Home » شہادت اور کامی کازی

شہادت اور کامی کازی

by ONENEWS

ہماری پوسٹنگ کھاریاں میں ایک آرمرڈ ڈویژن ہیڈکوارٹر میں تھی کہ ایک دن کورہیڈکوارٹرز (منگلا کور) سے ایک لیٹر موصول ہوا جس میں ہمیں ایک تقریری مباحثے میں بطور ’جج‘ نامزد کیا گیا تھا۔ اس مباحثے میں دو جج اور بھی تھے جو ہم سے جونیئر تھے اس لئے ہمیں ’چیف جج‘ ہونا تھا۔ یہ مباحثہ جو کورہیڈکوارٹر منگلا کینٹ میں تھا اس کا عنوان ”خودکشی یا شہادت“ کافی فکر انگیز بھی تھا اور اس حوالے سے اشتعال انگیز بھی کہ اسلام میں خودکشی حرام ہے جبکہ شہادت ہر مسلمان کی اولین آرزو ہے۔یہ مباحثہ اردو زبان میں تھا اور اس میں آفیسرز اور جے سی اوز حصہ لے رہے تھے۔

قارئین کو شاید معلوم ہو گا کہ فوج میں ایسے تقریری مباحثے اور مقابلے ریگولر بنیادوں پر ہر فارمیشن میں منعقد کئے جاتے ہیں۔ ان کے عنوانات پروفیشنل بھی ہوتے ہیں اور تاریخی، سماجی، ادبی، بھی ہوتے ہیں اور مذہبی بھی…… میرے علاوہ ججوں کے پینل میں ایک آفیسر حافظ قرآن تھے اور دوسرے ڈاکٹر تھے جنہوں نے حال ہی میں پیشہ ورانہ اخلاقیات (Professional Ethics) میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی۔ منگلا کور میں چار ڈویژن تھے۔ دو کھاریاں میں، (6آرمرڈ اور 17انفنٹری)، ایک جہلم میں (23انفنٹری) اور ایک منگلا میں (19انفنٹری)۔ اس کے علاوہ کور ہیڈکوارٹر کے آفیسرز بھی تھے۔ شہادت کے موضوع پر تو ہم نے ’حسبِ توفیق‘ کچھ مطالعہ کر رکھا تھا۔علامہ اقبال نے شہادت پر جو اشعار اور نظمیں کہی تھیں وہ بھی بارہا نظر سے گزری تھیں۔ غزوات و سریاتِ نبویؐ کی تفاصیل بھی زیر مطالعہ رہتی تھیں۔ لیکن خودکشی کا موضوع، شہادت کے مقابلے میں، کوئی زیادہ وسیع و عریض نہ تھا۔ باتوں باتوں میں ہم نے ایک دن اپنے GSO-1 (جس کا رینک لیفٹیننٹ کرنل ہوتا ہے) سے اس کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا: ”میں نے ہی کور ہیڈکوارٹر کا وہ لیٹر تمہیں مارک کیا تھا۔ مطالعہ کرکے جانا کہ چیف جج کو مباحثے کے اختتام پر ’دعوتِ کلام‘ بھی دی جا سکتی ہے اور اس میں چونکہ زیادہ تر آفسیرز شرکت کر رہے ہیں اس لئے اس کا لیول جے سی اوز کا کم اور آفیسرز کا زیادہ ہوگا“۔

کرنل صاحب نے ایک آفیسر کا نام بھی لیا اور کہا کہ وہ حال ہی میں جاپان سے ایک پروفیشنل کورس کرکے واپس آئے ہیں، ان سے مل لو، وہ ’خودکشی‘ کے موضوع پر تمہیں بہتر گائیڈ کر سکیں گے۔ چنانچہ میں اگلے روز اس آفیسر کے پاس چلا گیا اور اپنا مدعا بیان کیا۔ معلوم ہوا جاپانی آرمی میں ’خودکشی‘ کے موضوع پر جتنا مواد پایا جاتا ہے، کسی دوسری جگہ نہیں ملتا۔ اور اس کی وجہ کرنل صاحب نے یہ بیان کی کہ جاپانی افواج میں خودکشی کو ’کامی کازی‘ (Kamikaze) کا نام دیا جاتا ہے جو اسلام کے فلسفہ ء شہادت سے مستعار معلوم ہوتا ہے اور دوسری جنگ عظیم میں جاپان کی مسلح افواج نے اسے ایک کارگر ویپن کے طور پر اتحادیوں کے خلاف استعمال کیا اور بہت سی کامیابیاں حاصل کیں۔ اس جنگ میں اگرچہ جاپان کو شکست ہو گئی لیکن اگر امریکہ اگست 1945ء میں ایٹم بم استعمال نہ کرتا تو اگرچہ یہ شکست پھر بھی جاپان کا مقدر تھی لیکن امریکی افواج (بالخصوص بحریہ، میرین اور فضائیہ) کو بھی کثیر جانی نقصانات کا سامنا ہوتا۔

اس کے بعد انہوں نے اگلے روز مجھے اس موضوع پر دو کتابیں بھجوائیں جن میں سے ایک جاپانی زبان سے انگریزی میں ترجمہ تھی اور دوسری ایک امریکی نیول آفیسر کی تصنیف تھی جس میں جنگ عظیم دوم میں بحری لڑائیوں (Naval Battles) کا تذکرہ تھا اور ان میں جاپان کی کامی کازی فورس کی کارگزاری کا بیان بھی تھا جو نہایت دلچسپ، فکر انگیز اور چشم کشا تھا۔ میں جب منگلا میں اس مباحثے میں گیا تو افسروں نے واقعی کامی کازی اور شہادت کے موضوع پر جو حوالے دیئے، وہ میرے لئے معلومات افزاء بھی تھے اور حیرت انگیز بھی۔ لیکن جب مجھے اس مباحثے کے اختتام پر تقریر کرنی پڑی تو میں نے ان دونوں کتابوں سے حوالے دیئے جو کھاریاں میں کرنل صاحب نے مجھے بھجوائی تھیں۔

اس مباحثے کے بعد مجھے کامی کازی سے دلچسپی پیدا ہوئی اور راولپنڈی، کراچی اور لاہور کے اردو بازاروں سے جو مطبوعہ مواد اس موضوع پر مل سکا اس کا مطالعہ کیا۔ مجھے اس بات کی تلاش رہی کہ شاید کوئی جاپانی مورخ اس حقیقت کا اعتراف کرے کہ جاپان کی مسلح افواج نے ”خودکشی“ کا یہ فلسفہ اسلام کے ’فلسفہء شہادت‘ سے مستعار لیا تھا۔ بعد میں جب میں نے ’جنگ عظیم دوم کے عظیم کمانڈر‘ نامی کتاب لکھی تو اس جنگ میں ایڈمرل یا ماما تو اور جنرل یاموشیتا کی سوانح لکھتے ہوئے بہت سی انگریزی تصانیف سے استفادہ کیا لیکن زرد فام یا سفید فام اقوام کے کسی بھی فوجی مورخ نے یہ اعتراف نہیں کیا کہ جاپان کا فلسفہء خودکشی، اسلام کے فلسفہ ء شہادت سے لیا گیا تھا۔ جاپانی اپنے شہنشاہ کو خدا مانتے تھے (خدا کا اوتار مانتے تو اور بات ہوتی) لیکن وہ اپنے بادشاہ کو واقعی خدا یا خدا کا مثیل مانتے ہیں۔ میں یہاں مذاہب کا تقابلی جائزہ پیش کرنے کا ’ارتکاب‘ نہیں کروں گا کہ یہ ایک بسیط موضوع ہے۔ البتہ ایک ایسی کتاب کا ذکر ضرور کروں گا جو کامی کازی کے موضوع پر جاپانی زبان میں لکھی گئی اور جس کا انگریزی ترجمہ حال ہی میں (ستمبر 2020ء) میں جنگ عظیم دوم کی 75ویں سالگرہ پر شائع ہوا۔ کتاب کا نام ’کامی کازی کی یادیں‘ (Memoirs of Kami Kaze) ہے، اس کے مصنف کا نام کازو اوڈاچی (Kazuo Odachi) ہے، اس کی عمر 94برس ہو چکی ہے اور حافظہ غضب کا ہے۔ وہ ابھی تک زندہ ہے اور ٹوکیو  کے مضافات میں رہ رہا ہے۔

اس نے بعد از جنگ کئی عشروں تک یہ راز اپنے سینے میں چھپائے رکھا کہ وہ دوسری عالمی جنگ میں کامی کازی پائلٹ تھا۔ جنگ کے بعد وہ محکمہ پولیس میں آفیسر بھرتی ہو گیا اور خوب ترقی کی۔ اس نے اپنی بیوی کو بھی نہ بتایا کہ وہ جاپانی بحریہ میں بطور کامی کازی پائلٹ بھرتی ہوا تھا۔ جنگ کے بعد امریکی جنرل میکارتھر نے جاپان کا جو آئین مرتب کیا اس میں شہنشاہ کی حیثیت کو برقرار رکھا جبکہ ملک میں دفاعی افواج کی تشکیل کو ممنوع قرار دیا۔ اس آئین کو بعد میں مجہول (Passive) آئین قرار دیا گیا۔ لیکن جاپان نے سابقہ Active اور Agressive آئین کے ہاتھوں جو ایٹمی زخم کھائے تھے وہ بہت گہرے تھے۔ آج بھی جاپان کی مسلح افواج حفاظتِ خود اختیاری کے بل پر کھڑی کی گئی ’دفاعی افواج‘ ہیں جن کا کام جارحانہ ایکشن لینا نہیں بلکہ اس وقت حرکت میں آنا ہے جب ان پر حملہ کیا جائے۔جنگ کے بعد کامی کازی (خودکشی) کے لئے جن جاپانی نوجوانوں نے 1944ء میں رضاکارانہ حامی بھری تھی اور جس میں اتحادیوں کا بہت نقصان کیا تھا، وہ جاپانیوں کی بہت بڑی حماقت قرار دی گئیں اور بعد از جنگ، جاپانی معاشرے میں کامی کازی کو کلنک کا ٹیکہ سمجھا گیا…… یہی وجہ تھی کہ کازو اوڈاچی نے اپنا ماضی کئی عشروں تک پوشیدہ رکھا۔

لیکن آخر اس کا ضمیر جاگا اور اس نے ایک کتاب میں یہ اعتراف کیا کہ وہ 17برس کی عمر میں بطور کامی کازی پائلٹ بھرتی ہوا تھا۔ وہ کئی بار دشمن کے خلاف فضائی حملوں میں گیا لیکن ہر بار کسی نہ کسی وجہ سے ٹارگٹ پر پہنچنے سے پہلے اسے واپس آنا پڑا…… کامی کازی پائلٹوں کو حکم تھا کہ وہ دشمن کے بحری جہازوں سے ٹکرا کر ان کو غرقاب کر دیں یا دوسرے زمینی اہداف کے خلاف بھی ’مرنے مارنے‘ کے اس مشن کی تکمیل کریں۔ کامی کازی کا فلسفہ یہ تھا کہ اپنے وطن کی خاطر جان دینا، عینِ بہادری ہے۔ اپنے جہاز کو دشمن کے ہدف پر گرا کر تباہ کر دینا ایک ایسی قربانی ہے جس کا جواز اپنی انفرادی اور دشمن کی اجتماعی موت میں مضمر ہے۔ کامی کازی پائلٹ جب اپنے بموں سے بھرے ہوئے جہاز کو دشمن کے بحری جہاز سے ٹکراتا ہے تو اس کی اپنی ایک موت کے بدلے میں دشمن کی سینکڑوں اموات، فلسفہء کامی کازی کا جواز قرار دی گئی……

اسلام کا فلسفہء شہادت بھی فلسفہء کامی کازی کے نزدیک نزدیک چلا جاتا ہے۔ حضرت علیؓ کئی بار تن تنہا دشمن فوج کے انبوہ میں جا گھستے تھے اور درجنوں کو تہہ تیغ کرکے زندہ واپس آ جاتے تھے۔ یہی حال حضرت خالد بن ولیدؓ اور دوسرے کئی مجاہدینِِ اسلام کا تھا۔ مسلمان خدا کے نام پر شہادت کو گلے لگاتا ہے لیکن جاپانی، شہنشاہ کے نام پر (یا اپنے ملک کے نام پر) اگر یہی کام کرتا ہے تو اس کو خودکشی کہا جاتا ہے۔ جاپان کے علاوہ میدانِ کارزار میں، دوسری اقوام اور دوسرے ممالک کی افواج بھی جب اترتی میں تو ان کا فلسفہ ء قتال بھی یہی ہوتا ہے…… فرق یہ ہے کہ ہم مسلمان خدا کے نام پر شہید ہوتے ہیں اور غیر مسلم اپنے وطن کے نام پر (یا اپنی قوم/ بادشاہ کے نام پر)……

کوئی قاری اگر میری رہنمائی کرکے یہ بتا سکیں کہ شہادت اور کامی کازی میں، اس فرق کے علاوہ، کوئی اور فرق بھی ہے تو میں ان کا از بس ممنون ہوں گا!

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment