی دہائی میں ایک شام 2 نوجوان بائی سائیکل کو اڑاتے ہوئے روڈ پرجارہے تھے، اچانک ایک درخت کے پیچھے سے پولیس اہلکار نکلا اور چلایا” بدبختو، تمہاری سائیکل میں لائٹ کیوں نہیں ہے؟ “۔

اسے چلانے والے بڑے لڑکے نے جواب دیا ” دیکھیں جناب، بہترہے کہ آپ راستے سے ہٹ جائیں کیوں کہ اس سائیکل میں تو بریک بھی نہیں ہے “،اس لڑکے کا نام محمد منور تھا جو جلد ہی بڑی اسکرین پر جگمگانے والا سب سے مزاحیہ پاکستانی بنا۔

(اس واقعہ کو اس موٹرسائیکل پرسوار دوسرے بچے اور منور کے گہرے دوست ، پاکستان فلم انڈسٹری کے ایک اور مایہ ناز اداکار علی اعجاز نے سال 2015میں دیے جانے والے ایک انٹرویو میں بیان کیا تھا)۔

محمد منور1940 میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے اورسال 1961 میں فلم “ڈنڈیاں” سے بڑی اسکرین پرڈیبیو کیا، اگلے 15 سال میں وہ 300 سے زائد فلموں میں دکھائی دیے۔ پہلے کامیڈین، پھر بطورمعاون اداکار اور پھرمرکزی کردار میں۔ لیکن ان کے لہجے، الفاظ اور جسمانی لحاظ سے مزاح ان کی سب سے نمایاں خصوصیت رہی۔ اردو بولتے تو ایسے کہ لہجے میں پنجابی جھلک کا شائبہ تک نہ ہوتا اور پنجابی بولتے تو ایسی کہ جیسے اردو بھی بولی ہی نہ ہو۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اسکرپٹ پر قائم نہیں رہتے تھے ، ان کی برجستگی فلم میں مزاح کو بڑھا دیتی تھی لیکن اکثرساتھی ستاروں کوان کاساتھ دینے کیلئے جدوجہد کرنا پڑتی۔

سال 1976 میں پھیپھڑوں کی بیاری سے اپنے انتقال تک ان کے نام کا آخری حرف تبدیل ہوچکا تھا، منور ظریف ،جو ظاہر کرتا تھا کہ وہ اپنے فن میں کس قدر کامیاب رہے۔

یہاں منور ظریف کو سمجھنے لیے ان کی معروف فلموں اور ویڈیو کلپس کی ایک چھوٹی سی فہرست ہے۔

ہیر رانجھا (1973)۔
مسعود پرویز کی فلم “ہیررانجھا ” محبت کی اس لوک داستاں کی پہلی فلمی یا ڈرامائی تشکیل نہیں تھی لیکن یہ اس داستان کی کامیاب ترین فلم ٹھہری۔ اداکارہ فردوس نے ہیر اور اعجاز حیدر نے رانجھا کا کردار ادا کیا۔ اس فلم میں منور ظریف کاانتخاب سیدا کھیڑا کے کردار کیلئے کیا گیا تھا، وہ آدمی جس سے زبردستی ہیر کی شادی کرائی گئی۔ مزاحیہ اداکاری کی یہ پہلی مثال نہیں تھی لیکن منورظریف نے اپنے مناظر پرپوری طرح سے غلبہ پائے رکھا۔

آپ پوری فلم یوٹیوب پر یہاں کلک کرکے دیکھ سکتے ہیں۔

یہاں فلم کا ایک منظر ہے جس میں ہیر اور سیدے کی شادی کی رات وہ ہیر کے پاس جاتا ہے اس بات سے بےخبر کہ اس سےکیا توقع رکھی جارہی ہے۔

اس کہانی میں سیدا کو ہیرکیلئے ایک مکمل طورپرنااہل شخص کے طورپرپیش کرنا ہے لیکن منورطریف کا خود کو پرمزاح انداز میں بیوقوف دکھانا اسے مزید واضح کررہا ہے۔

جیرا بلیڈ (1973)۔
منورظریف کی سب سے عمدہ پرفارمنس ایک مرکزی کردارتھا جو انہوں نے فلم ” جیرا بلیڈ” میں ادا کیا تھا۔ افتخار خان کی ہدایتکاری میں بننے والی اس فلم میں مسعود رانا اور نور جہاں کی آوازوں میں گانے شامل کیے گئے تھے۔

اداکار نے اس فلم میں شفقت کا کردار ادا کیا تھا جس کے والد کی جوئے کی لت اسے کئی قتل کا مرتکب ٹھہراتی ہے۔ جب باپ پولیس کے ہاتھوں پکڑاجاتا ہےتو قتل ہونے والوں کے ساتھی بدلہ لینے آتے ہیں اور اس جھڑپ میں منورظریف کی والدہ (اداکارہ بہار بیگم ) سر کی چوٹ کی وجہ سے اپنی بینائی کھو دیتی ہیں۔

تنہا اور یتیم شفقت بڑے آدمی کی لڑائی لڑنے پر مجبور ہے۔ اس کا دوست (اداکار خلیفہ نذیر) ایک اچھا جیب کتراہے۔ اس نے چھوٹےلڑکے کو استرا دے کر اسے جیرا بلیڈ میں بدلنے والا ہنر ٓسکھایا۔ اس طرح حاصل ہونے والی رقم وہ اپنی بہن کی تعلیم اور اپنی والدہ کے علاج معالجے پرخرچ کرتاہے۔ پھر جیل کی سختیوں کے بعد وہ اپنی غلطیاں سدھارنے اور اپنے والد کو ڈھونڈنے نکلتا ہے۔

یہاں ایک کلاسک گانا ہے جس میں منورظریف کو ڈانس کرتے دیکھاجاسکتا ہے، مسعود رانا کی آوازاداکار پربالکل فٹ بیٹھتی ہے۔

https://www.youtube.com/watch؟v=kHHa-YyFCg0

کسی بھی دوسری انڈسٹری میں فلم ایک تاریک اور پُرتشدد کہانی ثابت ہوسکتی ہے ، لیکن منور ظریف کا ہرمنظر دیکھ کرہنسی آتی ہے۔

منور ظریف اور رنگیلا 1973

اگرچہ ایک فلم میں ان کی موجودگی کی ضمانت اس بات پر ہے کہ یہ فلم کو مزاح سے بھر دیں گے لیکن ظریف اپنے عہد کا واحد مزاحیہ اداکار نہیں تھا بلکہ اداکار رنگیلا کے ساتھ ان کا سخت مقابلہ کیا گیا تھا اور دونوں متعدد فلموں میں ایک ساتھ نظر آئے تھے لیکن 1973 میں ہدایتکار نذر شباب نے ان دونوں کے ساتھ فلم بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔

فلم میں دونوں ہی نے اپنے اپنے حقیقی ناموں کے ساتھ کردار ادا کیا۔ دونوں با آسانی اردو اور پنجابی زبان کا استعمال کرکے دیکھنے والے کو ہسنے پر مجبور کردیتے تھے جس کی وجہ سے فلم میں کسی ایک پسندیدہ کردار کا انتخاب کرنا بہت مشکل ہوتا تھا۔

یہ کہانی منور کے نام ہے جو ایک کروڑ پتی کا بیٹا ہے اور بچپن میں ہی کھو جاتا ہے اور رنگیلا کے ساتھ ساتھ اس کی پرورش ہوتی ہے۔ دونوں زندگی بھر دھوکہ دہی کرتے ہیں ۔آخر میں منور اپنے والد کے ساتھ مل گئے۔ آپ پوری فلم یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

سرونٹ وہٹی ڈا 1974

بھولا (منور ظریف) رضیہ (آسیہ) سے شادی کرلیتا ہے لیکن وہ دولت سے مالا مال ہوتی ہے اور وہ بے سہارا ہوتا ہے ، لہذا جب شادی کا وقت آتا ہے تو وہ اسے بالکل مسترد کرتی ہے اور اس کی ماں کی توہین کرتی ہے۔

لیکن بھولا رضیہ سے شادی کو اپنی زندگی کا مشن بنا دیتا ہے اور اداکار بننے کے لئے بڑے شہر چلا جاتا ہے۔ اور بالآخر وہ کامیاب ہوجاتا ہے، عیسائیوں کو تلاش کرنے کے لئے طبقاتی تقسیم پر قابو پانے کے ایک ناقص ہیرو کی کہانی کئی دہائیوں تک ہندوستان اور پاکستان کی فلمی صنعتوں کا مرکز بنے گی۔

ایک غریب ہیرو کی کہانی جسے محبت کی حصول کیلئے طبقاتی تقسیم کا سامنا کرنا پڑتا ہے،آپ پوری فلم یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

اس فلم کی ہدایتکاری حیدر چوہدری نے کی تھی اور وجاہت عطرے کی موسیقی کو نور جہاں اور مسعود رانا کی آوازوں پیش کیا گیا تھا۔ فلم زندگی تماشا بنی کا گانا اب بھی انڈسٹری کی تاریخ کے سب سے مشہور پنجابی فلمی گانوں میں سے ایک ہے۔

https://www.youtube.com/watch؟v=pWu8iqDk5Po

فلم ایسی ہٹ تھی کہ اسے بالی ووڈ نے بھی اپنایا جس میں دھرمیندر نے یہ کردار ادا کیا اور یہ فلم سن 1983 میں ریلیز کی گئی۔

.



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں