Home » شاہ محمود قریشیموٹر سائیکل کی سواری سیاست سب پر بھاری

شاہ محمود قریشیموٹر سائیکل کی سواری سیاست سب پر بھاری

by ONENEWS

شاہ محمود قریشی،موٹر سائیکل کی سواری، سیاست سب پر بھاری

سیاست میں عوام کو مطمئن کرنے کے لئے نت نئے ڈرامے کرنا پڑتے ہیں اس لئے بسا اوقات سیاستدانوں پر ڈرامہ آرٹسٹوں کا بھی گمان ہوتا ہے۔ جس طرح ٹک ٹاک سٹار ہر روز یہ سوچتے ہیں کہ کیا نیا بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالنا ہے، اسی طرح سیاستدانوں کی زندگی بھی یہی سوچتے گزر جاتی ہے کہ اپنے حلقے کے عوام کو کیا ڈرامہ دکھا کر راضی رکھنا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے ایک روز پہلے اسی طرح کی ٹک ٹاک ویڈیو بنوائی اور سوشل میڈیا پر ڈال دی۔ وہ ایک موٹر سائیکل والے کے پیچھے بیٹھے تھے اور ملتان شہر کی تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے اگلی موٹر سائیکل پر بیٹھا ہوا شخص ان کی ویڈیو بنا رہا تھا۔ مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مخدوم صاحب کی موٹر سائیکل گندگی کے ڈھیروں، گندے پانی  کے جوہڑوں اور راستے میں پڑی ہوئی رکاوٹوں کو عبور کرتی گزرتی رہی کسی جگہ بھی شاہ محمود قریشی نے رک کر یہ معلوم کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ یہ ناقص صفائی کا عالم کب سے ہے اور کارپوریشن والے یہاں کیوں نہیں آتے؟ چونکہ ویڈیو بنوانے کا مقصد یہ تھا ہی نہیں اس لئے مخدوم صاحب کسی جگہ بھی رکے بغیر یہ ”طوفانی“ دورہ کر کے اپنے عالیشان گھر پہنچ گئے۔ اب اگر کوئی یہ سوال کرتا ہے کہ شاہ محمود قریشی کو موٹر سائیکل پر یہ دورہ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ تو وہ سیاسی ضرورتوں اور ڈراموں سے نابلد ہے۔ انگریزی کے ایک محاورے کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ”مصروف نظر آؤ چاہے کرو کچھ بھی ناں ……“ یہ محاورہ ہمارے سیاستدانوں پر صادق آتا ہے۔ دیکھو تو وہ ہر وقت عوام کی خدمت میں مشغول نظر آئیں گے، کوئی نتیجہ مانگو تو ٹھینگا دکھا دیں گے۔ شاہ محمود قریشی ایک سب سے اہم وزارت لئے بیٹھے ہیں، دوسرا ان کے پاس پارٹی کے وائس چیئرمین کا عہدہ بھی ہے۔ ان کے ہوتے ہوئے تو ملتان میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھ جانا چاہئے تھا، لیکن حالت یہ ہے کہ خود ان کے اپنے حلقے کی حالت ناگفتہ بہ ہے، جو اس ویڈیو میں دیکھی جا سکتی ہے اور جو مخدوم صاحب کی موٹر سائیکل پر ماڈلنگ پر مشتمل ہے،  جسے انہوں نے بڑے ذوق و شوق سے بنوایا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ مخدوم صاحب اتنی بڑی وزارت اور پارٹی عہدہ  رکھنے کے باوجود صرف اپنے حلقے تک کیوں محدود ہو گئے آخر انہیں کیا خوف ہے کہ وہ حلقے پر ساری توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں؟ جہاں تحریک انصاف کے حلقوں میں یہ بات عام ہو کہ شاہ محمود قریشی کسی ایسے پارٹی کارکن کو کوئی عہدہ نہیں دیتے جو ان کے بیٹے زین قریشی ایم این اے اور خود ان کے حلقے سے تعلق نہ رکھنا ہو۔ ملتان میں جتنے بھی پارٹی یا حکومتی عہدے تقسیم کئے گئے ہیں، ان میں سے اکثریت کا تعلق شاہ محمود قریشی کے حلقہ انتخاب سے ہے۔ شاہ محمود قریشی کا بس نہیں چلتا وگرنہ شاید وہ اپنے حلقے کے ہر گھر میں ایک عہدہ بانٹ دیتے۔ آخر یہ کیا خوف ہے  جو شاہ محمود قریشی کو کبھی موٹر سائیکل پر دورہ کراتا ہے اور کبھی اسی حلقے سے تعلق رکھنے والے کسی قریبی متوالے کو عہدہ دینے پر مجبور کرتا ہے؟ اس کا جواب سبھی کو معلوم ہے  کہ مخدوم شاہ محمود قریشی صوبائی حلقے سے اپنی شکست کو نہیں بھولے۔ یہ شکست انہیں ایک ڈراؤنا خواب لگتی ہے وہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں سیاست کا کچھ پتہ نہیں ہوتا، کیا پتہ نئے انتخابات کا نقارہ بج جائے اور انہیں پھر عوام کے پاس جانا پڑے اس لئے اپنے حلقے میں کلہ مضبوط رکھنے کی ضرورت ہے مگر جس انداز سے مخدوم صاحب یہ کلہ مضبوط رکھنا چاہتے ہیں وہ شاید دقیانوسی ہے۔ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر حلقے کے لوگوں کو دیدار عام کرانے کا کوئی فائدہ نہیں اسے اہمیت تو سندھ سے عرس پر آنے والے زائرین ہی دے سکتے ہیں، ان کے ووٹرز تو اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں، جس کی طرف شاہ جی توجہ دینے کو تیار نہیں۔

دوسری طرف انہیں صوبائی نشست پر شکست دینے والا نوجوان سلمان نعیم ہمہ وقت حلقے میں موجود ہے۔ کورونا کے ابتدائی دنوں میں جب پورے ملک میں لاک ڈاؤن ہوا تو اس نوجوان نے راشن کے ہزاروں تھیلے بنوا کر حلقے کے عوام میں تقسیم کئے، مالی امداد کی اور انہیں احساس دلایا کہ وہ ہر وقت ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ شاہ صاحب نے کسی ایک گھر میں بھی امداد نہیں پہنچائی۔ سلمان نعیم کا اب بھی حلقے کے عوام سے رابطہ مضبوط ہے، وہ ہر وقت لوگوں کو دستیاب ہے، اب اس کا توڑ کرنے کے لئے شاہ محمود قریشی اگر سمجھتے ہیں کہ موٹر سائیکل پر ہوا کے جھونکے کی طرح تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے وہ عوام کی توجہ حاصل کرلیں گے تو یہ شاید ممکن نہ ہو، کیونکہ عوام اب خاصے باشعور ہو چکے ہیں اور ایسی شعبدہ بازی سے متاثر ہونے والے نہیں۔ اس اپنے نوجوان حریف کی وجہ سے شاہ محمود قریشی پورے ضلع بلکہ ڈویژن کے عہدے اپنے حلقے سے تعلق رکھنے والے پارٹی کارکنوں میں بانٹ رہے ہیں تاکہ الیکشن ہوں تو ہر گھر سے ان کے لئے ”بھٹو“ نکلے مگر وہ یہ نہیں سوچ رہے کہ جن لوگوں میں حقیقی کارکنوں کا حق مار کے عہدے بانٹ رہے ہیں، ن کی شہرت ہی بری ہے، مثلاً حال ہی میں انہوں نے رانا عبدالجبار کو  ایم ڈی اے کا دوبارہ چیئرمین بنوایا ہے، حالانکہ چند ماہ پہلے ان پر مبینہ کرپشن کا الزام لگا کر جس کی نشاندہی سپیشل برانچ نے کی تھی، اس پوسٹ سے برطرف کر دیا گیا تھا۔یہ رانا عبدالجبار وہی ہیں جنہوں نے صوبائی حلقے کی سیٹ شاہ محمود قریشی کے لئے چھوڑ دی تھی اور الیکشن نہیں لڑا تھا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ شاہ محمود قریشی اس وقت ملتان کے بے تاج بادشاہ بنے ہوئے ہیں، غالباً ایک مفاہمت کے تحت وزیر اعظم عمران خان نے شاہ جی کو ملتان کے معاملات سونپ رکھے ہیں، جن میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی مداخلت نہیں کرتے۔ ملتان کی انتظامیہ بھی شاہ محمود قریشی کو جوابدہ ہے اور کام بھی صرف ان کے گروپ سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی کے ہی ہوتے ہیں۔ ایک ایسی سیاسی جماعت، جس نے عام انتخابات میں ملتان سے کلین سویپ کیا تھا، مخدوم صاحب کے حلقہ انتخاب تک سکڑ کر رہ گئی ہے، جس طرح شاہ محمود قریشی کو پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ نہیں ملی تھی تو وہ ملتان کی حکمرانی تک محدود ہو گئے تھے، اب وہ مزید سکڑ کر اپنے حلقہ انتخاب کو اپنا تخت و تاج سمجھ بیٹھے ہیں۔ پارٹی کے اتنے اہم رہنما کو پورے ملتان پر نظر رکھنی چاہئے، مگر انہیں شاذ و نادر ہی شہر کے کسی اور حلقے میں دیکھا گیا ہو۔ چونکہ ان کا حلقہ اندرون شہر کی تنگ و تاریک گلیوں پر مشتمل ہے، اس لئے وہ کبھی کبھار اپنی پراڈو سے موٹر سائیکل پر آ جاتے ہیں۔ اس کے دو فائدے ہیں، ایک تو یہ تاثر ابھرتا ہے کہ عوامی لیڈر ہیں اور دوسرا وزیر خارجہ ہونے کے باوجود عوام کی خاطر گلیوں میں مرزا یار کی طرح پھر رہے ہیں۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment