0

شعور کے فیصلے

چند دن پہلے اشرافیہ کے ایک فرد کے کیس کی سماعت کے دوران بنچ کے سربراہ جسٹس صاحب نے دعا کی اور کہا ”اے اللہ مجھے اپنے شعور کے ساتھ فیصلہ کرنے کی توفیق دے“۔یہ وہ دعا ہے جو ہر جج کو ہر فیصلہ لکھتے وقت کرنا چائیے۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ یہ دعا صرف اشرافیہ کے مقدمات کے لئے مخصوص ہے۔کیونکہ عوام پوری طرح محسوس کرنے لگے ہیں کہ ہمارے جمہوری معاشروں میں قانون اور انصاف اشرافیہ کی حمایت کے لئے ہی ہوتا ہے۔ غریب کیڑے مکوڑے سمجھے جاتے ہیں اور انکو قانون ہو یا انصاف،ذلت کے سوا کچھ نہیں دیتا۔سادہ دل اور اصولی لوگ ابتدائی مرحلوں میں رشوت اور برائیوں سے بچنے کے لئے چند ہزار خرچ کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ اور مدد کے لئے انصاف کو پکارتے ہیں، عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں مگر جب انصاف سے پالا پڑتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ عدالتوں سے انصاف کا حصول بہت مہنگا ہوتا ہے۔ گو رشوت حرام ہے مگر عدالتوں سے دھکے کھانے کے بعد آدمی سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ چند ہزار کا ابتدائی خرچہ عدالتی خرچوں اور عدالتی ذلتوں سے بہت بہترہوتا ہے۔

آجکل سوشل میڈیا پر ایک لطیفہ بہت عام ہے کہ پندرہ سال بعد مقدمہ جیتنے پر جج نے مدعی بزرگ کو مبارک باد دی۔ خوش ہو کر بزرگ نے جج کو دعا دی، ”اللہ تجھے ترقی دے اور تو تھانیدار بن جائے“۔جج بزرگ کی سادگی پر ہنسا اور اسے بتایا کہ جج تھانیدار سے بہت بڑا ہوتا ہے۔ بزرگ نے ماننے سے انکار کیا اور بضد تھا کہ تھانیدار بڑا ہوتا ہے۔تنگ آ کر جج نے پوچھا بھائی وہ کیسے۔ تو بزرگ کا جواب تھا، ”جناب آپ کو کیس ختم کرنے میں پندرہ سال لگے میرا خرچہ بھی بہت زیادہ ہوا، جب کہ تھانیدار نے شروع ہی میں کہا تھا کہ فقط پانچ ہزار دے دو، ابھی تمہارے حق میں فیصلہ لکھ دوں گا“۔ حقیقت میں یہ لطیفہ نہیں، اگر ارباب اختیار محسوس کریں تو یہ ہمارے نظام کے منہ پر ایک چانٹے سے کم نہیں۔ مگر آج وہ قدریں نہیں، وہ شرم نہیں، زمانے کی آنکھ میں حیا باقی نہیں۔جب حالات ایسے بد تر ہو جائیں، گھٹن حد سے بڑھ جائے، بات کرتے ڈر لگے، قانون بات کے مفہوم کو سمجھنے اور اصلاح کرنے کی بجائے آپ کا گلا گھونٹنے پر مائل ہو تو ایسے لطیفوں کاجنم لینا بڑا فطری ہے۔

میں صحافی تو نہیں ایک استاد ہوں شوقیہ لکھتا ہوں اور لکھنے کے لئے بہت کھوج کرنا ہوتی ہے، اسی کھوج میں چند سال پہلے مجھے ہائی کورٹ اور لوئر کورٹ میں کام کرنے والے صحافیوں کے ساتھ پھر کر وہاں کے حالات کا جائزہ لینا پڑا۔ عدالتوں کی صورت حال باوجود بہت سی اصلاحات کے ابھی تک بہت اچھی نہیں۔ چھوٹی عدالتوں کے بہت کم جج اس شعور سے،جس کے لئے سپریم کورٹ کے جج صاحب نے رب سے دعا کی تھی، واقف ہیں۔ وہ اندازے سے فیصلے لکھتے ہیں۔ لوئر کورٹس میں بہت سے ایسے بھی جج ہیں جنہیں پتہ ہی نہیں کیا فیصلہ لکھنا ہے۔ ان کے ریڈر سے بات کریں کہ یہ فیصلہ چائیے۔ بات طے ہو جائے تو اگلی تایخ پر وہ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہوگا۔اس وقت میں یہ بھی دیکھتا رہا کہ جج صاحب بیٹھے ہیں اور ریڈر ہاتھ نیچے کرکے کھلے عام پیسے لے رہا ہے۔یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ بات جج کی مرضی یا علم کے بغیر ہو۔ اور اگر جج کو علم نہیں، تو ایسے اندھے انصاف سے بھلائی کی امید کیسے ہو سکتی ہے۔وکلا بہت سے جونیئر ججوں سے کھلے عام بد تمیزی سے پیش آتے دیکھے۔ کچھ وکلا کا بھی قصور ہو گا۔اصل وجہ پر غور کریں تو سمجھ آتا ہے وہ جج جن سے ایسا سلوک ہوتا ہے، قانوں کم جانتے ہیں اور ان کا شعور، ماشا اللہ۔۔کچھ نہ کہیں، افسوس ہوتا ہے۔

خیر چھوٹی عدالتوں کی تو بات ہی الگ ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان اور وکلا بھی ان کے بارے بہت کچھ کہتے ہیں۔ اور ا ن عدالتوں کی بہتری کے لئے ہمہ وقت کوششیں جاری ہیں۔ مگر جج صاحب بغیرمعذرت کے اور لگی لپٹی رکھے بغیر صرف اتنا کہوں گا کہ اعلیٰ عدالتیں جہاں بہت اچھے،مستند اور نیک نام لوگ بحیثیت جج کام کر رہے ہیں ان میں بھی کچھ کے بارے زیادہ نہیں مگر لوگ دبے دبے کچھ باتیں ضرور کرتے ہیں۔ جج صاحب توہین عدالت کا قانون سچ کے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ غلط فیصلے کرنے والے جج جتنے مرضی عالی شان جج ہوں جب و ہ ریٹائر ہوتے ہیں تو ان کے بھینگے اور کانے فیصلے زبان زد عام ہوتے ہیں۔ عدالتوں میں بہت سے ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو کیس لڑنے میں پروفیشنل حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ انہیں اپنی مرضی کا فیصلہ حاصل کرنے کا فن آتا ہے۔ پیسہ ان کے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ کس جج سے ایسا فیصلہ لینے کے لئے کونسا وکیل کارآمد ہو گا، مجھے تو یہ کبھی سمجھ نہیں آیا مگر یہ ہوتا ہے۔میں نے عدالت میں ایک سینئر سیاسی وکیل کی آمد پر ایک جج صاحب کو،کسی دوسرے کیس کی سماعت کے دوران، بڑے خوش گوار موڈ میں خوش آمدید کہتے دیکھا۔اس کے بعد عدالت میں موجود ہر شخص جو اپنے کیس کی طوالت سے پریشان تھا، اس وکیل سے رجوع کرنے کی سوچ رہا تھا۔ میں سمجھتا ہوں اگر کوئی توہین عدالت نام کی شے ہے تو جج صاحب اس کے اس وقت خود مرتکب ہو رہے تھے۔

میں نے یہ بھی دیکھا کہ ایک سیاسی قبضہ مافیا ایک بڑے جج صاحب کے قابو آ چکا تھا۔اپنی بے پناہ خامیوں کے سبب وہ لوگ انتہائی پریشان تھے اور کسی ایسے ہی وکیل کی تلاش میں تھے جو ان کوجج صاحب کے قہر سے انہیں محفوظ رکھ سکے۔ دو دن بعد ان کا مسئلہ حل ہو گیا وہ ایسا وکیل ڈھونڈھنے میں کامیاب ہو گئے۔ نئے وکیل کے عدالت میں پیش ہوتے ہی سب زلزلہ تھم گیا اور وہ سارے اقدامات جو ان کے خلاف لئے جا رہے تھے، ختم ہو گئے۔ جج صاحب بڑے نیک نام تھے مگر کیسے ہوا اور کیوں ہوا یہ سوچنا تو میرا حق ہے۔خیر بہت سی باتیں ہیں مگر ایک آخری بات کہوں گا کہ ہر شخص قابل عزت ہوتا ہے اور اپنے شعبے میں شاید انتہائی نامور اور باوقار ہو۔ اعلیٰ عدالتوں کا عملہ جج صاحب اور وکلا حضرات کے سواکسی کا احترام کرنا جانتا ہی نہیں۔ عدالت کے اندرجج اور نوجوان وکلا کا رویہ بھی دوسروں کے ساتھ کچھ اچھا نہیں ہوتا۔ سابق چیف جسٹس نے ایک انتہائی بزرگ اور نیک نام صحافی کے ساتھ جو رویہ اپنایا اس سے یقیناً عدلیہ کے وقار کو دھچکا پہنچا اور عدلیہ کی نیک نامی پر حرف آیا۔ میرے خیال میں انسانوں کا احترام کرنا بھی عدالتی اخلاقیات کا حصہ بنانا بہت ضروری ہے۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں